نیو یارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسرائیلی دستاویزی فلم ’نازا‘ امریکی سنیما گھروں کی زینت بننے جا رہی ہے، جو اپنے ساتھ غزہ کی پٹی میں نشانہ بنانے کی کارروائیوں کے حوالے سے سابق اسرائیلی فوجیوں اور عہدیداروں کی گواہیاں لے کر آ رہی ہے، اور اس کے پروڈیوسروں کے بقول یہ فلم جنگ کے دوران اہداف کے انتخاب کے طریقہ کار اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے اندھا دھند استعمال کا پردہ فاش کرتی ہے۔
امریکہ میں اس فلم کی نمائش ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب قابض اسرائیل کے لیے امریکی عسکری اور سیاسی حمایت پر بحث کا سلسلہ جاری ہے، غزہ پر مسلط کردہ جنگ، اس کے نتیجے میں ہونے والی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں، تباہی اور امداد کی ترسیل پر عائد پابندیوں کے خلاف بین الاقوامی حقوق انسانی کی تنقید میں شدت آ چکی ہے۔
عسکری ادارے کے اندر سے 100 سے زائد گواہیاں
فلم ’نازا‘ ایک سو سے زائد خفیہ ذرائع کی گواہیوں پر مبنی ہے، جن میں سابق اسرائیلی فوجی بھی شامل ہیں، جنہوں نے جنگ کے دوران ان کارروائیوں میں حصہ لیا تھا یا انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، جبکہ انتقامی کارروائی کے خوف سے ان کی شناخت اور آوازوں کو مخفی رکھا گیا تھا۔
فلم میں شامل کئی افراد کو کاغذ پر ان ہدفی نظاموں کے کام کرنے کے طریقہ کار بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے جن کا وہ تذکرہ کر رہے ہیں، جبکہ فلم کے سازندگان اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان گواہیوں کی جانچ پڑتال کی گئی ہے اور ان کے بیانات دینے والوں نے اپنی شناخت کو صیغہ راز میں رکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔
فلم میں شرکاء کے بیان کردہ بیانات کے مطابق یہ بات سامنے لائی گئی ہے کہ غزہ میں نگرانی کے اعداد و شمار کے انبار کو پروسیس کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی سسٹمز کا استعمال کیا گیا، اور ایسے اہداف کی نشاندہی کی گئی جن کے بارے میں قابض ریاست کا یہ گمان تھا کہ ان کا تعلق اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ سے ہے، اس کے علاوہ ایسے دیگر سسٹمز کا بھی ذکر کیا گیا جن کے متعلق بتایا گیا کہ وہ ایسی عمارتوں اور تنصیبات کی تجویز دیتے ہیں جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ان گواہیوں کے مطابق ان آلات نے دسیوں ہزار اہداف پر مشتمل ڈیٹا بیس کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ ایک ذریعے نے ایک ایسے ہدف کو نشانہ بنانے کے عمل کا ذکر کیا جس کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کی منظوری اس تخمینے کے باوجود دی گئی تھی کہ اس کے دوران تقریباً 500 عام شہریوں کے جاں بحق ہونے کا احتمال موجود تھا۔
دوسری جانب قابض فوج اس بیانیے کی تردید کرتی ہے اور کہتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے آلات خود مختارانہ طور پر بمباری کے فیصلے نہیں کرتے اور اہداف کا انتخاب انٹیلی جنس افسران کے ذریعے کیا جاتا ہے، جبکہ زمینی کمانڈرز حملوں کو عملی جامہ پہنانے کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرتے ہیں۔
قابض فوج اس امر کی بھی تصدیق کرتی ہے کہ اس کے بقول من مانی کے ضوابط عام شہریوں اور جنگجوؤں کے درمیان فرق کرنے کو لازم قرار دیتے ہیں، اور یہ کہ وہ عام شہریوں کے جانی نقصان کو کم سے کم کرنے کے لیے اقدامات کرتی ہے۔
نئی گواہیاں نشانہ بنانے کے معاملے کو دوبارہ کھولتی ہیں
فلم ’نازا‘ کی اہمیت صرف ان معلومات کو بے نقاب کرنے تک محدود نہیں جو اس سے قبل نامعلوم تھیں، بلکہ اس کی گواہیاں ان صحافتی تحقیقات کے سلسلے کی ایک کڑی کی حیثیت رکھتی ہیں جو غزہ پر جنگ کے دوران نشانہ بنانے کے طریقہ کار اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے استعمال کا احاطہ کرتی ہیں۔
اس سے قبل صحافتی تحقیقات میں معلومات کے تجزیے اور اہداف کے تعین کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر روشنی ڈالی گئی تھی، اسی طرح ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھی ان تحقیقات کو شائع کیا تھا جن میں اس بات کا ذکر تھا کہ قابض فوج نے جنگ کے دوران امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے تیار کردہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کا استعمال کیا، جو بعد میں رپورٹوں کے اس سلسلے کا حصہ بنے جنہیں بین الاقوامی رپورٹنگ کے زمرے میں پلٹزر انعام سے نوازا گیا۔
جنگ میں ان ٹیکنالوجیز کے استعمال نے وسیع پیمانے پر بحث چھیڑ دی، یہاں تک کہ یہ معاملہ خود ٹیکنالوجی کمپنیوں تک جا پہنچا؛ چنانچہ مائیکروسافٹ کمپنی نے عسکری کارروائیوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلقہ تنازع کے بعد اسرائیلی فوج کی بعض مصنوعات تک رسائی کو محدود کر دیا۔
وینس فیسٹیول سے لے کر امریکی سکرینز تک
فلم ’نازا‘ کو سب سے پہلے وینس فلم فیسٹیول میں پیش کیا گیا تھا، جہاں اسے تقریباً 25 منٹ تک جاری رہنے والی داد اور تالیاں ملیں اور اس کے بعد اس کے پیدا کردہ تنازع نے اسرائیلی اندرونی حلقوں کا رخ کیا۔
فلم کے ڈائریکٹرز یووال ابراہام اور راشیل زور کو قابض اسرائیل کے اندر تنقید اور دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ قابض حکومت کے سربراہ بنیامن نتن یاھو نے فلم کو ’یہود دشمنی‘ پر مبنی قرار دیا، جبکہ ایک اسرائیلی وزیر نے اس کی تیاری میں شامل ہونے والوں کی شہریت منسوخ کرنے کی دھمکی دی ہے۔
ابراہام کا کہنا ہے کہ وہ اس بات سے خائف ہیں کہ وہ قابض اسرائیل واپس نہیں جا سکیں گے۔
نیویارک فلم فیسٹیول میں فلم کی نمائش کے دوران مظاہرین ہال کے باہر جمع ہوئے اور سات اکتوبر سنہ 2023ء کے حملے کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔ ابراہام نے اس حملے کی مذمت کی، لیکن اس بات پر زور دیا کہ ان کے موقف کے مطابق اس سے غزہ میں عام شہریوں کے قتل یا امداد کی تقسیم کے مقامات پر جاں بحق ہونے والے افراد کے معاملے کی توجیہہ پیش نہیں کی جا سکتی۔
فلم امریکی ذمہ داری کے باب کو کھولتی ہے
تاہم، فلم ’نازا‘ عسکری ادارے کے اندر کی گواہیاں پیش کرنے پر ہی اکتفا نہیں کرتی، بلکہ اس کے سازندگان بحث کو ایک اور سطح پر لے جانے کی کوشش کرتے ہیں، جو امریکہ کی طرف سے جنگ کی ذمہ داری سے عبارت ہے، کیونکہ واشنطن نے قابض اسرائیل کو جو عسکری اور سیاسی حمایت فراہم کی ہے۔
ابراہام کا کہنا ہے کہ امریکہ کی سفارتی اور عسکری حمایت کے بغیر اسرائیلی عسکری کارروائیاں اس شکل میں ہرگز رونما نہ ہوتیں، اور انہوں نے امریکی عوام کو اس کردار پر غور کرنے کی دعوت دی جو ان کی حکومت نے غزہ کی جنگ میں ادا کیا۔
گذشتہ برس شائع ہونے والی ایک تعلیمی مطالعے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جوبائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جنگ کے پہلے دو سالوں کے دوران قابض اسرائیل کے لیے کم از کم 21.7 ارب ڈالر کی عسکری امداد فراہم کی۔
یہ سب کچھ غزہ کی جنگ کے حوالے سے امریکہ کے اندر جاری بحث کے تسلسل میں ہو رہا ہے، جبکہ قابض اسرائیل پر فلسطینیوں کے خلاف سنگین نوعیت کی خلاف ورزییاں کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، جن میں نسل کشی کے الزامات بھی شامل ہیں، جو ہلاکتوں، تباہی اور امداد کے داخلے پر عائد پابندیوں کے حجم کی بنیاد پر لگائے گئے ہیں، اور یہ ایسے الزامات ہیں جنہیں قابض اسرائیل سختی کے ساتھ مسترد کرتا ہے۔
محدود نمائش اور پھر عوام تک وسیع رسائی
فلم ’نازا‘ کو امریکہ میں کسی روایتی سنیما ڈسٹریبیوٹر کے بغیر پیش کیا جا رہا ہے، اور اس کی نمائش کا آغاز نیویارک شہر کے ’آئی ایف سی‘ مرکز سے فرانسیسی آزاد پروڈ اور ڈسٹریبیوشن کمپنی ’ایم کے ٹو‘ کے تعاون سے ہوا۔
یہ طے شدہ ہے کہ یہ فلم نو اکتوبر کو دیگر امریکی شہروں میں پہنچے گی، جن میں آسٹن، شکاگو، لاس اینجلس اور سیٹل شامل ہیں، جبکہ یہ نومبر کے آخر میں ’گارڈین‘ اخبار کی ویب سائٹ کے ذریعے مفت میں دستیاب ہوگی۔
یہ قدم امریکی ڈائریکٹرز کے اسی تجربے کے بعد اٹھایا گیا ہے جو ان کی فلم ’کوئی اور زمین نہیں‘ کے سلسلے میں تھا، جسے امریکہ میں خود سے پیش کیا گیا تھا اور اس نے اکیڈمی ایوارڈ جیتنے کے بعد مقامی باکس آفس پر 2.5 ملین ڈالر سے زائد کی کمائی کی تھی۔
فلم ’نازا‘ کے سازندگان کے نزدیک، امریکی عوام تک اس فلم کی رسائی کا معاملہ صرف جنگ کے بارے میں اسرائیلی فوجیوں کی گواہیاں پیش کرنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ اس کوشش کا حصہ ہے جس کے ذریعے غزہ کی جنگ کی اس حمایت کو ایک ایسے عوام کے سامنے لا کھڑا کیا جائے جن کی حکومت اسرائیلی عسکری کارروائیوں کے ایک حصے کی مالی اعانت کرتی ہے، اور جنگ کے برسوں کے دوران فلسطینیوں پر جو کچھ بیتی، اس پر ایک وسیع تر بحث کا آغاز کیا جائے۔
