Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

Palestine

مفتی اعظم فلسطین کی مسجد ابراہیمی کی بندش کی شدید مذمت

الخلیل ۔ (مرکزاطلاعات فلسطین فاوؑنڈیشن)یروشلم اور فلسطینی علاقوں کے مفتی اعظم الشیخ محمد حسین نے صہیونی قابض حکام کی طرف سے مسلمان نمازیوں کے سامنے یہودی تعطیلات کی آڑ میں مسجد ابراہیمی کی بندش کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کی مسجد ابراہیمی فلسطینی مسلمانوں کا ایک اہم مذہبی مرکز ہے اور اس کی بندش فلسطینی مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں صریح مداخلت ہے۔

مفتی اعظم نے کل جمعرات کی شام ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ مسجد ابراہیمی کی بندش ایک جارحیت ہے جس کی وجہ سے مسلمان نمازیوں کو اذان دینے اور نماز ادا کرنے سے محروم کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف مسجد ابراہیمی میں یہودیوں کو کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ آبادکار پوری آزادی اور تحفظ کے احساس کے ساتھ مسلمانوں کے مقدس مقام میں گھس کر تلمودی تعلیمات کے مطابق رسومات ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ توحید پرست مذاہب عبادت کے لیے مختص مقدس مقامات کو چھونے کی ممانعت کرتے ہیں اور ان کی حرمت کا اثبات کرتے ہیں لیکن قابض حکام اس سے انکار کرتے ہیں۔

مفتی اعظم نے فلسطینی مساجد پر یہودی شرپسندوں کے حملوں کو روکنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی دوسرے مذہب کے پیروکاروں کو یہ حق نہیں کہ وہ مسلمانوں کو ان کی عبادت گاہوں تک پہنچنے سے روکیں۔ ہم مسجد ابراہیمی میں اسرائیلی فوج اور پولیس کی طرف سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو مسترد کرتے ہیں۔

قابض فوج نے گذشتہ منگل کی رات 10:00 بجے سے مسجد ابراہیمی کو یہودیوں کی تعطیلات منانے کے بہانے فلسطینی نمازیوں کے سامنے 24 گھنٹے کے لیے بند کر دیا اور اسے مکمل طور پر آباد کاروں کے لیے کھول دیا۔

ابراہیمی مسجد کے ڈائریکٹر غسان الرجبی نے اخباری بیانات میں وضاحت کی کہ تعطیلات کے دوران قابض فوج فلسطینیوں کو مسجد ابراہیمی میں داخل ہونے سے روکتی ہے، اس کے دروازے اور داخلی راستوں کو فوجی چوکیوں کے ذریعے بند کر دیتی ہے اور نماز اور اذان دینے پرپابندی عاید کردی جاتی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan