Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

الخلیل

دس روزہ فوجی آپریشن ختم، قابض افواج کی واپسی کے بعد الخلیل میں شہریوں کی گھروں کو واپسی

الخلیل – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج پیر کی صبح مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل کے ان محلو ں سے پیچھے ہٹ گئیں جن پر انہوں نے چھاپہ مار کر محاصرہ کر رکھا تھا۔ یہ پیش رفت دس دنوں پر محیط اس عسکری سفاکیت کے بعد سامنے آئی ہے جس نے شہریوں کے مکانات اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا اور سینکڑوں خاندانوں کو زبردستی نقل مکانی پر مجبور کیا۔

الخلیل کے میئر یوسف الجعبری نے بتایا کہ قابض فوج صبح چھ بجے شہر کے تمام محلو ں سے نکل گئیں اور شہریوں نے اپنے گھروں کو لوٹنا اور سفاکیت سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔

الجعبری نے وضاحت کی کہ قابض فوج نے اس کارروائی کے دوران تقریباً 540 مکانات اور رہائشی یونٹوں کو عسکری بیرکوں میں تبدیل کر دیا تھا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس سفاکیت کی وجہ سے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، جس میں سڑکوں اور نشانہ بنائے گئے علاقوں کو بلڈوز کرنا، گاڑیوں کو تباہ کرنا اور شہریوں کے گھروں کو نقصان پہنچانا شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلدیہ مختلف شعبوں میں نقصانات کے حجم کا اندازہ لگانے اور ان کا احاطہ کرنے کے لیے کام کرے گی، جبکہ اس کے ساتھ ہی شہر میں زندگی تدریجی طور پر معمول پر آنا شروع ہو گئی ہے۔ چھاپوں و بندشوں کے باعث تعلیمی عمل معطل رہنے کے بعد طلبہ نے سکولوں اور یونیورسٹیوں کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔

سینکڑوں خاندانوں کی بے دخلی اور بھاری نقصانات

قابض افواج نے گذشتہ 23 اکتوبر سنہ 2026ء کو الخلیل شہر کے شمالی داخلی راستے پر واقع ایک عسکری چوکی پر فائرنگ کے واقعے کے بعد شہر پر اپنی سفاکیت کا آغاز کیا تھا۔ اس واقعے میں دو اسرائیلی اہلکار ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہو گئے تھے، جبکہ کارروائی کرنے والے دونوں افراد شہید ہو گئے تھے۔

قابض افواج نے شہر کے وسیع علاقوں بالخصوص الجلدہ، عین دیر بحہ اور خلہ المغاربہ کے محلو ں پر سخت محاصرہ قائم کیا، سڑکیں اور داخلی راستے بند کر دیے، شہریوں کے گھروں پر چھاپے مار کر تلاشی لی اور ان میں سے متعدد کو عسکری ٹھکانوں میں تبدیل کر دیا، اس دوران سینکڑوں خاندانوں کو زبر دستی اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔

الخلیل بلدیہ اور امدادی کمیٹیوں کے اعداد و شمار کے مطابق، اس سفاکیت کے نتیجے میں 537 خاندان بے گھر ہوئے جن میں تقریباً 3361 شہری شامل ہیں، جبکہ قابض انتظامیہ کے اقدامات سے متاثر ہونے والے شہریوں کی تعداد 3300 سے تجاوز کر گئی۔

قابض افواج نے مکانات اور عمارتوں کو دھماکے سے اڑا دیا اور 327 تجارتی دکانوں کو بند کر دیا، جبکہ سڑکوں کی بندش سے ہونے والے براہ راست معاشی نقصانات کا تخمینہ روزانہ 12 ملین شیکل سے زائد رہا، اس کے علاوہ بنیادی ڈھانچے اور خدماتی شعبوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

اس سفاکیت کے اثرات تعلیمی شعبے تک پھیل گئے، جہاں عسکری پابندیوں، سڑکوں اور رہائشی محلو ں کی بندش کے باعث دسیوں ہزار طلبہ اپنے سکولوں اور تعلیمی اداروں تک پہنچنے سے محروم رہے۔

قابض افواج کے انخلا کے ساتھ ہی، متاثرہ خاندان اس تباہی کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہو گئے ہیں جو اس سفاکیت کے نتیجے میں ہوئی، اور اب نقصانات کے احاطے اور قابض افواج کی جانب سے کی گئی تباہی کی بحالی کا کام شروع ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan