ویلنگٹن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینیوں کے خلاف غاصب صہیونی ریاست کی چیرہ دستیوں کے بیچ نیوزی لینڈ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی ہولناک توسیع میں ملوث تین انتہا پسند یہودی آباد کاروں پر اپنے ملک میں داخلے کی سخت پابندی عائد کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔
نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے اس اہم فیصلے کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ جن انتہا پسندوں پر یہ پابندی لگائی گئی ہے ان میں ایلیو لیبی، ہاریل ڈیوڈ لیبی اور ایتامار یہودا لیوی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ یہ صیہونی عناصر مظلوم فلسطینیوں کی غصب شدہ زمینوں پر غیر قانونی طور پر قائم کی جانے والی بستیوں کو وسعت دینے کی مجرمانہ سرگرمیوں میں سرگرمِ عمل ہیں۔
وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مہیب سرگرمیاں پورے خطے کے امن اور استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں اور یہ اقدامات فلسطینیوں اور اسرائیلیوں دونوں کے لیے پرامن بقائے باہمی کے امکانات کو شدید طور پر متاثر کر رہے ہیں۔
انہوں نے پوری قوت سے یاد دہانی کروائی کہ نیوزی لینڈ کی حکومت مستقل طور پر اس اصولی موقف پر قائم ہے کہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر بنائی جانے والی یہ بستیاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی اور سنگین ترین خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ صہیونی بستیوں کی یہ بے لگام توسیع اور اس کے سائے میں ڈھائی جانے والی سفاکیت دو ریاستی حل کے امکانات کو یکسر تباہ کر رہی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقین کے مابین مذاکرات کے ذریعے طے پانے والا معاہدہ ہی فلسطینی عوام اور اسرائیلیوں کے لیے حقیقی امن، سکیورٹی اور خوشحالی کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہے۔
نیوزی لینڈ کی طرف سے اٹھایا جانے والا یہ تادیبی قدم ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آیا ہے جب مقبوضہ مغربی کنارے میں وحشی یہودی آباد کاروں کی بڑھتی ہوئی سفاکیت اور خونریزی پر عالمی سطح پر شدید تشویش اور انتباہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اسی تناظر میں اقوام متحدہ کے خصوصی مبصرین نے پیر کے روز جاری ہونے والے اپنے ایک اہم بیان میں تصدیق کی ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قابض اسرائیل کی حکومت کی براہِ راست پشت پناہی میں یہودی آباد کاروں کی طرف سے مچائی جانے والی سفاکیت اور غنڈہ گردی سنہ 2026ء کے دوران تاریخ کی بدترین اور بے مثال سطح تک پہنچ چکی ہے اور گذشتہ سالوں کے مقابلے میں معصوم فلسطینیوں کے جانی نقصان میں مہیب اضافہ ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کے اس بیان میں دلدوز انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں سال کے ابتدائی پانچ مہینوں کے دوران ہی ظالم یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں کم از کم تیرہ فلسطینی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں جبکہ پانچ سو کے قریب فلسطینی شدید زخمی ہوئے ہیں، اور یہ ہولناک نقصانات فلسطینی دیہاتوں اور بستیوں بالخصوص دیہی علاقوں کو نشانہ بنا کر کیے جانے والے متواتر حملوں کا نتیجہ ہیں۔
عالمی مبصرین نے اس بھیانک حقیقت سے شدید خبردار کیا ہے کہ جس چیز کو انہوں نے “یہودی آباد کاروں کی دہشت گردی” کا نام دیا ہے، وہ اب فلسطینی بستیوں کے وجود کے لیے ایک مہلک خطرہ بن چکی ہے، کیونکہ یہ وحشیانہ حملے اب روز کا معمول بن چکے ہیں اور حملہ آوروں کو کسی قسم کے قانونی احتساب کا سامنا نہیں ہے، جس کے باعث معصوم شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل رہا ہے اور وہ اپنی آبائی زمینوں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
مظلوم غزہ کی پٹی پر اکتوبر سنہ 2023ء میں مسلط کی جانے والی غاصب اسرائیل کی نسل کشی کی وحشیانہ جنگ کے آغاز سے ہی مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض فوج اور سفاک یہودی آباد کاروں کے لرزہ خیز حملوں میں مسلسل اور ہولناک تیزی دیکھی جا رہی ہے، بالخصوص ان دیہی اور خانہ بدوش بستیوں میں جو صہیونی بستیوں اور ان کی فوجی چوکیوں کے قریب واقع ہیں۔
فلسطینی گورنمنٹ میڈیا آفس کی طرف سے گذشتہ چھبیس مئی کو جاری کردہ سنسنی خیز اور لرزہ خیز اعداد و شمار کے مطابق، مقبوضہ مغربی کنارے میں صہیونی جارحیت کے نتیجے میں اب تک گیارہ سو اڑسٹھ فلسطینی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور بارہ ہزار چھ سو چھیاسٹھ فلسطینی شدید زخمی ہوئے ہیں، جبکہ غاصب قوتوں نے تئیس ہزار کے قریب فلسطینیوں کو سلاسل کر کے قابض صہیونی عقوبت خانے منتقل کر دیا ہے اور تینتیس ہزار سے زائد مجبور فلسطینیوں کو ان کے اپنے گھروں سے دربدر اور بے گھر کر دیا گیا ہے۔
