غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) روسی وزیرِ خارجہ سیرگی لاوروف نے اس بات پر زور دیا ہےکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ کی پٹی سے متعلق منصوبہ ’محض کاغذ کا ایک ٹکڑا‘ ہے اور اس میں شامل اصولوں پر کوئی عمل نہیں کیا گیا۔
سیرگی لاوروف کا یہ بیان بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقدہ خلیج تعاون کونسل اور روس کے درمیان نویں وزارتی اسٹریٹجک مذاکرات کے اجلاس کے دوران سامنے آیا۔
روسی وزیرِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کو درپیش بحرانوں کے تناظر میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر منتج ہونے والے حل تک پہنچنا ابھی بہت دور ہے۔
اسی سیاق و سباق میں انہوں نے خطے کو مزید کشیدگی کی طرف دھکیلنے سے روکنے کی خاطر علاقائی ثالثوں کی کوششوں کو سراہا اور ایسے حل تلاش کرنے کی اپیل کی جو علاقائی بحرانوں کی بنيادی وجوہات کا سدِ باب کر سکیں۔
خلیج تعاون کونسل اور روس کے درمیان اسٹریٹجک مذاکرات کا نواں اجلاس کونسل کے رکن ممالک اور روسی فریق کے وزرائے خارجہ کی شرکت کے ساتھ منعقد ہوا، جس میں خطے کی صورتِ حال کی پیش رفت اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ پیش رفت قابض اسرائیل کی طرف سے دس اکتوبر سنہ 2025ء کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں اور مصر کے شہر شرم الشيخ میں عرب اور امریکی ثالثی کے تحت طے پانے والے معاہدے کے مطابق سکون بحال کرنے کی کوششوں کے باوجود اس کی شقوں کی عدم پاسداری کے سایہ میں سامنے آئی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 31 جولائی سنہ 2026ء کو جنگ بندی کے مراحل کے نفاذ اور غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ’روڈ میپ‘ معاہدے کا اعلان کیا تھا، جسے فلسطینی دھڑوں نے قبول کرنے کا اعلان کر دیا تھا، جب کہ قابض اسرائیل اس معاہدے کو مسلسل مسترد کرتے ہوئے بار بار خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے۔
