غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ میں قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے بمباری اور فائرنگ کے نتیجے میں ایک بچے سمیت چار فلسطینی شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے، یہ پیش رفت مختلف علاقوں کو توپ خانے کی گولہ باری اور عسکری گاڑیوں کی فائرنگ سے مسلسل نشانہ بنائے جانے کے دوران سامنے آئی ہے۔
ایک مقامی ذریعہ نے بتایا کہ غزہ شہر کے جنوب مغرب میں واقع صنعتی چوراہے کے قریب ایک الیکٹرک بائیک کو نشانہ بنا کر کی جانے والی اسرائیلی ڈرون اسٹرائیک کے نتیجے میں دو شہریوں، ایاد سالم اور علاء ارشی، شہید ہو گئے جبکہ دیگر افراد شدید زخمی ہو گئے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ بچہ عبد الرحمن خلیل عوض ان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا جو اسے گذشتہ پیر کے روز غزہ شہر کے شمال میں واقع الصاروخ چوراہے کے اطراف پر قابض دشمن کے حملے میں آئے تھے۔
پٹی کے جنوبی علاقے میں، خان یونس کے شمال میں واقع مواصی القرارہ کے علاقے میں مسجد حنین کی گلی میں اسرائیلی ڈرون حملے سے شہری رمضان محمد دياب ابو شحادہ شہید اور ایک اور شہری زخمی ہو گیا۔
پٹی کے وسطی حصے میں، البریج کیمپ میں قابض اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے ایک شہری زخمی ہو گیا۔
غزہ کے شمالی علاقے میں، قابض اسرائیلی عسکری گاڑیوں نے جبالیا کیمپ کے مشرق اور بیت لاہیا قصبے کے شمال میں مسلسل فائرنگ کی، جبکہ غزة شہر کے مشرقی علاقوں کو توپ خانے کی گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا۔
اسی طرح پٹی کے جنوب میں واقع خان یونس شہر کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں بھی قابض اسرائیلی عسکری گاڑیوں کی جانب سے شدید فائرنگ دیکھنے میں آئی۔
یہ تمام ہلاکت خیز حملے 10 اکتوبر سنہ 2025ء کو نافذ العمل ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی قابض دشمن کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیوں کے سلسلے کا حصہ ہیں۔
پٹی کے مختلف علاقوں میں جاری بمباری اور فائرنگ کے سایہ میں، اس معاہدے کی قابض دشمن کی جانب سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں اب تک 1800 سے زائد فلسطینی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں جبکہ جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
