Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

سات مغربی ممالک کی اسرائیل سے یہودی بستیوں کی توسیع بند کرنے کی اپیل

مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) سات بڑے مغربی ممالک نے قابض اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری کی توسیع کو روکے اور یہودی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کو لگام دے، ان ممالک نے قابض اسرائیلی حکومت پر خطے میں کشیدگی کو ہوا دینے، استحکام کو نقصان پہنچانے اور دو ریاستی حل کے امکانات کو سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

برطانیہ، اٹلی، فرانس، جرمنی، کناڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ چند مہینوں کے دوران مغربی کنارے میں صورتحال نمایاں طور پر ابتر ہوئی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہودی آباد کاروں کے تشدد نے ایسی سطح کو چھو لیا ہے جس کی پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی، اس کے علاوہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیاں اور اس کے ہولناک ہتھکنڈے، جن میں یہودی آباد کاری پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنا شامل ہے، استحکام اور دو ریاستی حل کے امکانات کو تباہ کر رہے ہیں۔

مشترکہ بیان میں قابض حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ یہودی آباد کاری اور اپنے انتظامی اختیارات کی توسیع کو ختم کرے، یہودی آباد کاروں کے وحشیانہ تشدد پر ان کا کڑا محاسبہ یقینی بنائے اور اسرائیلی افواج کے خلاف لگائے گئے الزامات کی شفاف تحقیقات کرے۔

بیان میں قابض اسرائیل کے یہودی آباد کاری کے اس منصوبے کی شدید مذمت کی گئی ہے جسے “ای 1” کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ بارہ مربع کلومیٹر کے رقبے پر مقبوضہ مغربی کنارے میں تقریباً 3400 رہائشی اکائیاں تعمیر کرنے کا ایک نیا استعماری منصوبہ ہے، بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ منصوبہ بین الاقوامی قانون کی ایک سنگین خلاف ورزی ہوگا۔

بیان میں کمپنیوں کو انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ وہ “ای 1” کے علاقے میں تعمیراتی منصوبوں یا یہودی آباد کاری کو فروغ دینے والے دیگر منصوبوں کے لیے ٹینڈرز جمع نہ کرائیں، اور انہیں قانونی نتائج کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کے خطرے سے باخبر رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔

مغربی ممالک نے قابض اسرائیل پر زور دیا کہ وہ فلسطینی اتھارٹی اور فلسطینی معیشت پر عائد کردہ مالیاتی پابندیاں فوری طور پر اٹھائے، انہوں نے فلسطینی اراضی کو ضم کرنے اور فلسطینی عوام کو زبردستی ہجرت پر مجبور کرنے کا مطالبہ کرنے والوں کی شدید مخالفت کا اعادہ کیا، جن میں اسرائیلی حکومت کے کٹر ارکان بھی شامل ہیں۔

اسی تناظر میں، جرمن چانسلر فريدريش ميرتس نے جمعہ کے دن قابض اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری کی توسیع کو روکے، انہوں نے دو ریاستی حل پر مبنی امن کی دعوت دی اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کا ظلم و ستم ایک بے مثال سطح تک پہنچ چکا ہے۔

علاوہ ازیں، ہالینڈ نے بھی جمعہ کے روز اسرائیلی مستوطنات (یہودی بستیوں) سے آنے والی مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کرنے کا ایک تاریخی فیصلہ کیا ہے۔

سات ممالک کا یہ مشترکہ بیان یورپی اور اسرائیلی تعلقات میں ایک کشیدہ ہفتے کے بعد سامنے آیا ہے، یہ کشیدگی قابض اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ سکیورٹی ایتمار بن گویر کی طرف سے نشر کی جانے والی ایک ویڈیو کے بعد پیدا ہوئی، جس میں اسرائیلی فوجیوں کو “گلوبل صمود فلوٹیلا” کے یکجہتی کارکنوں کی گرفتاری کے دوران ان کی تذلیل کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، ان کارکنوں کو بین الاقوامی پانیوں میں ان کے بحری جہازوں کو روک کر اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ فلسطینی محصور علاقے غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ ظالمانہ حصار کو توڑنے کے لیے جا رہے تھے۔

اس واقعے کے فوراً بعد، اٹلی اور ہسپانیہ نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ ایتمار بن گویر پر سخت پابندیاں عائد کرے، جبکہ آئرلینڈ نے یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ یکجہتی کارکنوں کے ساتھ کیے جانے والے سفاکانہ سلوک پر قابض اسرائیل کے خلاف فوری اقدامات کرے، یہ تفصیلات ایک لیک ہونے والے خط کے مطابق سامنے آئی ہیں جسے فرانسیسی پریس ایجنسی نے دیکھا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan