Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

اپنے خاندان کا واحد زندہ بچ جانے والا فلسطینی قابض صہیونی فوج کے ہاتھوں گرفتار

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے محقق اور ریسرچر کو گرفتار کر لیا ہے جو غاصب دشمن کی بمباری میں اپنی فیملی کا واحد زندہ بچ جانے والا مظلوم فرد ہے۔ اس نوجوان کو اس وقت کرم ابو سالم کراسنگ سے گزرتے ہوئے حراست میں لیا گیا جب وہ مہینوں کی طویل کوششوں کے بعد سفری اجازت نامہ حاصل کر کے اپنی یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کرنے اٹلی جا رہا تھا۔

خاندانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ قابض دشمن کی افواج نے ڈاکٹر محمود طلال النجار کو گرفتار کیا اور انہیں کسی نامعلوم مقام پر لے گئیں، جبکہ ان کی فیملی کو ان کے انجام یا حراست کی جگہ کے بارے میں کسی قسم کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا، جس سے ان کی سلامتی اور زندگی کے بارے میں شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

ذرائع نے وضاحت کی ہے کہ اٹلی کی تور فیرگاتا یونیورسٹی ان کی آمد اور ان کی طبی تعلیم و تخصص کی تکمیل کی منتظر تھی، جس کے ذریعے وہ یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ بعد میں واپس آ کر غزہ کی پٹی میں موجود اپنی مظلوم قوم کے بیٹوں کی خدمت کر سکیں گے۔

ڈاکٹر محمود طلال النجار اپنی فیملی کے واحد زندہ بچ جانے والے فرد ہیں، کیونکہ پچیس اکتوبر سنہ 2024ء کو ان کے گھر پر ہونے والی قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں ان کی شریکِ حیات آلاء سالم اور ان کے چار معصوم بچے رینات، یزن، محمد اور عمرو جامِ شہادت نوش کر گئے تھے۔ اس جان لیوا حملے میں ان کا بھائی اور ان کی فیملی نیز ان کا چچا اور ان کا کنبہ بھی غاصب دشمن کی سفاکیت کا نشانہ بن کر شہید ہو گیا تھا۔

اس قدر شدید اور گہرے صدمے کے باوجود ڈاکٹر النجار نے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا اور تین سائنسی تحقیقی مقالے مکمل کیے۔ انہوں نے بالاآخر غزہ کی پٹی سے نکلنے اور اپنی اعلیٰ تعلیم کو آگے بڑھانے کا موقع حاصل کر ہی لیا تھا، مگر غاصب دشمن نے ان کے سفری سفر کے دوران ہی انہیں گرفتار کر کے قابض صہیونی عقوبت خانوں کی نذر کر دیا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan