Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

Uncategorized

الفاخوری کی گرفتاری عباس ملیشیا کی پیشانی پر بدنما داغ ہے: فلسطین پریس کلب

palestine_foundation_pakistan_hazem-al-fakhouri-the-husband-of-noted-writer-lama-khater

مغربی کنارے میں عباس ملیشیا کے انٹیلی جنس حکام کی طرف سے معروف فلسطینی تجزیہ نگار حازم خضر الفاخوری اور صحافی و مصنفہ لما خاطر کے شوہر کی تفتیشی مرکز میں طلبی پر ردعمل میں فلسطین پریس کلب نے عباس ملیشیا کے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار رائے پر قدغنیں لگانے کی سازش قرار دیا۔ ادھر گرفتار فلسطینی صحافی الفاخوری کے اہلیہ لما خاطر نے کہا کہ عباس ملیشیا کے اقدامات کا مقصد فلسطین کی سیاسی،سماجی اور امن وامان کی صورت حال سے متعلق مضامین کی اشاعت روکنا اور ان پردباؤ بڑھانا ہے۔ فلسطینی پریس کلب کی جانب سے اتوار کے روز جاری ایک بیان میں لما خاطر اور ان کے خاندان کے ساتھ مکمل طور پر یکجہتی کا اعلان کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی صحافی برادری محمود عباس کے زیر کمانڈ انٹیلی جنس حکام اور سیکیورٹی اہلکاروں کے منفی کردار اور ان کے ہاتھوں فلسطینی صحافیوں پر ہونے والے حملوں کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ عباس ملیشیا کے اقدامات غیرقانونی ہیں جن کا کوئی جواز نہیں، فلسطینی صحافی صہیونی مظالم کے خلاف جنگ میں “فرنٹ لائن ” کا کردار ادا کر رہے ہیں . ایسے میں صحافیوں کی گرفتاریاں اور ان پرتشدد اسرائیلی جارحیت میں اس کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔ فلسطینی پریس کلب نے فلسطینی اتھارٹی،انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور میڈیا کی عالمی تنظیموں کی توجہ عباس ملیشیا کے اقدامات کی طرف مبذول کراتے ہوئے فلسطین میں آزادی صحافت کے لیے ٹھوس کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ دوسری جانب گرفتار صحافی کی اہلیہ لما خاطر نے کہا ہے وہ کسی دباؤ میں آئے بغیر مکمل آزادی کے ساتھ اپنے خیالات کے اظہار کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان حد فیصل صرف “قانون” ہے۔ اگر فلسطینی اتھارٹی آزادی اظہار کی کوئی حدود متعین کرنا چاہتی ہے تو وہ آئینی ادارے کے ذریعے یہ کام کرے نہ سیکیورٹی اداروں کے ذریعے پرتشدد راستے اختیار کرے۔ ادھر فلسطینی مجلس قانون ساز نے بھی عباس ملیشیا کے ہاتھوں مغربی کنارے میں معروف صحافی خضر الفاخوری کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔ مجلس قانون ساز کی جانب سے جاری ایک بیان میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ محمود عباس کے زیر کمانڈ سیکیورٹی فورسز کی طرف سے صحافیوں پر ہونے والے تشدد کا سخت نوٹس لیتے ہوئےواضح موقف اختیار کریں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan