Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

Palestine

فلسطینی شخصیات کی مسجد الاقصیٰ کی مشرقی دیوار کو یہودیانے پر انتباہ

مقبوضہ بیت المقدس کی سرکردہ شخصیات نے بدھ کے روزمسجد اقصیٰ کی مشرقی دیوار کو یہودی بنانے اور اسے دیوار براق کی طرح آباد کاروں کی رسومات اور عبادات کے لیے مختص کرنے کی قابض اسرائیل کی کوششوں سے خبردار کیا۔

القدس کے محقق رضوان عمرو نے کہا کہ قابض عدالت کی جانب سے رحمت قبرستان میں روزانہ صور پھونکنے کی اجازت دینے کے فیصلے کا مطلب زمین پر مشرقی دیوار اقصیٰ کے ساتھ آباد کرنے والوں کے لیے ایک نیا مرکز قائم کرنا ہے جس کا مقصد باب رحمت کو یہودیت میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار کرنا اور اس جگہ پر بھی یہودی آباد کاروں کی اجارہ داری قائم کرنا ہے۔

عمرو نے مسلمانوں کے قبرستانوں کو یہودی آباد کاروںں، ننگے سیاحوں اور شرابیوں کے لیے خالی نہ چھوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔

عمرو نے باب الرحمہ کے پورے قبرستان کی حفاظت کرنے کا مطالبہ کیا، جو مشرقی دیوار سے متصل ہے اور مسجد اقصیٰ کی محافظ ہے۔

اس کے جواب میں مسجد اقصیٰ کے مبلغ الشیخ عکرمہ صبری نے کہا ہے کہ قابض عدالت کا باب الرحمہ قبرستان پر کوئی اختیار نہیں ہے اور آباد کاروں کو صور پھونکنے کی اجازت دینے کا فیصلہ اس کے تقدس کی خلاف ورزی ہے۔

ایک پریس بیان میں صبری نے وضاحت کی کہ باب الرحمہ قبرستان ایک اسلامی قبرستان ہے جس میں 15 صدیوں پہلے کے متعدد صحابہ کرام، علماء اور مجاہدین کی قبریں شامل ہیں۔

الاقصیٰ کے خطیب نے خبردار کیا کہ باب الرحمہ قبرستان میں صور پھونکنے کی اجازت دینے کا فیصلہ الاقصیٰ کے اندر صور پھونکنے کی قابض ریاست کی سازشوں کے تسلسل کا حصہ ہے۔

دوسری طرف القدس میں اسلامی قبرستان کی دیکھ بھال کمیٹی کے سربراہ مصطفی ابو زاہرہ نے زور دیا کہ قابض ریاست کے فیصلے کالعدم اور مکمل طور پر مسترد ہیں۔ فلسطینی انہیں قبول نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ قبرستانوں کی حرمت اپنی جگہ ایک حقیقت ہے اور مسلمان اپنے تاریخی قبرستان کی بےحرمتی کی قطعا اجازت نہیں دے سکتے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan