مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر البیرہ میں واقع الامعری کیمپ پر قابض اسرائیل کی فورسز نے یلغار کی، جس دوران فائرنگ سے ایک فلسطینی شہری شدید زخمی ہو گیا۔ دوسری جانب نابلس کے متعدد دیہات میں یہودی آباد کاروں کی طرف سے راستے بند کرنے اور پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔
فلسطینی وزارت صحت نے اطلاع دی کہ قابض فورسز کی گولیوں سے پیٹ پر شدید زخم کھانے والے ایک شہری کو رام اللہ شہر میں واقع فلسطین میڈیکل کمپلیکس پہنچایا گیا جہاں اس کی حالت انتہائی نازک بتائی جا رہی ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع بلدہ كفر عقب میں بھی منگل کی شام قابض فورسز کے داخل ہونے کے بعد فلسطینی نوجوانوں اور قابض فوج کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ نوجوانوں نے قابض فورسز کی یورش پر بھرپور مزاحمت کی جس کے جواب میں غاصب فوجیوں نے آنسو گیس کے گولے برسائے۔
ادھر یہودی آباد کاروں نے مسلسل دوسرے روز بھی نابلس کے شمال مغرب میں واقع گاؤں بیت اُمرین کی ذیلی سڑکیں پتھروں اور رکاوٹیں کھڑی کر کے بند رکھی ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں کو اپنے گھروں اور زرعی اراضی تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ آباد کاروں نے کئی ایسی ذیلی سڑکیں بھی بلاک کر دیں جو براہ راست شہریوں کے گھروں اور زرعی زمینوں کو جاتی ہیں اور یہ تمام علاقے الف زمرے میں آتے ہیں۔ ان بندشوں کی وجہ سے متعدد خاندان محصور ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ کسانوں کی اپنی زمینوں تک رسائی ناپید ہو چکی ہے، اور یہ سب کچھ مقبوضہ علاقے کے مکینوں اور ان کی املاک پر مسلسل حملوں کے ساتھ جاری ہے۔
یہ کارروائیاں اس مسلسل آبادکارانہ اشتعال انگیزی کا حصہ ہیں جو علاقے میں جاری ہے، جس میں گذشتہ عرصے کے دوران بیت اُمرین اور جبَع کے دیہات کے درمیان ایک نئی غیر قانونی یہودی بستی قائم کرنے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔ رواں ماہ کی نو تاریخ کو فجر کے وقت یہودی آباد کاروں نے اس گاؤں پر دھاوا بولا تھا، جس کے دوران انہوں نے مقامی شہری منیر شاکر حاج سلیمان کا زرعی ٹریکٹر چرالیا، جبکہ اس سے قبل بھی زیتون کے درخت اکھاڑنے جیسے کئی سفاکانہ حملے کیے جا چکے ہیں۔
اسی طرح کی پیش رفت نابلس گورنری کے دیگر علاقوں میں بھی دیکھی گئی جہاں منگل کے روز یہودی آباد کاروں نے بلدہ بورین میں صوفان خاندان کے گھر جانے والا راستہ مٹی کے تودے ڈال کر بند کر دیا اور گھر کو بجلی فراہم کرنے والے کھمبے بھی کاٹ دیے۔ بلدہ قصرہ اور عقربہ کو بھی ایسے ہی حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ راستوں کی بندش، املاک کی توڑ پھوڑ اور فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں لگانے کے ہتھکنڈے اب روز کا معمول بن چکے ہیں۔ یہ حملے اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ سڑکوں کی بندش، چوری اور تخریب کاری کو خاص طور پر یہودی بستیوں کے قریب رہنے والے فلسطینیوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنی زمینیں اور ذرائع معاش چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔
دیوار اور بستی مخالف کمیشن نے انکشاف کیا ہے کہ قابض اسرائیلی فورسز اور یہودی آباد کاروں نے گذشتہ ماہ جولائی کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے میں کل 2256 حملے کیے۔ کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق اس مدت کے دوران یہودی آباد کاروں کی طرف سے 798 حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں مسلح ملیشیاؤں کی فائرنگ سے رام اللہ اور نابلس میں 7 فلسطینی شہید ہو گئے، جبکہ املاک کی تخریب کاری اور زمینوں کو روندنے کے 440 عملی اقدامات کیے گئے۔ کمیشن نے سنہ 2026ء کے پہلے نصف میں مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض فورسز اور آباد کاروں کی طرف سے مجموعی طور پر 11074 حملے ریکارڈ کیے ہیں جو اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ فلسطینیوں، ان کی املاک اور اراضی کے خلاف جارحیت کے دائرہ کار میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
