غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی افواج نے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں بمباری اور فائرنگ کے ذریعے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری رکھا۔
وسطی غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں تین شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے پٹی کے مختلف حصوں میں بمباری اور فائرنگ کے ذریعے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شمالی غزہ کی پٹی کے قصبے جبالیا میں ایک اسرائیلی ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک نوجوان شہید ہو گیا، ایسے وقت میں جب قابض دشمن کے طیاروں نے غزہ شہر کے شمال میں ایک مکان کو تباہ کر دیا۔
ہمارے نامہ نگار نے تصدیق کی ہے کہ قصبہ جبالیا میں ’حلاوہ کیمپ‘ کے اطراف میں اسرائیلی ڈرون کی بمباری کے نتیجے میں ایک شہید کی میت کو غزہ شہر کے مغرب میں واقع الشفاء طبی کمپلیکس منتقل کیا گیا۔
ایک مقامی ذریعہ نے بتایا کہ وسطی پٹی میں المغازی کیمپ کے مدخل کے قریب ایک شہری گاڑی کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی ہوائی حملے میں دو شہری شہید اور دیگر زخمی ہو گئے۔
قابض دشمن کی گاڑیوں نے پٹی کے جنوبی شہر رفح کے علاقے مواصی میں بے گھر افراد کے خیموں پر شدید فائرنگ کی۔
اس کے علاوہ قابض دشمن کی گاڑیوں نے البريج کیمپ کے شمال میں فائرنگ کی اور پٹی کے وسطی شہر دير البلح کے مشرق میں توپ خانے سے گولہ باری کی۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 10 اکتوبر کو جنگ بندی کے آغاز سے لے کر اب تک شہداء کی تعداد بڑھ کر 1,576 ہو گئی ہے، جبکہ 5,687 افراد زخمی ہوئے ہیں، اس کے ساتھ ہی 845 میتیں نکالنے کے کیسز بھی درج کیے گئے ہیں۔
اسی طرح سات اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری جارحیت کے کل نتائج تقریباً 74,572 شہداء اور 175,808 زخمیوں تک پہنچ چکے ہیں، جو پٹی پر قابض دشمن کی مسلسل جاری جارحیت کے بھاری انسانی نقصان کا متبادل اشاریہ ہے۔
گذشتہ روز بدھ کو تباہ حال پٹی کے مختلف علاقوں بالخصوص خان یونس گورنری کے مشرقی و جنوبی علاقوں میں فائرنگ اور توپ خانے کی گولہ باری پر مشتمل ’غزہ جنگ بندی ‘ کی 24 اسرائیلی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں چار شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 31 جولائی سنہ 2026ء کو، جنگ بندی کے مراحل پر عمل درآمد اور غزہ پر جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ایک ’روڈ میپ‘ تک پہنچنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ فلسطینی دھڑوں نے، متعدد مواقع پر، اس روڈ میپ سے اپنی موافقت کا اعلان کیا تھا، تاہم معاہدے کی روزانہ کی بنیاد پر اسرائیلی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں۔
