مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نےبدھ کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری اپنی ننگی جارحیت کو تیز کرتے ہوئے رام اللہ اور مقبوضہ بیت المقدس میں دو فلسطینی گھروں کو زمین بوس کر دیا۔
مقامی نامہ نگاروں نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے فوجی بلڈوزروں کے ہمراہ رام اللہ کے مغرب میں واقع قصبے شقبا پر دھاوا بولا اور وہاں ایک گھر کو ڈھانے کا عمل شروع کیا۔
یہ گھر شہری عبدالحلیم ثابت کی ملکیت تھا جو دو منزلوں، ایک سوئمنگ پول اور ایک کھیل کے میدان پر مشتمل تھا جس میں خاندان کے 7 افراد رہائش پذیر تھے۔
انہدامی کارروائی کے دوران قابض فوج نے فلسطینیوں کو قریب آنے سے روکنے کے لیے شہریوں کے گھروں پر اندھا دھند براہ راست فائرنگ بھی کی۔
یاد رہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے چند روز قبل ہی شہری عبدالحلیم ثابت کو ان کا گھر مسمار کرنے کا نوٹس دیا تھا۔
دوسری جانب مقبوضہ بیت المقدس میں سفاک دشمن کی فوج نے شہر کے جنوب مشرق میں واقع السواحرہ نامی بستی میں ایک گھر کو ملیا میٹ کر دیا۔
قابض اسرائیل کی مشینوں نے بغیر اجازت تعمیرات کا بہانہ بنا کر شہری مصطفٰی عبدالغنی زعاترہ کی دو منزلہ رہائش گاہ کو ڈھانا شروع کیا۔
قابض اسرائیلی حکام مقبوضہ بیت المقدس اور اس کے گردونواح میں فلسطینی گھروں کی مسماری کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں جس کا مقصد شہر کو یہودیانا، آباد کاری میں اضافہ کرنا اور مقدس شہر پر اپنا غاصبانہ تسلط مسلط کرنا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین معطی نے گذشتہ اپریل سنہ 2026ء کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے اور القدس میں قابض دشمن کی 8120 خلاف ورزیوں کو ریکارڈ کیا ہے جن کے نتیجے میں 13 فلسطینی شہید اور 264 زخمی ہوئے۔
گذشتہ ماہ کے دوران قابض اسرائیلی فوج نے 43 گھروں کو مسمار کیا اور شہریوں کی 178 املاک کو تباہ کیا جبکہ 532 دیگر املاک کو ضبط کر لیا گیا۔
