Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

برطانیہ کی 27 اسرائیلی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کی دھمکی

لندن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) برطانیہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر قابض اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد جاری رکھا تو وہ لندن میں قائم قابض ریاست کے سفارت خانے سے 27 اسرائیلی سفارت کاروں کو ملک بدر کر دے گا، جبکہ لندن آنے والی جمعرات کی مقررہ آخری مہلت سے پہلے اس فیصلے کو روکنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے۔

رائٹرز نے تین باخبر ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا کہ برطانوی قومی سلامتی کے مشیر جوناتھن پاول نے گذشتہ ہفتے اسرائیل کا ایک خفیہ دورہ کیا اور قونصل خانے کو کھلا رکھنے کے لیے کسی سمجھوتے پر پہنچنے کی غرض سے اسرائیلی حکام سے ملاقات کی، تاہم یہ بات چیت اب تک کسی معاہدے پر منتج نہیں ہو سکی ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان رابطے جاری ہیں، ایسے میں جمعرات کی آخری تاریخ آنے سے پہلے کسی سمجھوتے پر پہنچنے کے امکانات کے محدود ہونے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔

اسی تناظر میں عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ نے اپنی ویب سائٹ وائی نٹ کے توسط سے خبر دی کہ لندن نے برطانوی سفیر سائمن والٹرز کے ذریعے اسرائیلی حکام کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ تل ابیب کے سفارت خانے سے 27 اسرائیلی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق برطانوی حکومت کا یہ قدم برطانوی دارالحکومت میں اسرائیلی سفارت خانے کے کام کاج پر گہرے اثرات مرتب کرے گا، خاص طور پر اس لیے کہ ستمبر سنہ 2025ء میں زیپی ہوتوفیلی کے اسرائیل واپس جانے کے بعد سے وہاں فی الحال کوئی سفیر موجود نہیں ہے، جبکہ ناظم الامور کرس کینٹور اس کا انتظام سنبھال رہے ہیں۔

اس کے مقابلے میں برطانوی سفارت خانے نے ان رپورٹوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ پاول کے دورے کے حوالے سے برطانوی حکومت کی طرف سے کوئی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ قابض اسرائیلی وزیر خارجہ گیدعون ساعر کے ایک ترجمان نے اس بات کی تأقید کی کہ برطانوی قنصل خانہ جمعرات کے روز بند کر دیا جائے گا، جو پہلے سے اعلان کردہ فیصلے کا عملی نفاذ ہے۔

اسرائیل نے گزشتہ آٹھ ستمبر کو برطانیہ کو مقبوضہ بیت المقدس میں اپنا قنصل خانہ بند کرنے اور اپنے سفارت کاروں کو واپس بلانے کے لیے 30 دن کی مہلت دی تھی اور یہ قدم اس اعلان کے جواب میں اٹھایا گیا تھا جس میں لندن نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم یہودی بستیوں میں تیار ہونے والی اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور آباد کاری کی سرگرمیوں سے جڑی پابندیاں نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جمعرات کے روز آخری مہلت کے قریب آنے کے ساتھ ہی وائی نٹ نے ذکر کیا کہ برطانوی قونصل خانے کے مقامی ملازمین کو پہلے ہی فارغ کیا جا چکا ہے، جبکہ برطانوی سفارت کار مقبوضہ بیت المقدس چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan