مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی نسل کشی اور مظالم کا سلسلہ تیز کرتے ہوئے الخلیل شہر کے جنوبی علاقے میں واقع “سدہ الفحص” کے قریب قابض اسرائیل کی سفاک فوج نے فائرنگ کر کے ایک فلسطینی نوجوان کو شدید زخمی کر دیا، جبکہ طوباس کے جنوب میں وحشی یہودی آباد کاروں کے حملے میں ایک شہری زخمی ہوا اور مقبوضہ بیت المقدس کے مشرق سے ایک اور فلسطینی کو اغوا کر لیا گیا۔ ان مظالم کے ساتھ ہی قابض صیہونی فوج نے بیت لحم میں ایک رہائشی عمارت پر زبردستی قبضہ کر کے اسے فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ الخلیل میں قابض اسرائیل کی فوج نے کمال احمد ابو ترکی نامی نوجوان پر اس وقت اندھا دھند لائیو گولیاں برسا دیں جب وہ ایک فوجی چوکی کے قریب سے اپنی الیکٹرک بائیک پر گزر رہا تھا، جس کے نتیجے میں ایک گولی اس کے کندھے پر لگی اور وہ شدید زخمی ہو گیا۔
فلسطینی ہلالِ احمر کی امدادی ٹیموں نے زخمی نوجوان کو ہسپتال منتقل کرنے کے بعد بتایا کہ اس کی حالت درمیانی ہے۔
ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ قابض صیہونی فوجیوں نے الخلیل شہر کے جنوبی داخلی راستے پر قائم “سدۃ الفحص” چوکی پر اس نوجوان کو براہِ راست نشانہ بنایا۔
غزہ کی پٹی پر جاری مہیب صیہونی جارحیت کے آغاز ہی سے غاصب اسرائیلی فوج نے “سدہ الفحص” کے راستے کو مستقل طور پر بند کر رکھا ہے، جو الخلیل شہر اور اس کے صنعتی علاقے کا جنوبی داخلی راستہ ہے۔ قابض اسرائیل یہاں کے لوہے کے گیٹ کو مٹی کے پشتے اور کنکریٹ کے بلاکس لگا کر بند رکھتا ہے، جس سے معصوم شہریوں کی نقل و حرکت اور مال بردار ٹرکوں کی آمد و رفت شدید متاثر ہوتی ہے۔
الخلیل ہی کے علاقے میں صیہونی درندگی کا ایک اور واقعہ سامنے آیا جہاں قابض اسرائیل کے بلڈوزروں اور گاڑیوں نے شہر کے شمال میں واقع قصبے بیت امر میں فلسطینیوں کی سینکڑوں دونم زرعی زمین کو وحشیانہ طور پر مسمار کر دیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق قابض اسرائیل کی مشینری نے بیت امر قصبے کے مشرق میں واقع “جبل وردان” کے علاقے میں سینکڑوں دونم زرعی اراضی کو تہس نہس کر دیا، جہاں بادام اور انگور کے سینکڑوں پھلدار درخت اگے ہوئے تھے جنہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا۔
طوباس سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مقامی ذرائع نے بتایا کہ مکار یہودی آباد کاروں نے شہر کے جنوب مشرق میں واقع الرأس الاحمر کے علاقے میں ایک مقامی فلسطینی شہری سلیمان جمیل بنی عودہ کے خیموں پر دھاوا بول دیا اور ان پر وحشیانہ تشدد کیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید چوٹیں آنے کے باعث زخمی ہو گئے۔
اسی فاشسٹ سلوک کے تسلسل میں، انسانی حقوق کی تنظیم “البیدر” نے تصدیق کی ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کے شمال مشرق میں واقع قصبے جبع کے مشرقی بدو تمدن “المعازی” پر یہودی آباد کاروں نے دھاوا بولا، متعدد گھروں میں گھس کر ان کی تصاویر بنائیں اور وہاں سے ایک فلسطینی شہری احمد عراعرہ کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
حقوقِ انسانی کی تنظیم نے مزید بتایا کہ اس وحشیانہ حملے کے باعث نہتے مکینوں بالخصوص خواتین اور بچوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ یہ بزدلانہ حملہ مقبوضہ بیت المقدس کے شمال مشرق میں یہودی آباد کاروں کی بڑھتی ہوئی غنڈہ گردی اور توسیعی بستیوں کے قیام کے تناظر میں بدو برادریوں کا جینا دوبھر کرنے اور انہیں مٹانے کی مسلسل صیہونی پالیسی کا حصہ ہے۔
بیت لحم میں جاری صیہونی غصب کے حوالے سے دیہاتی کونسل کے رکن ذیاب مشاعلہ نے بتایا کہ قابض اسرائیل کی ظالم فوج نے شہر کے جنوب مغرب میں واقع گاؤں الجبعہ کے وسط میں ایک زیرِ تعمیر عمارت پر زبردستی قبضہ کر لیا۔ یہ عمارت مقامی شہری ہیثم حمدان کی ملکیت ہے، جسے غاصب فوج نے ایک بیرک اور فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے۔
