Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

Uncategorized

اسرائیل نے ہمارے مطالبات نہ مانے تو مزید صہیونی فوجی پکڑیں گے: مشعل

palestine_foundation_pakistan_khaled-mishaal-the-political-bureau-chairman-of-hamas58

اسلامی تحریک مزاحمت .حماس. کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے کہا ہے کہ غزہ کی معاشی ناکہ بندی اپنے آخری وقت میں داخل ہو چکی ہے، معاشی ناکہ بندی کے معاملے کو فلسطینی جماعتوں کے درمیان مفاہمت کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہونے دی جائیں گی. اردن کے ایک کثیرالاشاعتی قومی روزنامہ”السبیل” کو انٹرویو میں خالد مشعل نے کہا کہ مغربی کنارے میں محمود عباس کی سربراہی میں قائم فتح اتھارٹی کے معاشی محاصرہ ختم کرنے کے موقف میں سنجیدگی نہیں اور غزہ کے محاصرے کو فلسطینی سیاسی جماعتوں کے درمیان مصالحت سے جوڑنا ناکہ بندی توڑنے کے لیے کی جانے والی کوششوں سے توجہ ہٹانا ہے.
خالد مشعل نے کہا کہ بعض عرب ممالک اور کچھ فلسطینی لیڈرشپ کی کوشش ہے کہ ناکہ بندی کے خاتمے کا کریڈٹ حماس کو نہ جائے. ایسی لیڈرشپ اسرائیل کے ساتھ مل کر شہر کی معاشی ناکہ بندی کو طول دے رہی ہے.

ذیل میں خالد مشعل کی گفتگو کا تفصیلی احوال پیش کیا جا رہا ہے..

آپ کیا سمجھتے ہیں کہ غزہ کی معاشی ناکہ بندی کے گنے چنے دن رہ گئے ہیں؟ اور معاشی ناکہ بندی کو ختم کرنے سے متعلق فلسطین کی سطح پر ہونے والی کوششیں کافی ہیں؟.
خالد مشعل….یہ بات میں پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ غزہ کی معاشی ناکہ بندی اب اپنے آخری دور میں داخل ہو چکی ہے، تاہم ناکہ بندی کو کم کرنے جیسی باتیں کر کے بعض اطراف سے اسے طول دینے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے تاہم وہ وقت دور نہیں جب غزہ کے عوام معاشی حصار سے باہر نکل آئیں گے.
معاشی ناکہ بندی اپنے تئیں ایک اخلاقی جرم ہے اور اس جرم کا جلد از جلد خاتمہ ہو جانا چاہیے ، اسرائیل نے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے معاشی محاصرے کا راستہ اختیار کیا تاہم قابض صہیونی حکومت اپنے مقاصد و اہداف کے حصول میں بری طرح ناکام رہا ہے.
اسرائیل کا خیال تھا کہ وہ شہر کی معاشی ناکہ بندی کے ذریعے اور اس کے باسیوں کو بھوک اور افلاس کے سمندر میں دھکیل کر حماس کو بلیک میل کر لے گا، اب یہ بات صرف اسرائیل پر ہی واضح نہیں ہو گئی بلکہ ان تمام قوتوں پر عیاں ہو چکی ہے کہ عوام پر بھوک مسلط کر کے نہ تو حماس کو بلیک میل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی عوام کی حماس سے ہمدردیوں کو نفرت میں بدلنے کی سازش کامیاب ہو سکتی ہے.
اس میں دو رائے نہیں کہ غزہ کی معاشی ناکہ بندی اس کے مکینوں کے لیے ایک بڑا تکلیف دہ مرحلہ ہے، فریڈم فلوٹیلا کے ذریعے ناکہ بندی کو توڑنے کی جو کوشش کی گئی ہے، اس کے بارے میں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اسرائیل کی طرف سے امدادی بیڑوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اب محاصرہ زدہ شہر کی طرف امدادی قافلے لے کر نکلنا بے سود ہے، حالانکہ ایسا ہرگز نہیں، امدادی سرگرمیوں کا سلسلہ اب بھی بدستورجاری ہے اور ہم سمندری راستے اور دیگر خشکی کے راستوں سے مزید امدادی قافلے لے کرغزہ کی طرف روانہ ہوں گے. اس حوالے سے اسلامی ممالک، عرب دنیا اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر کوششیں کر رہے ہیں.

موجودہ حالات میں غزہ کی معاشی ناکہ بندی اٹھانے سے متعلق عرب دنیا،اسلامی ممالک اور عالمی برادری کے کردار کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں، کیا محاصرہ مخالف عالمی کوششوں سے آپ مطمئن ہیں؟.
خالد مشعل:… جہاں تک غزہ کی معاشی ناکہ بندی اٹھانے سے متعلق فلسطینی اتھارٹی کا کردار ہے تو اس پر نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اس معاملے میں نہ صرف غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے بلکہ فریڈیم فلوٹیلا پرصیہونی فوج کشی پر عالمی سطح پراسرائیل کے خلاف اٹھنے والی غم وغصے کی لہر کو ٹھنڈا کرنے کی بھی کوشش کر رہی ہے.
فلسطینی اتھارٹی حقیقی معنوں میں ناکہ بندی اٹھانے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے،ناکہ بندی کو فلسطینی جماعتوں کے درمیان مصالحت سے مشروط قرار دینا بھی ایک ایسی ہی رکاوٹ ہے.ایک ایسے وقت میں جبکہ عالمی سطح پر ناکہ بندی اٹھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں مصالحت کو اس ساتھ جوڑنا ان عالمی کوششوں سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے، یہ ایک ایسا کھیل ہے جسے کسی صورت میں بھی پسندیدہ قرار نہیں دیا جا سکتا.کیونکہ معاشی ناکہ بندی ختم کرنے کے اپنے اہداف اور مقاصد ہیں اور مفاہمت یا مصالحت کے الگ مقاصد اور اہداف ہیں، ان دونوں معاملات کو ان کے اپنے متوازی خطوط پر ہی چلنا ہے، انہیں ایک دوسرے کے ساتھ الجھانے کی ضرورت نہیں.

عرب لیگ نے طویل عرصے تک غزہ کی معاشی ناکہ بندی کے سلسلہ میں خاموشی اختیار کیے رکھی حالانکہ عرب ممالک کی طرف سے غزہ کی معاشی ناکہ بندی اٹھانے سے متعلق کئی قراردادیں بھی پاس کی گئی تھیں.پھر اس قدر تاخیر کے ساتھ عرب لیگ کے جنرل سیکرٹری عمروموسیٰ کی آمد کا کیا سبب بنا؟
خالد مشعل:…. عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل عمرو موسیٰ کی غزہ آمد گوکہ تاخیر کے ساتھ ہوئی تاہم مثبت تھی، میرے خیال میں اصل معاملہ بعض عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان حماس کے خلاف وہ ہم آہنگی ہے جس کے تحت معاشی ناکہ بندی کو حماس کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے. اس میں بعض عرب ممالک کے ساتھ ساتھ فلسطینی اتھارٹی بھی شریک ہے، وہ نہ صرف معاشی ناکہ بندی کو حماس کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے بلکہ ان کی کوشش ہے کہ غزہ کی معاشی ناکہ بندی کے خاتمے کا کریڈٹ حماس کو نہ جائے، یوں وہ معاشی محاصرے کو ایک “سیاسی کارڈ “کے طور پر استعمال میں لانا چاہتے ہیں.

معاشی ناکہ بندی کے خاتمے سے متعلق ترکی کا واضح اور دو ٹوک موقف رہا ہے، آپ کے خیال میں اس نوعیت کی کوششیں اور تحریک کہیں اور بھی موجود ہے؟
خالد مشعل :….غزہ کی معاشی ناکہ بندی کے حوالے سے ترکی نے نہایت ہی قابل تحسین کردار ادا کیا، ترک عوام نے ایک جانب اسرائیلی جارحیت کا بھرپور مقابلہ اور دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے امدادی جہاز تیار کیے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے نو شہریوں کا خون بھی پیش کیا، ترکی کے وزیراعظم رجب طیب ایردوان کے یہ الفاظ تاریخ میں سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں کہ “اگر پوری دنیا نے غزہ کے مسائل سے منہ موڑ لیا ہے تو کیا ہوا ترکی نے تو اہل غزہ سے پیٹھ نہیں پھیری”
اس وقت ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات غزہ کی پٹی سے معاشی ناکہ بندی اٹھانے سےمشروط ہو چکے ہیں، بالخصوص فریڈم فلوٹیلا پر صہیونی جارحیت اور نو ترک رضاکاروں کی شہادت کے بعد ایک تاریخی اور ناقابل فراموش طرز عمل اختیار کیا ہے. ترکی عالم اسلام بالخصوص خطے کے ممالک کے ایک لیڈر کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے.
اس کے ساتھ ساتھ عرب ممالک اور یورپ میں بھی غزہ کی معاشی ناکہ بندی کو اٹھانے کے حوالے سے کوششیں جاری ہیں، حال ہی میں حماس کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے یورپ اور عرب ممالک کا تفصیلی اور طویل دورہ کیا. عالمی اور اسلامی برادری کے غزہ کی معاشی ناکہ بندی سے متعلق موقف کوسمجھنے کا موقع ملا. بیشترعرب ممالک معاشی حصار کے فوری خاتمے اور غزہ کے تمام بند شدہ بحری اور بری راستے کھولنے کی ضرورت پر متفق ہیں. ایسے میں حماس عالمی برادری اور مسلم ممالک پر زور دیتی ہے کہ وہ غزہ کے ساحلی اور خشکی کے راستے کھولنے کے لیے اسرائیل پر دباٶ ڈالے.بالخصوص رفح راہداری کا کھلا ہونا نہایت ضروری ہے کیونکہ غزہ کا بیرونی دنیا سے رابطے کا صرف ایک ہی راستہ ہے، اس کے کھلنے سے غزہ کے اسلامی دنیا اور پوری عالمی برادری سے روبط آسان ہو جائیں گے.

آپ نے اپنی گفتگو میں ذکر کیا کہ غزہ کی معاشی ناکہ بندی ناکام ہونے کے ساتھ ساتھ اسرائیل پر ایک بوجھ بھی ثابت ہو رہی ہے، اگر ایسا ہے تو اسرائیل معاشی ناکہ بندی جاری رکھنے پر مصر کیوں ہے؟.
..خالد مشعل:….میرے خیال میں اس کے تین پہلو ہیں، اول یہ ہے اسرائیل ایک قابض ریاست ہے جبکہ فلسطینی اس کے ناجائز تسلط کا شکار ہیں، لہذا ایک قابض ریاست اپنا دھونس جمانے کے لیے اس نوعیت کے اقدامات کرتی ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ اسرائیل نے غزہ کی معاشی ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ مقبوضہ فلسطین کے دیگر علاقوں میں یہودی آباد کاری، فلسطینیوں کی بے دخلی اور فلسطینی شہریوں کی مکانات مسماری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، دوسرا پہلو یہ ہے کہ اسرائیل اپنے گرفتار فوجی گیلاد شالیت کی پوری فلسطینی قوم کو سزا دینا چاہتا ہے.
معاشی ناکہ بندی جاری رکھنے کا تیسرا پہلو نہایت افسوسناک ہے وہ یہ کہ غزہ کی معاشی ناکہ بندی میں کچھ غیر ملکی ہاتھ اسرائیل کو ایسا کرنے پر نہ صرف اکسا رہے ہیں بلکہ اس میں صہیونی ریاست کی مسلسل مدد کر رہے ہیں، تاہم مجھے یقین ہے کہ جلد یا بدیر غزہ سے اسرائیل اور اس کے ہمنواٶں کی مسلط کردہ معاشی ناکہ بندی ختمم ہو کر رہے گی.

… آپ نے بھی کہا کہ غزہ کی معاشی ناکہ بندی کے اٹھائے جانے کو اسرائیل نے حماس کے ہاں قید فوجی گیلاد شالیت کی رہائی سے مشروط قرار دیا ہے، جبکہ حال ہی میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو نے عالمی برادری سے گیلاد کی رہائی کے سلسلہ میں مدد مانگی ہے. آپ کے خیال میں یہ اسرائیلی قیادت کی کمزوری کا ثبوت نہیں؟.
خالد مشعل:…اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے گیلاد شالیت کی رہائی کے لیے عالمی برادری کا دروازہ کھٹکھٹانے کے معاملے کو مختلف سیاق و سباق کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے. پہلی بات تو یہ ہے کہ اسرائیل اندرونی اور عوامی سطح پر گیلاد شالیت کی رہائی میں ناکامی پر سخت تنقید کا سامنا کر رہا ہے. چنانچہ اندرونی دباٶکا رخ تبدیل کرنے کے لیے عالمی برادری سے مدد کی اپیل کی گئی ہے، اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اسرائیلی حکومت نے غزہ کے امدادی بیڑے فریڈم فلوٹیلا پرحملہ کر کے نہ صرف کئی غیر ملکی رضاکاروں کو شہید کیا بلکہ جارحیت کے باعث قافلے میں شریک تیس ممالک سے مخالفت مول لی، اس طرح اب اسرائیل دنیا میں فریڈم فلوٹیلا پر حملے کے باعث ہونے والی رسوائی اور تنہائی سے خود کو نکالنے کے لیے مختلف حیلوں بہانوں سے عالمی برادری سے رابطے کی کوشش کر رہا ہے.اسرائیل کی موجودہ قیادت کو یہ خدشہ ہے کہ فریڈم فلوٹیلا پر حملے جیسے واقعات صہیونی ریاست کے غیر قانونی وجود کی راہ ہموارکرنے والی مہم کا سبب نہ بن جائیں.
عالمی برادری سے رجوع کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسرائیل گیلاد شالیت کی رہائی میں ناکامی کہ ذمہ داری اپنی حکومت پر عائد کرنے کے بجائے عالمی برادری پر عائد کر رہا ہے. اس کے علاوہ گیلاد شالیت کا مقدمہ عالمی برادری کے سامنے رکھنے کا ایک مقصد حماس کے خلاف عالمی سطح پر مہم کو تیز کرنا ہے. اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اسرائیلی حکومت گیلاد شالیت کی رہائی کے معاملے میں نہ صرف ناکام ہو گئی ہے بلکہ حقیقی معنوں میں کمزوری اور انتشار کا شکار ہے. اسرائیلی شہری حکومت سے آئے روز یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ گیلاد شالیت کی رہائی کے لیے جو قیمت درکار ہے وہ ادا کرے اور حماس کے ہاں قید فوجی کی رہائی کو یقینی بنائے. گیلاد شالیت کی رہائی کے لیے اسرائیل نے غزہ پر طویل جنگ مسلط کیے رکھی، طاقت کے زور پر یہ معاملہ حل نہ ہوا تو سفارتی کوششیں شروع کی گئیں تاہم اسرائیل اپنی ہٹ دھرمی کے باعث سفارتی کوششوں سے بھی استفادہ نہ کر سکا.اسرائیل اس وقت تک گیلاد شالیت کی رہائی میں کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک حماس کے مطالبات کے مطابق قیدیوں کی ڈیل نہیں کی جاتی.

گیلاد شالیت اور قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل میں کوئی تازہ پیش رفت ہوئی ہے یا اس ضمن میں ثالثی کی کوششیں ہو رہی ہیں؟.
خالد مشعل:….جرمنی کی جانب سے قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل کے بارے میں ایک بار رابطہ کیا گیا ہے تاہم حماس نے واضح کر دیا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے سلسلہ میں بالواسطہ بات چیت وہیں سے شروع ہونی چاہیے جہاں رکی تھی، حماس اسرائیل کی طرف سے قیدیوں کی مخصوص فہرست کو تسلیم نہیں کرے گی، اسرائیل کو حماس کی فہرست کے مطابق قیدیوں کو رہا کرنا ہو گا.

ایک تاثر یہ ہے کہ بعض عرب اور دیگر ممالک کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو کو پیغام ارسال کیا گیا ہے کہ وہ گیلاد شالیت کی رہائی کے لیے جلد بازی سے کام نہ لیں، کیونکہ قیدیوں کی تبادلے کی ڈیل سے حماس کو سیاسی طور پر فائدہ پہنچ سکتا ہے. آپ اس پر کیا تبصرہ کریں گے؟.
خالد مشعل:…یہ تاثر درست ہے کہ قیدیوں کی ڈیل کی راہ میں کچھ غیر ملکی عناصر کا بھی ہاتھ موجود ہے، امریکا اور بعض دیگر حلقوں کی جانب سے اسرائیل پر گیلاد شالیت کی رہائی میں جلد بازی سے کام نہ لینے کے لیے دباٶ ڈالا گیا ہے، اور کہا گیا کہ قیدیوں کی ڈیل حماس کے لیے مفید اور محمود عباس کے لیے مضر ثابت ہو سکتی ہے، چونکہ امریکا فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے کوشاں ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ ہر اس اقدام کی مخالفت کرے گا جو ان نام نہاد مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بنیں گے.

آپ نے چند روز قبل خبردار کیا تھا کہ حماس کی فراہم کردہ فہرست اور مطالبات کی روشنی قیدیوں کو رہا نہ کیا گیا تو نہ صرف گیلاد شالیت کو رہا نہیں کیا جائے گا بلکہ مزید فوجی بھی پکڑے جائیں گے. آپ کا یہ موقف قیدیوں کی ڈیل کی کوششوں پر کس حد تک اثر انداز ہو سکتا ہے؟.
خالد مشعل:…ہمارا اصل مقصد اسرائیل میں پابند سلاسل فلسطینی اسیران اور اسیرات کی رہائی ہے، اور ان ہزاروں قیدیوں کی رہائی کے لیے صرف ایک اسرائیلی فوجی کی اسیری کافی نہیں، صاف ظاہر ہے ہمیں اپنے ھدف اور مقصد کے حصول کے لیے مزید اسرائیلی فوجیوں کو گرفتار کرنا پڑے گا. فسلطینی قیدیوں کی رہائی قومی اور ملی فریضہ ہے اور ان کی رہائی کے لیے ہر طرح کی کوششیں جاری رہیں گی.قیدیوں کو ہم کسی صورت بھی فراموش نہیں کر سکتے.

فلسطینی جماعتوں اور حماس کے درمیان مصالحت کے لئے جاری کوششوں میں کوئی تازہ پیش رفت؟.
خالد مشعل:….فلسطینی مصالحت کے سوال پر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ ایک اہم قومی اہمیت کا معاملہ غیر ملکی “ویٹو” کی نذر ہو کر رہ گیا ہے، لمحہ موجود میں مفاہمت کو کامیاب بنانے کی بجائے اب تک کی گئی کوششوں کو بھی سرد خانے میں ڈالنے کی کوشش ہو رہی ہے. مصالحت کی بات تو بہت سے لوگ کر رہے ہیں لیکن اسے کامیاب بنانے کے لیے خلوص نیت کے ساتھ بہت کم لوگ تیار ہیں.
مصر کے ہاں مصالحت کے لیے کئی ماہ کی کوششوں کے بعد مختلف جماعتیں ایک دوسرے کے قریب آئیں، حماس نے مصر کے تیار کردہ مفاہمتی مسودے پر بعض اصولی ترامیم کی سفارش کی لیکن اسے یکسر مسترد کر دیا گیا اورابھی تک مفاہمت کے حوالے سے حماس کی ترامیم کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے.
مفاہمت کا عمل فلسطینیوں کے درمیان طے پا رہا ہے لیکن اس میں غیر ملکی ایجنڈے کو بھی شامل کر لیا گیا ہے. حماس سے بڑھ کر مفاہمت کی اہمیت پر کوئی دوسری جماعت زور نہیں دے رہی، لیکن یہ عمل اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب اس کی بنیاد فلسطینی عوام کے مفادات اور قومی اصولوں پر رکھی جائے گی. مفاہمت کے ذریعے ہم فلسطینی قیادت اور عوام کی صفوں میں اتحاد اور مضبوطی پیدا کرنا چاہتے ہیں، نہ کہ ایسی مصالحت جس کے ذریعے دشمن کو ریلیف فراہم کیا جائے.
اس کے علاوہ اہم بات یہ ہے کہ مفاہمت کو کسی ایک فریق کی کامیابی نہیں قرار دینا چاہیے اور نہ ہی کسی کی شخصی بالادستی کو تسلیم کیا جائے بلکہ مفاہمت کے عمل کے بعد تمام فلسطینی دھڑوں کو برابری کی بنیاد پر قومی خدمت کا موقع ملنا چاہیے.

عرب لیگ کے جنرل سیکرٹری عمروموسیٰ کے دورہ غزہ کے دوران مختلف سیاسی دھڑوں کی جانب سے فلسطین میں مفاہمت کے حوالے سے مطالبات کی آوازوں میں تیزی آئی. خود فلسطینی جماعتوں کے درمیان مفاہمت کے لیے ہم آہنکی کیوں نہیں پائی جا رہی؟.
خالد مشعل:…عرب لیگ کے جنرل سیکرٹری عمرو موسیٰ غزہ دورے پر آئے ، حماس کی حکومت کے وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے ان کا خیرمقدم کیا اور فلسطین میں مفاہمت کی ضرورت سے متعلق حماس کے موقف سے انہیں آگاہ کیا، فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت کرانے کے لیے عمروموسیٰ نے فلسطینی صدر محمودعباس سے بھی رابطہ کیا، انہوں نے بھی عمروموسیٰ کی آمد کا خیرمقدم کیا اور وعدہ کیا کہ وہ فتح کے مرکزی راہنما منیب المصری کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کا وفد جلد غزہ کے دورے پر روانہ کریں گے، تاہم کمیٹی کی غزہ روانگی کی تاریخ سے قبل محمودعباس نے اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا اور مفاہمت کی کامیابی کے لیےمصری مسودے پر”جہاں ہے جیسے ہے” کی بنیاد پر دستخط کی شرط عائد کر دی. ایک بند کمرہ اجلاس میں محمود عباس نے کہا کہ” وہ مصری مطالبات سے صرف نظر نہیں کر سکتے، عمرو موسیٰ نے حماس کے موقف کو مثبت قرار دیا ہے، میں ان سے سوال کروں گا کہ وہ انکشاف بھی کریں کہ مفاہمت کی راہ میں اصل رکاوٹ کون ہے”
لیکن میں یہ سوال کروں گا کہ فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت ممنوع کیوں قرار دی گئی ہے.فلسطینیوں کے درمیان موجود اختلافات ان کے اپنےنہیں بلکہ باہر سے مسلط کردہ ہیں، فلسطینیوں کو مفاہمت کے لیے آزاد چھوڑ دیا جائے، عرب ممالک انہیں باہمی اختلافات ختم کرنے میں رکاوٹ بننے کے بجائے مداخلت ترک کریں اور مفاہمت کی کامیابی کے بعد مبارک باد پیش کریں.
میں یہ بھی واضح کر دوں کہ فلسطین میں مفاہمت کی راہ میں رکاوٹ کیا اور وہ کیا حقیقی اسباب ہیں جو اس بابرکت کام کی راہ میں رکاوٹ ہیں. اس سلسلے میں دو بنیادی اور اساسی اسباب ہیں.پہلا سبب خارجی ہے اور وہ اسرائیل اور امریکا کا مفاہمت مخالف گٹھ جوڑ ہے. تمام تر کوششوں اور سازشوں کے بعد بھی اسرائیل اور امریکا حماس کا سیاسی پروگرام تبدیل نہیں کر سکے، مفاہمت کی کامیابی کی صورت میں اسرائیل کو فلسطین میں اپنی من مانی کرنے میں مزید مشکلات دکھائی دے رہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل اپنی شرائط کے تحت مفاہمت کرانا چاہتے ہیں. یہ ایک ایسی مفاہمت ہو گی جس میں حماس کو بے دست وپا کرنے کی کوشش کی جائے گی.
دوسراسبب فلسطین کی اندرکی قیادت اور بعض عرب ممالک کا اپنا مخصوص ایجنڈا ہے اور ان کے ایجنڈے کو عالمی یا علاقائی سرپرستی بھی حاصل ہے، یہ لوگ داخلی سطح پر اس وقت تک مفاہمت کی راہ میں رکاوٹ رہیں گے جب تک وہ اقتدار میں ہیں اوران کی جگہ قومی قیادت نہیں آتی، یہ عناصر عالمی چھتری کے سائے تلے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے مصالحت سے گریز کر رہے ہیں.

آپ کے خیال میں فلسطینی دھڑوں میں صلح کرانے کے لیے ترکی کوئی کردار ادا کر سکتا ہے؟.
خالد مشعل:…. ترکی نے فلسطینیوں کے درمیان انتشار کے آغاز ہی میں انہیں آپس میں جوڑنے میں حتی الوسیع کوشش کی تاہم انہیں اس معاملے میں مداخلت کا موقع ہی فراہم نہیں کیا گیا، میرے خیال میں ترکی کو اس کا موقع دیا بھی نہیں جائے گا.

بعض فلسطینی دھڑےغزہ کی معاشی ناکہ بندی کے خاتمے اور مفاہمت کو آپس میں جوڑ رہے ہیں. آپ اس پر کیا تجزیہ کریں گے؟.
خالد مشعل:….فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کے بعد پوری دنیا کی نظریں غزہ کی چار سال سے جاری معاشی ناکہ بندی پر مرکوز ہوئیں. خطے کے ممالک کے علاوہ دنیا کے کونے کونے سے معاشی ناکہ بندی اٹھانے کے مطالبات اٹھ رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ فلسطین کےبعض دھڑوں کو یہ خدشہ لاحق ہوا کہ غزہ کی معاشی ناکہ بندی کے خاتمے کا باتوں سے یہ تاثر لیا گیا کہ اس سے مفاہمت کا عمل پس منظر میں چلا جائے گا، حالانکہ یہ ایک غلط سوچ ہے،معاشی ناکہ بندی کا خاتمہ اور فلسطینیوں کے درمیان مصالحت دونوں فلسطینی عوام کے مفاد میں ہیں، دونوں کا اپنا اپنا دائرہ ہے لہذا مفاہمت کی کامیابی اور غزہ کی معاشی ناکہ بندی کو ایک دوسرے کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا.

مغربی کنارے میں حماس نے مزاحمتی حکمت عملی میں کس قسم کی تبدیلی کی ہے؟.
خالد مشعل:….مغربی کنارے میں حماس کی مزاحمتی حکمت عملی میں کسی قسم کی بنیادی تبدیلی نہیں ہوئی تاہم فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان سیکیورٹی تعاون اور تحریک مزاحمت کو جرم قرار دیے جانے کے بعد مجاہدین نے اپنےطریقہ کار کو جزوی طور پر تبدیل کیا ہے.
مغربی کنارے میں حماس صرف مزاحمت کی وجہ سے متہوم نہیں بلکہ اس کی عوامی حمایت اور سیاسی حیثیت بھی اس کے مخالفین کے لیے ناقابل برداشت ہے، یہی وجہ ہے فلسطینی اتھارٹی چن چن کر ایسے شہریوں کو ملازمتوں سے فارغ کر رہی ہے جن کا تعلق حماس سے ہے،حماس کے زیر انتظام چلنے والے رفاہی ادارے بھی انتقام کا نشانہ بن رہے ہیں. یہ سب کچھ حماس کو سیاسی اعتبار سے مفلوج کرنے اور آئندہ اس کے سیاسی کردار کی راہ روکنے کی سازش ہے.

فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے مغربی کنارے میں حماس کے حامیوں کے خلاف سخت پالیسی میں نرمی نہ آنے کی کیا وجہ ہے؟.
خالد مشعل:…یہ امرنہایت افسوسناک ہے کہ فلسطینی اتھارٹی ایک ایسے وقت میں محب وطن شہریوں کو گرفتار کر کے انہیں سزائیں دے رہی ہے جبکہ دوسری طرف اسرائیل مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آبادکاری کی توسیع میں مصروف ہے، مسجد اقصیٰ پر حملے روز کا معمول ہیں اور مقبوضہ بیت المقدس کو یہودیانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کی جا رہی ہیں. ایسے حالات میں اسرائیل کے ساتھ بے ثمر مزاکرات اور فوجی تعاون ایک قوم دشمن پالیسی ہے.
فلسطینی اتھارٹی کی طرف سےاسرائیل کی یہ مفت کی خدمت نے یہودیوں کو فلسطینی عوام کے حقوق غصب کرنے پر اور جری کر دیا ہے. اسرائیلی خدمت کا جو صلہ چند اقتصادی سہولیات کی صورت میں اسرائیل کی طرف سے فلسطینی اتھارٹی کو حاصل ہو رہا ہے وہ اسرائیل کو فلسطین پر دائمی تسلط کی طرف لے جا رہا ہے.موجودہ حالات میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایک موقف اختیار کرنا صرف حماس کی ذمہ داری نہیں فلسطین کی تمام سیاسی جماعتوں اور عرب ممالک کو مل کراسرائیل کے بڑھتے ہوئے قدم روکنا ہوں گے، فلسطینی اتھارٹی کو بھی اسرائیل نوازی کی اپنی پالیسی بدلنا ہو گی.

کیا حماس اور اردن کے درمیان تعلقات از سر نو بہتر ہو سکتے ہیں؟
.خالد مشعل:…. اس وقت حماس اور برادر ملک اردن کے درمیان تعلقات جمود سے گذر رہے ہیں، حماس اور اردن کے درمیان تعلقات کی خرابی کا ایک سبب محمودعباس کی جماعت فتح بھی ہے، فتح نہیں چاہتی کہ حماس اور اردن کے درمیان مثالی تعلقات قائم ہوں. تاہم حماس اب بھی اردن کے حوالے سے مثبت سوچ رکھتی ہے ،اردن کی جانب سےکئی قسم کے شکوک و شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں، موجودہ جمود کی ذمہ داری بھی کسی ایک فریق پر عائد کی جا سکتی ہے.

آپ اردن کے ساتھ کس شکل میں مثبت تعلقات کےخواہاں ہیں تاکہ دونوں فریقین کو اپنے اپنے مفادات کے حصول میں بھی کامیابی حاصل ہو؟.
خالد مشعل :….حماس اور اردن کے درمیان تعلقات کی نوعیت کی شکل پر بات کرنے سے قبل ہمیں یہ دیکھ لینا چاہیے کہ حماس اور اردن کے تعلقات کے تقاضے اور ضروریات کیا ہیں.ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اردن فلسطینیوں کا ایک بڑا بھائی ہے اور اردن نے ہر موڑ پر فلسطینیوں کی مدد کی ہے. اردن اور فلسطینی عوام کے درمیان کوئی خاص فرق نہیں، دونوں کی تاریخ بھی مشترک ہے. اب اردن کو بھی چاہیے کہ وہ فلسطین کی ان حقیقتوں کو تسلیم کرے جوموجودہ حالات کے تناظر میں ضروری ہیں، حماس بھی اسی طرح کی ایک حقیقت ہے، جو نہ صرف فلسطین میں ایک مقبول جماعت ہے بلکہ موجودہ فلسطینی سیاسی نظام کا حصہ ہے.سنہ 2006ء کے انتخابات کے بعد حماس ایک بڑی سیاسی قوت کےطورپر ابھر کر سامنے آئی ہے اور اس کے پاس ایک قومی جماعت ہونے کا مینڈیٹ ہے. اردن کو بھی اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیے.موجودہ حالات میں اردن کو مزید چوکنا رہنے کی ضرورت ہے اور مشترکہ دشمن کےعزائم کو سمجھنے کی ضرورت ہے. اسرائیلی وزیراعظم فلسطینی پناہ گزینوں کو اردن میں مستقل وطن دینے کی مہم چلا رہے ہیں، یہ مہم نہ صرف ان لاکھوں بے گھر فلسطینیوں کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے بلکہ خود اردن کے لیے بہت بڑے نقصان کا باعث ہے. ان حالات میں حماس اور اردن کے درمیان تعلقات کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے.
اردن کو حماس سے کوئی شکوہ یا خوف ہے تو حماس اسے دور کرنے پر بھی تیار ہے، اس کے لیے مزاکرات کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں، اردن کے مفادات حماس کے مفادات ہیں.

حماس پر اردن کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے حـوالے سے بھی انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں. یہ الزامات کس حد تک حقیقت پر مبنی ہیں؟.
خالد مشعل:… حماس پر اردن کی اسلامی تحریک کے ساتھ معاونت اور حکومت کے خلاف اقدامات سے متعلق جتنے بھی الزامات ہیں محض قیاس آرائیاں ہیں، اردنی اسلامی تحریک کا اپنا ایجنڈا ہے اور اپنے اپنے انداز میں ملک میں کام کر رہی ہے، حماس کا اس سے کوئی تعلق نہیں.
اردن کیا حماس نے کبھی کسی دوسرے عرب ملک یا کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں کسی کی مداخلت نہیں کی. اگر اردن کے پاس حماس کی مداخلت کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو وہ انہیں پیش کرے حماس ان کا ازالہ کرنے پر بھی تیار ہے.

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan