رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض صہیونی عقوبت خانوں میں قید 9400 سے زائد مظلوم فلسطینی اسیران شدید ترین ناکہ بندی، الم ناک حالات اور تذلیل و محرومی کے غیر مسبوق اقدامات کے سائے میں عید الاضحیٰ مبارک کا استقبال کر رہے ہیں۔
مرکز فلسطین برائے مطالعہ اسیران کا کہنا ہے کہ سنہ 2023ء سے تین سال قبل تک عید کا موقع اسیران کے لیے جیلوں کے اندر ایک ایسی تقریب ہوتا تھا جس کا وہ بے صبری سے انتظار کرتے تھے، وہ اپنے پاس موجود سب سے خوبصورت لباس زیب تن کرتے تھے اور کمروں کو کپڑوں اور رنگ برنگے کاغذوں سے سجاتے تھے جبکہ انتہائی معمولی وسائل کے ساتھ مٹھائیاں تیار کرتے تھے تاکہ خوشیاں بکھیر سکیں اور اپنے پختہ عزم اور بلند حوصلوں کا ثبوت دے سکیں۔
مرکز نے اس ہولناک حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد سے ان مظلوموں کے لیے خوشی کے یہ تمام مواقع اسیران کو ٹارچر کرنے اور ان کی تذلیل کرنے کے بھیانک حربوں میں تبدیل کر دیے گئے ہیں۔
مرکز نے واضح کیا کہ یہ لگاتار چھٹی عید ہے جو ان پر قابض اسرائیل کی حکومت کی اس سفاکانہ پالیسی کے تحت گزر رہی ہے جس کا مقصد انہیں نفسیاتی اور جسمانی طور پر موت کے گھاٹ اتارنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسیران اور ہماری غیور اسیر بہنیں اس سال عید الاضحیٰ کا استقبال ایک ایسے وقت میں کر رہی ہیں جب انہیں تقریباً تین سال سے اپنے پیاروں اور اہل خانہ کی ملاقات سے محروم رکھا گیا ہے، انہوں نے اصرار کیا کہ یہ ملاقاتیں اسیر کے لیے زندگی کی رگ کا درجہ رکھتی ہیں خصوصاً عیدوں اور تہواروں کے موقع پر۔
مرکز نے بیان کیا کہ ملاقاتوں پر اس ظالمانہ پابندی کے نتیجے میں کپڑوں اور سردی یا گرمی کے بستروں کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے کیونکہ جیل انتظامیہ یہ ضروریات فراہم نہیں کر رہی، جبکہ پہلے ملاقاتوں کے دوران ان کے اہل خانہ کچھ کپڑے اور کھانے پینے کی اشیاء اندر پہنچا دیتے تھے، اب کینٹین کی مکمل بندش نے ان بنیادی اشیاء کی قلت کو بحران کی شکل دے دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسیران کو مسلسل جبر اور وحشیانہ مہمات کا سامنا ہے جس میں انہیں ہتھکڑیاں لگا کر گھنٹوں زمین پر ڈال دینا، بدترین تشدد کا نشانہ بنانا اور ان پر زہریلی گیس چھڑکنا شامل ہے، جبکہ زخمی ہونے والوں کو کوئی طبی امداد نہیں دی جاتی اور صبح سویرے سے لے کر رات گئے تک ان کے گدے اور کمبل بھی چھین لیے جاتے ہیں۔
مرکز نے تصدیق کی ہے کہ ہماری اسیر بہنیں بھی ایک منظم جبر کا شکار ہیں جس میں ان پر بیہمانہ تشدد، توہین، گیس کا چھڑکاؤ اور بعض کو تنہائی کی کوٹھڑیوں میں منتقل کرنا شامل ہے، اس کے علاوہ انہیں مسلسل بھوکا رکھنے کی پالیسی، ملاقاتوں پر پابندی اور کمروں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کو ٹھونسنے کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل اسیران کے خلاف دانستہ طور پر بھوک کی پالیسی پر عمل پیرا ہے تاکہ ان کے جسموں کو کمزور کر کے بیماریوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے، طبی دیکھ بھال اور علاج کے مکمل فقدان کے باعث عام بیماریاں بھی بگڑ کر جان لیوا شکل اختیار کر رہی ہیں۔
مرکز نے جیلوں میں خارش (سکابیز) کی بیماری پھیلنے اور ہزاروں اسیران کے اس سے متاثر ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ قیدیوں کی تعداد کل اسیران کے چوتھائی حصے کے قریب پہنچ چکی ہے، ان میں سے بعض کئی ماہ سے اس موذی مرض میں مبتلا ہیں اور ان کے جسموں پر بڑے بڑے پھوڑے، زخم اور شدید قسم کے انفیکشن نمودار ہو چکے ہیں۔
مرکز نے ایک بار پھر عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ ان بے گناہ اسیران کو تحفظ فراہم کر کے ان کے مصائب کو کم کیا جا سکے اور خصوصاً عید کے ان ایام میں قابض اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے۔
سرکاری فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق قابض اسرائیل کے جلاد اب بھی سکیورٹی کیمپوں اور جیلوں میں 9400 سے زائد اسیران کو حراست میں رکھے ہوئے ہیں، جن میں 86 اسیر خواتین اور 3376 انتظامی قیدی شامل ہیں جنہیں بغیر کسی جرم اور مقدمے کے قید کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ قابض اسرائیل کی انتظامیہ نے 1283 اسیران کو غیر قانونی جنگجو (مقاتلین غیر شرعیین) کے جھوٹے زمرے میں ڈال رکھا ہے، یہ ایک ایسا استثنائی اور جابرانہ قانونی ڈھانچہ ہے جو فلسطینیوں کی بلاجواز گرفتاریوں اور انہیں جبری طور پر لاپتہ رکھنے کے صہیونی ہدف کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
