نیویارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) حالیہ امریکی رپورٹس نے عراق میں سکیورٹی اور عسکری مداخلت کی ایک ایسی بے مثال اور ہولناک سطح کو بے نقاب کیا ہے جس کے تحت عراق کو ایک ایسے کھلے علاقائی میدانِ جنگ میں تبدیل کر دیا گیا ہے جو بغداد کی حکومت اور اس کی خودمختاری کے حدود سے بالاتر ہے۔ ایک طرف جہاں عراقی حکومت اپنی سرزمین پر قابض اسرائیل کے فوجی اڈوں کی موجودگی کے علم سے انکار کر رہی ہے تو دوسری طرف ان انکشافات نے ملکی سکیورٹی کے نظام کو برقرار رکھنے کی حکومتی صلاحیت اور عراق کے اندر امریکی اثر و رسوخ کی حدود پر انتہائی سنگین اور پریشان کن سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
امریکی صحافتی رپورٹس کے مطابق قابض اسرائیل نے مغربی عراقی صحرا میں دو خفیہ فوجی اڈے قائم کیے جنہیں گذشتہ جون کے مہینے میں ایران کے خلاف 12 دنوں تک جاری رہنے والی حالیہ جنگ کے دوران اپنی عسکری کارروائیوں کو سہارا دینے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ اس صورتحال میں ایسے واضح اشارے ملے ہیں کہ واشنگٹن کو بغداد کو باقاعدہ مطلع کیے بغیر ان معاندانہ سرگرمیوں کا پہلے سے مکمل علم تھا۔
مشہور امریکی اخبار “وول سٹریٹ جرنل” نے ذکر کیا ہے کہ ان دو اڈوں میں سے ایک کی تیاری کا آغاز سنہ 2024ء کے اواخر میں ہی شروع کر دیا گیا تھا جبکہ ایران پر اسرائیلی حملوں کے دوران اسے اسرائیلی طیاروں کی پرواز کا فاصلہ کم کرنے اور لاجسٹک خدمات فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا جس میں ایندھن کی فراہمی اور قابض اسرائیل کی افواج کے اہلکاروں کے لیے طبی امداد کی سہولیات شامل ہیں۔
عراقی اور مشرقِ وسطیٰ کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ فوجی اڈہ مغربی عراق کے ایک صحرائی علاقے میں قائم کیا گیا تھا ۔ پہلے یہ فرض کیا گیا تھا کہ یہ عارضی ہوگا مگر تل ابیب نے اس کی اعلیٰ اسٹریٹجک اہمیت کے پیشِ نظر اسے مستقل طور پر برقرار رکھا۔
ذرائع نے اشارہ کیا کہ امریکہ کو جون سنہ 2025ء سے یا اس سے بھی پہلے سے ان دو اڈوں میں سے کم از کم ایک کی موجودگی کا پورا علم تھا جبکہ اس نے عراقی حکومت سے اس کی اپنی ہی سرزمین پر قابض اسرائیل کی عسکری سرگرمیوں کی موجودگی کو دانستہ طور پر چھپائے رکھا جو فلسطینیوں کی نسل کشی کرنے والی غاصب صہیونی ریاست کی پشت پناہی کا واضح ثبوت ہے۔
اخبار نے عراقی سکیورٹی حکام کے حوالے سے بتایا کہ واشنگٹن نے ایران کے ساتھ تصادم کے دوران بغداد کو عراقی رادار سسٹمز بند کرنے پر مجبور کیا تاکہ امریکی طیاروں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے جس کے نتیجے میں فضائی حدود کی نگرانی اور کسی بھی خطرے کا پتہ لگانے کے لیے امریکی افواج پر عراق کا انحصار مزید بڑھ گیا۔
عراقی چرواہے نے حادثاتی طور پر خفیہ مقام کو بے نقاب کر دیا
اس خفیہ اڈے کا انکشاف اس وقت ایک انتہائی پیچیدہ سکیورٹی معاملہ بن گیا جب مغربی صحرا میں نقل و حرکت کے دوران عوض الشمری نامی ایک عراقی چرواہا اتفاقیہ طور پر وہاں پہنچ گیا جس کو بعد میں ایک ہیلی کاپٹر سے فائرنگ کر کے بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔
مظلوم شہید کے کزن امیر الشمری کے مطابق عوض ایک چھوٹی شاحنہ (پک اپ گاڑی) پر کچھ ضرورت کا سامان خریدنے نکلا تھا کہ عراقی صحرا میں قابض اسرائیل کے اس فوجی اڈے کے قریب پہنچنے پر اسرائیلی فائرنگ کا نشانہ بن گیا اور اس سفاکیت نے اس کی جان لے لی۔
اخبار “نیویارک ٹائمز” کی رپورٹ کردہ روایات کے مطابق الشمری نے النخیب کے قریب ایک دور دراز علاقے میں ہیلی کاپٹر، خیمے اور ایک فیلڈ رن وے دیکھنے کے بعد عراقی حکام کو مطلع کیا تھا جس کے فوراً بعد ہیلی کاپٹر سے ان پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی جو ان کی شہادت کا سبب بنی۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ عراقی افواج نے بعد میں اس مقام پر ایک تلاشی و استطلاع مہم روانہ کی تھی لیکن ان پر بھی وہاں فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ایک عراقی فوجی جاں بحق اور دو دیگر زخمی ہو گئے جبکہ دو عسکری گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں جس کے بعد اس فورس کو علاقے سے پیچھے ہٹنا پڑا۔
عراقی فوج میں مغربی فرات فورسز کے کمانڈر میجر جنرل علی الحمدانی نے کہا کہ فوج کو کئی ہفتوں سے مغربی صحرا میں اسرائیلی سرگرمیوں کا شبہ تھا اور انہوں نے مزید کہا کہ عراقی حکومت اس معاملے پر اب تک مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
واشنگٹن کے مجرمانہ کردار پر اٹھتے سوالات
اسرائیلی اڈوں کے بارے میں امریکہ کو پہلے سے علم ہونے کی معلومات نے عراق کے اندر ایک وسیع بحث اور غصے کو جنم دیا ہے بالخصوص جب عراقی حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ سکیورٹی پروٹوکولز کے تحت واشنگٹن اس بات کا پابند ہے کہ وہ عراقی سرزمین پر کسی بھی غیر ملکی عسکری سرگرمی کے بارے میں بغداد کو لازمی مطلع کرے۔
عراقی پارلیمنٹ کی خاتون رکن وعد القدو نے اس معاملے پر منعقدہ ایک خفیہ پارلیمانی بریفنگ سیشن میں شرکت کے بعد کہا کہ جو کچھ ہوا ہے وہ عراق کی خودمختاری اور اس کے عوام کی غیرت و وقار کے ساتھ کھلم کھلا کھلواڑ اور شدید استہزاء ہے۔
دوسری طرف امریکی سنٹرل کمانڈ نے اس معاملے پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے مکمل گریز کیا جبکہ رپورٹس میں پینٹاگان کے سابق حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی افواج کے درمیان انتہائی قریبی کوآرڈینیشن کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے یہ امکان “نہ ہونے کے برابر” ہے کہ واشنگٹن عراق کے اندر قابض اسرائیل کی موجودگی سے واقف نہ ہو۔
ایران پر مسلط کردہ جنگ کو سپورٹ کرنے والے اڈے
رپورٹس کے مطابق قابض اسرائیل نے ان مقامات کو ایران کے ساتھ حالیہ جنگ سے جڑے انتظامات کے تحت استعمال کیا جس میں عسکری کارروائیوں کے دوران طیاروں کے گرائے جانے کے خدشے کے پیشِ نظر اسرائیلی فضائیہ کے ریسكيو گروپس اور سپیشل فورسز کی وہاں تعیناتی شامل تھی۔
ذرائع نے مغربی عراق کے ایک دوسرے صحرائی علاقے میں ایک اور خفیہ مقام کی موجودگی کی بھی بات کی ہے جس کے درست مقام کا انکشاف نہیں کیا گیا جبکہ رپورٹس میں اس بات کو قوی قرار دیا گیا ہے کہ قابض اسرائیل نے ایران کے ساتھ کسی بھی وسیع علاقائی تصادم کی تیاری کے لیے سنہ 2024ء کے اواخر سے ہی ان مقامات کو قائم کرنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی تھی۔
عراقی حکومت کی طرف سے سرکاری سطح پر تردید کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان کھلی جنگ کے سائے اور خطے میں قابض اسرائیل کی بڑھتی ہوئی سکیورٹی مداخلت کے پیشِ نظر ملک کے اندر یہ سوالات شدت اختیار کر رہے ہیں کہ ریاست اپنے مغربی علاقوں پر اپنی خودمختاری برقرار رکھنے میں کس حد تک اہل ہے۔
