رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ نےدنیا بھر کے متعدد جنگ زدہ علاقوں میں زنا بالبرابر اور جنسی تشدد کی مسلسل اور منظم اقسام کو دستاویزی شکل دینے کا اعلان کیا ہے اور اشارہ کیا ہے کہ ان سنگین ترین خلاف ورزیوں میں ملوث فریقوں میں قابض اسرائیلی افواج اور اس کے سفاک سکیورٹی اداروں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔
نیویارک میں تنازعات سے جڑے جنسی تشدد سے متعلق سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے تنازعات میں جنسی تشدد کے معاملات پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ پرامیلا پیٹن نے کہا کہ یہ رپورٹ صرف دو ممالک یا کسی ایک مخصوص خطے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ جنگوں سے متاثرہ 21 ممالک کا احاطہ کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بنیادی توجہ ان مظلوموں پر مرکوز ہے جن کے “جسم اور مستقبل” ان گھناؤنے جرائم کی وجہ سے تباہ کر دیے گئے ہیں چاہے وہ خواتین ہوں، جوان لڑکیاں ہوں، مرد ہوں یا معصوم بچے ہوں۔
اقوام متحدہ کی عہدیدار نے سچائی کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارے نے سنہ 2025ء کے دوران جنسی حملوں کے 31 ایسے واقعات کی مکمل تصدیق کی ہے جو قابض اسرائیل کے حراستی مراکز کے اندر یا سکیورٹی چوکیوں پر پیش آئے اور ان مظالم کا نشانہ مرد، خواتین، جوان لڑکیاں اور معصوم بچے بنے۔
پرامیلا پیٹن نے مزید دلدوز تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کے خلاف جنسی تشدد کو “تشدد اور تذلیل کے ایک باقاعدہ حصے کے طور پر” استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ رپورٹ میں جن ملوث فریقوں کے نام شامل کیے گئے ہیں ان میں قابض اسرائیل کے سکیورٹی ادارے، قابض اسرائیلی فوج اور اس کے مخصوص جلاد یونٹس بشمول انسدادِ دہشت گردی کا ونگ “یمام” شامل ہیں۔ انہوں نے واضع کیا کہ یہ لرزہ خیز خلاف ورزیاں قابض اسرائیل کے فوجی کیمپوں اور حراستی مراکز کے اندر گرفتاری اور تفتیش کے دوران ڈھائی گئیں۔
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ تمام بھیانک واقعات مجرموں کے “سزا سے تقریباً مکمل فرار اور استثنیٰ کے ماحول” میں پیش آئے جبکہ مظلوموں کو ایسی سنگین دھمکیاں دی جاتی تھیں جو انہیں ان مظالم کی رپورٹ کرنے سے روکتی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے مانیٹرنگ سسٹم کو اب بھی غزہ کی پٹی میں شدید ترین رکاوٹوں کا سامنا ہے اور ریڈ کراس کو بھی مبینہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بعض حراستی مراکز تک رسائی سے روک دیا گیا ہے۔
سیکرٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ نے تاکید کی کہ انہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور قابض اسرائیل کے اپنے دورے کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کردہ حفاظتی اقدامات پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیا تھا لیکن انہوں نے واضح کیا کہ قابض اسرائیل کا ردعمل اس رپورٹ کے متن کو مکمل طور پر مسترد کرنے کی ہٹ دھرمی کی شکل میں سامنے آیا۔
اقوام متحدہ کی معزز عہدیدار نے آخر میں زور دے کر کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے اسے محض “انفرادی واقعات” قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ ایک پھیلی ہوئی بدترین وباء ہے جس کے لیے ایک جامع بین الاقوامی ردعمل کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کے تحفظ اور تنازعات سے جڑے جنسی تشدد کے ان ہولناک جرائم سے بچ جانے والے مردوں اور خواتین کے انسانی وقار کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔
