Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

اسرائیل کا مغربی کنارے میں اراضی پر قبضے کا نیا منصوبہ بے نقاب

مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کی حکومت نے بدھ کے روز 250 ملین شیکل کی مالیت کے ایک وسیع و عریض منصوبے کی منظوری دی ہے جس کا مقصد مغربی کنارے میں آثارِ قدیمہ کے مقامات پر غاصبانہ قبضہ جمانا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ صیہونی حکومت اس اقدام کے ذریعے فلسطینی اراضی کو اپنے اندر ضم کرنے کے سازشی منصوبوں کو آگے بڑھانے اور مقبوضہ فلسطینی زمینوں پر صیہونی تسلط کو مزید مضبوط کرنے کے لیے “آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثے” کے فائل کا مکروہ استعمال کر رہی ہے۔

یہ فیصلہ قابض اسرائیل کی حکومت کے وزیراعظم کے دفتر اور وزارتِ مالیات، سیاحت، ثقافتی ورثہ اور آباد کاری کی طرف سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں سامنے آیا ہے جس میں اس منصوبے کو “بے مثال” قرار دیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق اس منصوبے میں مغربی کنارے، وادی اردن اور الخلیل کے بیابانوں میں صیہونیوں کے بقول ثقافتی ورثے اور آثارِ قدیمہ کے مقامات کو بچانے، محفوظ رکھنے اور ترقی دینے کے ساتھ ساتھ صیہونیوں کے لیے وہاں تک رسائی کو آسان بنانا شامل ہے۔

مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کے تحت نئے ثقافتی مراکز قائم کیے جائیں گے سیاحتی انفراسٹرکچر کو وسعت دی جائے گی اور آثارِ قدیمہ کے مقامات کو “چوری اور تباہی” سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات سخت کیے جائیں گے، اس کے ساتھ ساتھ صیہونی حکام کے اپنے الفاظ کے مطابق “خطے میں یہودی عوام کی تاریخی میراث کے ساتھ اسرائیلی عوام کے تعلق کو مزید گہرا کیا جائے گا”۔

بیان میں اشارہ کیا گیا ہے کہ نئے ثقافتی مراکز “تحقیق، تعلیم، سیاحت اور سماجی ترقی کے بنیادی ستون” بنیں گے جن میں زائرین کے لیے مراکز، انٹرایکٹو شوز اور تعلیمی سرگرمیاں شامل ہوں گی، نیز تعلیمی و تحقیقی اداروں کے ساتھ تعاون بھی بڑھایا جائے گا۔

اس منصوبے میں خطے میں عوامی سیاحتی انفراسٹرکچر کو ترقی دینے کا کئی سالہ پروگرام بھی شامل ہے جس کی لاگت کروڑوں شیکل تک پہنچتی ہے، جس کا مقصد آثارِ قدیمہ کے ان مقامات کو قابض اسرائیل کے اندر “سیاحت کے بڑے مراکز” میں تبدیل کرنا ہے۔

قابض حکومت نے یہ جھوٹا دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد ان علاقوں میں مستقل اور منظم سویلین و سیاحتی موجودگی قائم کرنا ہے تاکہ یہ موجودگی آثارِ قدیمہ کی چوری یا ان کی تباہی کے خلاف “سدِ راہ” بن سکے، اور خطے کی تاریخی شناخت کے ساتھ صیہونی عوام کے تعلق کو مضبوط کیا جا سکے۔

دوسری جانب قابض اسرائیل کی حکومت کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ “انتہائی اہم قومی اور تاریخی حیثیت” کا حامل ہے، انہوں نے مزید ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا: “اس سال جب ہم مغربی کنارے اور ہمارے وطن کے دل مقبوضہ بیت المقدس کی آزادی کی ساٹھویں سالگرہ منا رہے ہیں، اسرائیلی حکومت ایک اہم فیصلہ لے رہی ہے”۔

بنجمن نیتن یاھو نے مزید دعویٰ کیا کہ “تقریباً ہر پتھر، پہاڑی اور ثقافتی ورثے کا مقام اپنے اندر قابض اسرائیل کی سرزمین پر یہودی عوام کی ہزاروں سالہ تاریخ سمیٹے ہوئے ہے”، ان کا ماننا تھا کہ ان مقامات پر سرمایہ کاری کا مقصد “ماضی کو محفوظ بنانا، مستقبل کو یقینی بنانا اور قابض اسرائیل کی سرزمین کے ساتھ وابستگی کو مضبوط کرنا ہے”۔

اس کے برعکس فلسطینی عوام اور رہنماؤں کا موقف ہے کہ قابض حکام آثارِ قدیمہ کی فائل کو زمین پر نئے حقائق مسلط کرنے کے لیے ایک سیاسی اور قانونی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ صیہونی دشمن وسیع علاقوں کو آثارِ قدیمہ یا ثقافتی ورثے کے مقامات کے طور پر نامزد کر دیتا ہے تاکہ یہودی آباد کاروں کے لیے بستیوں کی تعمیر و تسلط کو پھیلایا جا سکے اور مستقبل میں مغربی کنارے سے کسی بھی ممکنہ انخلا کی راہ میں مستقل رکاوٹیں کھڑی کی جا سکیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan