مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کی انسانی حقوق کی تنظیم ’عیر عمیم‘ نے انکشاف کیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں ضلعی کمیٹی برائے تنظیم و تعمیرات نے ایک ایسے منصوبے کی منظوری دے دی ہے جو فلسطینی علاقے ام لیسون کے قلب میں تقریباً 450 یہودی آباد کار یونٹس کی تعمیر کی راہ ہموار کرے گا۔
’ٹوپوڈیا‘ نامی کمپنی نے یہ منصوبہ پہلی بار سنہ 2022ء میں پیش کیا تھا مگر یہ دو سال سے زائد عرصے تک تعطل کا شکار رہا کیونکہ ضلعی کمیٹی نے اس منصوبے کی حتمی منظوری سے قبل منصوبے کے مقام تک جانے والے راستے کو وسیع کرنے کی شرط عائد کی تھی۔
کمپنی اس شرط کو پورا کرنے سے قاصر رہی کیونکہ اسے ان عوامی راستوں کو وسیع کرنے کے منصوبے پیش کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں تھا جو اس کی ملکیت میں نہیں آتے تھے۔
’عیر عمیم‘ نے جاری کردہ اپنے بیان میں واضح کیا کہ یہ رکاوٹ تب دور ہوئی جب قابض بلدیہ مقبوضہ بیت المقدس نے خود کو اس منصوبے کے پیش کنندہ کے طور پر شامل کر لیا۔ اس اقدام سے راستے کی توسیع کے منصوبے کو مرکزی منصوبے میں شامل کرنے کا راستہ صاف ہوا اور اس کے اندراج کی کارروائی میں حائل آخری رکاوٹیں ختم ہو گئیں۔
ام لیسون کا علاقہ جبل المکبر اور صور باہر نامی قصبوں کے درمیان واقع ہے اور فی الحال اس میں تقریباً 800 رہائشی یونٹس موجود ہیں جن میں سے اکثر دو یا تین منزلہ عمارتیں ہیں۔ اس کے برعکس نیا منصوبہ دس منزلہ عمارتوں میں مزید 450 رہائشی یونٹس کے اضافے کا مطالبہ کرتا ہے جو اس علاقے کے شہری کردار اور آبادیاتی ساخت کو مکمل طور پر تبدیل کر دے گا۔
تنظیم نے نشاندہی کی کہ ’ٹوپوڈیا‘ کمپنی آسٹریلیا میں رجسٹرڈ ایک کمپنی کے کنٹرول میں ہے اور اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں آسٹریلوی کاروباری شخصیت کیون بورمايستر، دائیں بازو کے کارکن ایہود راغونیس اور یہودی آباد کاروں کی تنظیم ’العاد‘ کا سابق ترجمان شامل ہے۔
بورمايستر اور راغونیس دونوں ہی بیت المقدس میں دیگر یہودی بستیوں کے منصوبوں کو فروغ دینے میں بھی حصہ لیتے ہیں جن میں جبل المکبر کے اندر قائم ’نوف تسیون‘ یہودی بستی بھی شامل ہے۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس نے یہ زمین ان یہودی ورثاء سے خریدی ہے جنہوں نے اسے سنہ 1930ء کی دہائی میں خریدا تھا اور وہ اس منصوبے کو جواز فراہم کرنے کے لیے انہی دعووں کا سہارا لے رہی ہے۔
’عیر عمیم‘ نے نشاندہی کی کہ یہ منصوبہ اپنے حجم کے اعتبار سے بے مثال ہے کیونکہ اس وقت مشرقی بیت المقدس کے کسی فلسطینی علاقے کے اندر قائم سب سے بڑی یہودی بستی راس العمود میں واقع ’معالیہ ہزیتیم‘ ہے جس میں تقریباً 120 رہائشی یونٹس موجود ہیں۔
توقع ہے کہ ام لیسون میں اس نئے منصوبے میں 450 رہائشی یونٹس ہوں گے جو ایک قائم فلسطینی علاقے کے قلب میں تقریباً دو ہزار یہودی آباد کاروں کو جگہ دیں گے۔
تنظیم نے اس بات پر زور دیا کہ قابض بلدیہ کا اس منصوبے میں ملوث ہونا محض ایک منصوبہ بندی کا فیصلہ نہیں بلکہ یہ ایک واضح سیاسی انتخاب کی عکاسی کرتا ہے۔
تنظیم نے مزید کہا کہ قابض بلدیہ نے ایک ایسے منصوبے سے گریز کرنے کے بجائے جو علاقے میں تصادم کو بڑھا سکتا ہے اور اس کے استحکام کو نقصان پہنچا سکتا ہے، مشرقی بیت المقدس میں حالیہ برسوں کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ اثر انگیز یہودی آبادکاری کے منصوبوں کو آگے بڑھانے میں براہِ راست کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
