تل ابیب – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی ریاست کے دو سابق وزرائے اعظم نفتالی بینٹ اور یائر لبید نے آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اپنی جماعتوں کے انضمام اور ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا ہے، جس کی سربراہی نفتالی بینٹ کریں گے۔
نفتالی بینٹ کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ قدم بینٹ کی قیادت میں یش عتید پارٹی اور بینٹ سنہ 2026ء پارٹی کو ایک متحدہ سیاسی ڈھانچے میں ضم کر کے قابض اسرائیل کی اصلاح کے سفر کا آغاز ہے۔
بیان میں مزید واضح کیا گیا کہ اس اقدام کا مقصد نام نہاد اصلاحی بلاک کو متحد کرنا اور اندرونی اختلافات کا خاتمہ کرنا ہے، تاکہ تمام تر کوششوں کو آئندہ انتخابات میں فیصلہ کن جیت حاصل کرنے اور قابض ریاست کو نام نہاد اصلاحات کی طرف لے جانے پر مرکوز کیا جا سکے۔
بیان کے مطابق اس نئی جماعت کا نام بیاحد (ایک ساتھ) رکھا جائے گا جس میں نفتالی بینٹ کو اکثریت حاصل ہوگی۔
قابض اسرائیل کے میڈیا ذرائع کے مطابق بینٹ اور لبید نے گذشتہ ہفتے کے دوران ہونے والی ملاقاتوں اور رائے عامہ کے جائزوں کے بعد گذشتہ ہفتے کی شام انضمام کے معاہدے پر دستخط کیے۔
نفتالی بینٹ نے اس سے قبل بنجمن نیتن یاھو کی موجودہ حکومت کے مخالف کیمپ میں تقسیم کے پیش نظر انتخابات میں کامیابی کو مشکل قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ بکھراؤ تبدیلی کے امکانات کو کمزور کر رہا ہے۔
اسی تناظر میں بینٹ نے قبل ازیں گاڈی آئزن کوٹ کو بھی اپنی جماعت میں شامل ہونے کی پیشکش کی تھی جسے انہوں نے مسترد کر دیا تھا۔
توقع ہے کہ بینٹ اور لبید ایک مشترکہ پریس کانفرنس کریں گے جس میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی اس نئی پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی جائے گی۔
یدیعوت احرونوت ویب سائٹ نے نفتالی بینٹ کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس اقدام کا مقصد پارٹی کی بنیاد کو وسیع کرنا، نئے ووٹرز کو اپنی طرف راغب کرنا اور ایک وسیع سیاسی تبدیلی لانا ہے۔
اس پیش رہ رفت نے قابض اسرائیل کے سیاسی حلقوں میں ملے جلے ردعمل کو جنم دیا ہے، جہاں بعض اپوزیشن جماعتوں نے اس کا خیر مقدم کیا ہے وہیں حکمران اتحاد کی جماعتوں بشمول بنجمن نیتن یاھو کی لیکوڈ پارٹی، بزلئیل سموٹریچ کی مذہبی صیہونیت اور ایتمار بن گویر کی عوتسما یہودیت نے اسے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اس حوالے سے ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ یائر گولان نے کہا ہے کہ وہ نیتن یاھو مخالف بلاک کے اندر کسی بھی قسم کے اتحاد کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
یہ سیاسی تبدیلی قابض اسرائیل کے جماعتی نقشے میں آنے والی ان تبدیلیوں کے سائے میں ہوئی ہے جو حالیہ سروے رپورٹس میں ظاہر ہوئی ہیں، جن کے مطابق نیتن یاھو کی لیکوڈ پارٹی کی مقبولیت کم ہو رہی ہے جبکہ بینٹ کی پارٹی ابھر رہی ہے اور اپوزیشن اب بھی پارلیمانی اکثریت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
