Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

اسرائیل استنبول میں اپنا قونصل خانہ بند کرنے پر غور کرنے لگا

استنبول – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غاصب اور غرض مند قابض اسرائیلی حکام استنبول شہر میں واقع اپنے اس قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کرنے کے آپشن پر غور کر رہے ہیں جو سنہ 1949ء میں قائم کیا گیا تھا اور اسے صہیونی وجود کے قدیم ترین سفارتی مشنز میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ انتہائی قدم گذشتہ اپریل کے مہینے میں قونصل خانے کے ارد گرد ہونے والے فائرنگ کے ایک واقعے کے بعد اٹھایا جا رہا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی (اے ایف پی) نے ایک صہیونی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ انقرہ میں قائم قابض اسرائیل کا سفارت خانہ فی الحال کھلا رہے گا، اگرچہ وہاں ان کا کوئی بھی سفارتی عملہ موجود نہیں ہے۔ واضح رہے کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء کو غزہ کی پٹی پر غاصب صہیونیوں کی مسلط کردہ وحشیانہ جنگ اور نسل کشی کے آغاز کے فوراً بعد سکیورٹی وجوہات کی بنا پر سفارت خانے اور قونصل خانے کے تمام صہیونی ملازمین کو وہاں سے نکال لیا گیا تھا اور وہ تب سے غائب ہیں۔

مذکورہ ذریعے نے بتایاکہ اس وقت سفارت خانے اور قونصل خانے کے اندر صرف مقامی ترک ملازمین ہی کام کر رہے ہیں، اور انہوں نے مزید کہا کہ “یہ معاملہ ابھی زیر غور ہے اور ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا”۔

ذریعے نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ زلزلے سے بچاؤ کے اقدامات کے فریم ورک کے تحت اس عمارت کو گرانے کا ایک منصوبہ بھی موجود ہے جس میں یہ قونصل خانہ قائم ہے، جبکہ بعض صہیونی حلقوں کا ماننا ہے کہ “ان خالی دفاتر کو برقرار رکھنا اور ان کے اخراجات اٹھانا بجٹ پر بہت بڑا مالی بوجھ بن رہا ہے”۔

یاد رہے کہ گذشتہ سات اپریل کو قونصل خانے کے قریبی علاقے میں فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیا تھا جس کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی تھی، اس کارروائی میں ایک حملہ آور مارا گیا تھا اور دو پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے تھے۔ اس وقت ترکیہ کے حکام نے مزید تفصیلات بتائے بغیر اس حملے کے پیچھے “دین کا استحصال کرنے والی ایک دہشت گرد تنظیم” کا ہاتھ ہونے کا الزام لگایا تھا۔

ایک باخبر ذریعے نے اس سے قبل فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو تصدیق کی تھی کہ اس وقت ترکیہ کی سرزمیں پر کوئی بھی اسرائیلی سفلو کار موجود نہیں ہے، اور انہوں نے واضح کیا کہ غزہ کی پٹی پر مسلط صہیونی جنگ کے بعد پیدا ہونے والے حالات اور سکیورٹی وجوہات کی بنا پر سفارتی مشنز کو خالی کرانے کے اس عمل میں ترکیہ اور خطے کے دیگر ممالک شامل تھے۔

غزہ کی پٹی پر مسلط کی جانے والی اس ہولناک جنگ کے آغاز کے بعد سے ترکیہ کے صدر طیب ایردوآن نے قابض اسرائیل اور اس کی سفاک حکومت کے سربراہ بنجمن نیتن یاھو پر اپنی سخت تنقید اور حملوں کو مزید تیز کر دیا ہے۔ دونوں فریقین کے درمیان جاری شدید سیاسی تناؤ اور کھنچاؤ کے سائے میں، وہاں تعینات آخری ترک سفیر کی ریٹائرمنٹ کے بعد، اس وقت قابض اسرائیل میں ترکیہ کی نمائندگی محض ایک ناظم الامور (قائم مقام سفیر) کر رہا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan