Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

پی ایل ایف نیوز

فرزندان بلوچستان یوم القدس کے ساتھ شہدائے یوم القدس کوئٹہ کی یاد کو زندہ رکھیں گے، القدس کی آزادی میں فرزندان بلوچستا ن کا لہو شامل ہے ،مقررین کی پریس کانفرنس

فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان بلوچستان چیپٹر کے زیر اہتمام منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما اور فلسطین فاؤنڈیشن بلوچستان کے سرپرست رکن علامہ مقصود علی ڈومکی، جمعیت اتحاد العلماء بلوچستان کے صدر مولانا قاضی فخر الدین، سنی سپریم کونسل کے وائس چیئر مین پیر سید حبیب اللہ چشتی ، معروف اسکالر و جماعت اسلامی کے رہنما امان اللہ شادیزئی، پاکستان سنی تحریک کوئٹہ کے صدر محترم علی بلوچ، سہارا ویلفئرٹرسٹ کے چیئر مین راز محمد لونی اور فلسطین

foto1

فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان بلوچستان چیپٹر کے زیر اہتمام منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما اور فلسطین فاؤنڈیشن بلوچستان کے سرپرست رکن علامہ مقصود علی ڈومکی، جمعیت اتحاد العلماء بلوچستان کے صدر مولانا قاضی فخر الدین، سنی سپریم کونسل کے وائس چیئر مین پیر سید حبیب اللہ چشتی ، معروف اسکالر و جماعت اسلامی کے رہنما امان اللہ شادیزئی، پاکستان سنی تحریک کوئٹہ کے صدر محترم علی بلوچ، سہارا ویلفئرٹرسٹ کے چیئر مین راز محمد لونی اور فلسطین فاؤنڈیشن کوئٹہ کی ممبر محترمہ صفیہ ہاشمی نے کہا کہ فرزندان بلوچستان یوم القدس کی یاد کو زندہ رکھیں گے، القدس کی آزادی میں فرزندان بلوچستا ن کا لہو شامل ہے ،ان کاکہنا تھا کہ بلوچستان کے صوبائی دارلحکومت میں 17رمضان المبارک کو یوم القدس کی حمایت اور مظلوم فلسطینیوں سے اظہار ہمدردی کے لئے گول میز کانفرنس بعنوان ’’القدس امت اسلامی کا مرکز و محور ‘‘ کا انعقاد کیا جائے جائے، ان کاکہنا تھا کہ اس کانفرنس کا مقصد بلوچستان کے عوام کی جانب سے مسئلہ فلسطین کی اخلاقی و سیاسی حمایت کا عملی ثبوت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ چار برس قبل القدس ریلی کوئٹہ میں شہید ہونے والے شہدائے راہ آزادی القدس کی قربانیوں پر ان کو خراج عقیدت پیش کرنا بھی ہے۔
فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان بلوچستان چیپٹر کے رہنماؤں کاکہنا تھا کہ س سال کی اہمیت پچھلے سالوں سے زیادہ ہے کیونکہ ماہ رمضان المبارک ایسے حالات میں آیا ہے کہ فلسطین ہی نہیں بلکہ پورا اعالم اسلام لہو لہو ہے۔ اور یہ سب کچھ گریٹر اسرائیل کی صہیونی سازش کے تحت امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کی سرپرستی میں کیا جارہا ہے۔ نام نہاد عالمی برادری بھی فلسطینیوں کے حق میں کوئی مثبت اور موثر کردار ادا کرنے سے قاصر ہے، آج پوری مسلم دنیا آگ وخون کی لپیٹ میں ہے، ہر جگہ اسرائیل کا دفاع کرنے کے لئے نام نہاد گروہ کھڑے ہو چکے ہیں جو حقیقت میں غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کا دفاع کر رہے ہیں اور گریٹر اسرائیل کے ناپاک منصوبے کو عمل درآمد کرنے کے در پے ہیں، آج انبیاء ؑ کی سرزمین فلسطین کی صورتحال ہمارے سامنے ہے ، اسرائیلی مظالم کا سلسلہ جو سنہ1948ء سے شروع ہوا تھا کسی دور میں نہیں تھم سکا بلکہ ہمیشہ اس میں تیزی آتی رہی ہے ، گذشتہ برس اسی ماہ مبارک رمضان میں غزہ کے عوام پر 51روزہ جنگ مسلط کی گئی اس جنگ کے نتیجے میں ہونے والی بد ترین تباہ کاریاں آج ایک سال بیت جانے کے بعد بھی غزہ میں نظر آ رہی ہیں، غرض یہ کہ پورا فلسطیناسرائیلی ظلم کی آگ میں جل رہاہے۔
رہنماؤں کاکہنا تھا کہ القدس خطرے میں ہے، آج عراق جل رہا،یمن و شام میں لاشوں کے انبار ہیں، لبنان دہشتگردوں کے نشانے پر ہے، برما میں مسلمانوں کو بڑے پیمانے پر اس لئے قتل وغارتگری کا نشانہ بنایا جا رہاہے تا کہ دنیا کی توجہ عالم اسلام و انسانیت کے بنیادی ترین اور اول ترین مسئلہ یعنی مسئلہ فلسطین و القدس سے ہٹا دی جائے، خود سعودی عرب میں مساجدکے اندر نمازیوں پر خود کش بم دھماکے ہوئے ہیں، تیونس میں بھی اسی طرح کی کاروائیاں دیکھنے میںآ رہی ہیں، لیبیا کی صورتحال ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں، مصر میں بھی ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح ایک منتخب حکومت کو امریکی ، اسرائیلی اور عرب امداد سے چلتا کیا گیا ہے،کویت میں دیکھیں تو وہاں بھی حال ہی میں جمعہ نماز کے دوران نمازیوں کو خود کش دھماکے کا نشانہ بنایا گیا ہے، پاکستان کی بات کریں تو یہاں کی صورتحال بھی اسی طرح ہے گذشتہ چند برس میں ستر ہزار سے زائد پاکستانیوں کو مساجد، امام بارگاہوں، جلوسوں، بازاروں، سیکورٹی چیک پوسٹوں، سرکاری دفاتر، ٹارگٹ کلنگ سمیت تفریحی مقامات سمیت اسکولوں اور دیگر مقاما ت پر دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہے، یہ ساری صورتحال صرف اور صرف اس لئے پیدا کی گئی ہے کہ مسلم دنیا کے اندر فلسطین کاز کی آواز کو دبا دیا جائے ، اس قدر مسائل کا انبار لگایا جائے کہ مسلمان اقوام مجبور ہو جائیں کہ وہ اپنے اپنے مسائل میں الجھ جائیں اور اسلامی کاز اور امت مسلمہ کے بنیادی ترین مسئلہ القدس کو فراموش کر دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج عالم اسلام کو پہلے سے زیادہ صیہونی سازشوں کا سامنا ہے، غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کا وجود سنہ1948ء میں برطانوی سامراج کی سرپرستی اور امریکی آشیرباد کے ساتھ قیام عمل میں لایا گیا تھا اور آج 67برس بیت جانے کے باوجود بھی فلسطین لہو لہو ہے، مسلمانوں کا قبلہ اول بیت المقدس غاصب صیہونی شکنجے میں ہے۔ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عالمی برادری امریکی کاسہ لیسی اور اسرائیلی کٹھ پتلی کا کردار ادا کرنا بند کرے اور مغرب کو بھی چاہئیے کہ غاصب صیہونی اسرائیل کی سرپرستی ترک کر دے کیونکہ وہ وقت اب دور نہیں جب اسرائیل دنیا سے صفحہ ہستی سے نابود ہو جائے گا۔

foto2

IMAG1201

IMAG1223

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan