نیویارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر کی سرکاری ترجمان لانییس کولنز نے تصدیق کی ہے کہ فلسطین نے ایشیائی گروپ کی جانب سے جنرل اسمبلی کے نائب صدر کے ایک عہدے کے لیے سفیر ریاض منصور کی نامزدگی واپس لے لی ہے اور اب لبنان نے اس عہدے کے لیے خود کو نامزد کیا ہے۔
رائیٹرز نیوز ایجنسی نے امریکی وزارت خارجہ کے ایک اندرونی مکتوب کے حوالے سے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اقوام متحدہ میں فلسطینی وفد کے ویزے منسوخ کرنے کی دھمکی دی تھی اگر فلسطینی مندوب نے جنرل اسمبلی کے نائب صدر کے عہدے کے لیے اپنی نامزدگی واپس لینے سے انکار کیا۔
اس سے قبل کولنز نے کہا تھا کہ فلسطین نے ایشیائی گروپ کی طرف سے پیش کیے گئے نائب صدر کے ایک عہدے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے جس میں چار عہدوں کے لیے چار نام شامل تھے اور وہ نام افغانستان، عراق، انگولا اور فلسطین کے تھے۔ اگر فلسطین اپنا نام واپس نہ لیتا تو اسے یہ عہدہ مل جاتا۔
واضح رہے کہ یہ عہدہ انتظامی اور علامتی نوعیت کا ہے کیونکہ جنرل اسمبلی کے 21 نائب صدور ہوتے ہیں۔ ان کی ذمہ داریوں میں جنرل اسمبلی کے ان بعض اجلاسوں کی صدارت کرنا شامل ہے جن کی صدارت صدر کرنے سے قاصر ہوں، اس کے علاوہ دیگر انتظامی امور بھی ان کے سپرد ہوتے ہیں۔ جنرل اسمبلی آئندہ سیشن کے لیے اپنے صدر اور دیگر عہدوں جیسے کہ نائب صدور کے انتخاب کے لیے منگل کو اپنا اجلاس منعقد کرے گی۔
امریکی میڈیا نے امریکی سفارتی لیکس کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکی وزارت خارجہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں موجود سفارت کاروں کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کے عہدیداروں پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے نائب صدر کے ایک عہدے کے لیے فلسطینی سفیر ریاض منصور کی نامزدگی واپس لے لیں۔ اس سلسلے میں نیویارک میں اقوام متحدہ کے لیے فلسطینی مشن کو ویزے منسوخ کرنے کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔ نیویارک میں فلسطینی فریق نے ان معلومات کی تصدیق یا تردید کے حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
ریاض منصور اس سے قبل بھی اسی طرح کی امریکی دھمکیوں اور دباؤ کے بعد چند ماہ قبل جنرل اسمبلی کی صدارت کے عہدے سے اپنی نامزدگی واپس لے چکے ہیں۔ گذشتہ فروری کے مہینے میں جنرل اسمبلی کے موجودہ سیشن کی صدر اینالینا بیربوک نے رکن ممالک کو بھیجے گئے ایک خط میں اعلان کیا تھا کہ اقوام متحدہ میں فلسطین کے مندوب ریاض منصور جنرل اسمبلی کے 81 ویں سیشن کی صدارت کے لیے اپنی نامزدگی سے دستبردار ہو گئے ہیں۔
امریکہ اقوام متحدہ کے ساتھ اپنے معاہدے کے تحت ہیڈکوارٹر کے میزبان ملک کی حیثیت سے نیویارک میں اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ سفارت کاروں کو داخلے کے ویزے دینے اور سہولیات فراہم کرنے کا پابند ہے، لیکن وہ ان ممالک یا شخصیات کے خلاف جو اس کی خارجہ پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرتے، داخلے اور رہائش کے ویزوں کو مستقل طور پر ایک دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔