Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

اسرائیلی ٹارگٹ کلنگ پالیسی پر شدید ردعمل، نظریات کو دبایا نہیں جا سکتا

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) گذشتہ کئی دہائیوں سے غاصب صہیونی دشمن ریاست فلسطینی مزاحمتی دھڑوں کے خلاف اپنے سب سے اہم سکیورٹی اور عسکری ہتھیار کے طور پر ٹارگٹ کلنگ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت وہ سیاسی اور عسکری دونوں طرح کے قائدین کو یکساں طور پر نشانہ بناتی ہے، تاکہ تنظیمی ڈھانچے کو درہم برہم کیا جا سکے اور فلسطینیوں کے حوصلوں اور ان کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کیا جا سکے۔

مگر معاصر فلسطینی انقلاب کے آغاز سے لے کر غزہ کی پٹی پر غاصب صہیونی دشمن ریاست کی طرف سے مسلط کی جانے والی حالیہ وحشیانہ جنگ اور فلسطینیوں کی نسل کشی تک پھیلی ہوئی طویل تاریخی مہمات یہ عیاں کرتی ہیں کہ یہ سفاکانہ پالیسی، بھاری انسانی اور تنظیمی نقصانات کا سبب بننے کے باوجود، مقدس مزاحمت کو ختم کرنے یا اس کی عوامی اور عسکری موجودگی کو روکنے میں ہمیشہ بری طرح ناکام رہی ہے۔

گذشتہ جمعہ کی شام قابض دشمن کی جانب سے القسام بریگیڈز کے ممتاز رہنما عز الدین الحداد کو نشانہ بنائے جانے کے بعد فلسطینی حلقوں میں اس ظالمانہ پالیسی کے فائدے اور افادیت پر ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا یہ سفاکانہ حربہ واقعی تحریکِ آزادی کا رخ بدلنے یا فلسطینیوں کے فولادی عزم اور جذبہِ مزاحمت کو توڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں؟۔

ایک پرانی مگر مسلسل اپنائی جانے والی پالیسی

تاریخی طور پر یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ قابض دشمن نے سنہ 1970ء کی دہائی کے آغاز میں غزہ کی پٹی کے اندر ٹارگٹ کلنگ کی پالیسی کا آغاز کیا تھا، جس کا مقصد ان فلسطینی سیلز کا خاتمہ کرنا تھا جو قابض افواج کو نشانہ بناتے تھے اور یہودی آباد کاروں کی بستیوں اور فوجی اڈوں کے خلاف سرحد پار دراندازی کی کارروائیاں کرتے تھے۔

مجرم ایریل شیرون کی براہِ راست ہدایات پر غزہ کی پٹی میں فلسطینی گروپوں کے قائدین کے خلاف ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیاں انجام دینے کے لیے ایک خصوصی اسکواڈ تشکیل دیا گیا، جسے “ريمونيم” یونٹ کا نام دیا گیا۔ اس کی قیادت “مائیر ڈاگان” کے ہاتھ میں تھی، جو بعد میں موساد کا سربراہ بھی بنا ۔ اس یونٹ نے تین سال کے عرصے میں خاص طور پر غزہ کی پٹی میں مزاحمتی سیلز کو ختم کرنے کی کوشش کی۔

سنہ 1973ء اور سنہ 1987ء کے اواخر میں پہلی انتفاضہ کے بھڑک اٹھنے کے درمیانی عرصے میں قابض اسرائیل نے ٹارگٹ کلنگ کے آپریشنز روک دیے تھے، جس کی وجہ غزہ کی پٹی کے اندر فلسطینی مسلح جدوجہد کا عارضی طور پر پسِ منظر میں چلے جانا تھا۔ ساتھ ہی اس دور میں غزہ کی پٹی پر قابض فوج کا سخت کنٹرول تھا جس نے مسلح کارروائیوں کے لیے نئے گروپ بنانے کی کوششوں کو ابتدا ہی میں کچلنے کے قابل بنا دیا تھا۔

پھر قابض اسرائیل نے دسمبر سنہ 1987ء میں شروع ہونے والی پہلی انتفاضہ “سنگ باری کی تحریک” کے دوران غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں دوبارہ ٹارگٹ کلنگ کا سہارا لیا، جہاں اس نے اس عرصے میں 195 فلسطینیوں کو شہید کر دیا جنہیں وہ مطلوب افراد قرار دیتا تھا اور اس دور میں قابض دشمن نے بنیادی طور پر عسکری قیادت کو نشانہ بنانے پر توجہ مرکوز رکھی اور فلسطینی دھڑوں کی سیاسی قیادت کو نقصان پہنچانے سے گریز کیا۔

سنہ 2000ء میں انتفاضہ الاقصیٰ کا آغاز قاتلانہ حملوں کی پالیسی میں ایک فیصلہ کن اور ہولناک موڑ ثابت ہوا، جہاں غاصب صہیونی دشمن ریاست نے سنہ 2000ء اور سنہ 2006ء کے درمیان صرف غزہ کی پٹی کے اندر 307 افراد کو شہید کیا، جن میں سے 167 افراد براہِ راست مطلوب تھے اور نشانہ بنائے گئے تھے، جبکہ دیگر 140 فلسطینی نشانہ بننے والے افراد کے قریب موجود ہونے کی وجہ سے جامِ شہادت نوش کر گئے۔

انتفاضہ الاقصیٰ کے دوران قابض اسرائیل نے سیاسی اور عسکری دونوں قیادتوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا اور وہ خاص طور پر غزہ اور مغربی کنارے میں تحریکِ حماس کی اکثر سیاسی قیادت کو شہید کرنے میں کامیاب رہا۔

اور سنہ 2006ء میں، قابض اسرائیل کی سپریم کورٹ نے فلسطینی مزاحمتی تحریکوں کے قائدین اور کارکنوں کے خلاف ٹارگٹ کلنگ کے استعمال کو قانونی تحفظ فراہم کر دیا۔ عدالت نے دو بائیں بازو کی تنظیموں کی طرف سے اس سفاکانہ پالیسی کو جاری رکھنے کے خلاف دائر کردہ درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا۔

شخصیات چلی جاتی ہیں مگر نظریہ زندہ رہتا ہے

ٹارگٹ کلنگ کی ان وارداتوں سے پیدا ہونے والے وقتی معنوی اور تنظیمی اثرات کے باوجود فلسطینیوں کے غصب شدہ حقوق اور نصب العین کی جدوجہد کے تجربات نے یہ ثابت کیا ہے کہ مزاحمتی دھڑے ہمیشہ اپنے تنظیمی اور قائدانہ ڈھانچے کو نسبتاً تیزی سے بحال کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

چنانچہ سنہ 1995ء میں مالٹا کے اندر تحریکِ جہادِ اسلامی کے سابق سیکرٹری جنرل فتحی الشقاقی کی شہادت سے یہ تحریک کمزور نہیں ہوئی، بلکہ اس کے بعد کے سالوں میں مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے اندر اس کی عسکری سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، یہاں تک کہ وہ آگے چل کر فلسطینی منظر نامے پر سب سے نمایاں عسکری قوتوں میں سے ایک بن کر ابھری۔

اسی طرح سنہ 1996ء میں القسام بریگیڈز کے پہلے انجینئر یحییٰ عیاش کی شہادت بھی عسکری کارروائیوں کو روکنے کا سبب نہ بن سکی، بلکہ ان کی شہادت کے بعد کے مرحلے میں مزاحمتی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی آئی اور “مقدس انتقام” کے نام سے کارروائیوں کا وہ سلسلہ شروع ہوا جس نے قابض دشمن کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا اور اس کے تمام سکیورٹی نظریات کو خاک میں ملا دیا۔

جب سنہ 2004ء میں اسلامی تحریکِ مزاحمت حماس کے بانی اور عظیم قائد شیخ احمد یاسین کو بے دردی سے شہید کیا گیا تو ڈاکٹر عبدالعزیز الرنتیسی نے تحریک کی قیادت سنبھالی۔ اس وقت قابض اسرائیل کے فیصلہ ساز اداروں کا خیال تھا کہ حماس شدید تنظیمی انتشار کا شکار ہو جائے گی لیکن تحریک نے انتہائی تیز رفتاری سے اپنی صفوں کو درست کیا اور محض دو سال بعد ہی فلسطینی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لے کر شاندار کامیابی حاصل کی، اس کے ساتھ ہی اس کا عسکری ونگ بھی پوری قوت سے سرگرم رہا۔

ایک اور مثال سنہ 2012ء میں مزاحمت کے چیف آف اسٹاف احمد الجعبری کی شہادت کی ہے، جس کے فوراً بعد فلسطینی راکٹوں کی مار میں اس حد تک وسعت آئی کہ انہوں نے تاریخ میں پہلی بار تل ابیب اور القدس کو شدید نشانہ بنایا، جو اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ اپنے ایک عظیم ترین عسکری قائد کو کھونے کے باوجود مزاحمت کی عسکری صلاحیتیں مسلسل ترقی پذیر رہیں۔

مغربی کنارے میں بھی نامور مزاحمتی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ یا شہادت سے مزاحمتی کارروائیاں ختم نہیں ہوئیں، بلکہ اس کے بعد نابلس اور جنین میں نئے مزاحمتی گروہ اور گروپ سامنے آئے، جن میں سب سے نمایاں “عرین الاسود” اور جنین کتیبہ ہیں، جنہوں نے روایتی تنظیمی ڈھانچوں سے ہٹ کر زیادہ لچکدار اور خود مختار ماڈل اپنایا۔

مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ مثالیں فلسطینی ماحول کی اس صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں جس کے تحت وہ مسلسل نئی مزاحمت کو جنم دیتا ہے، اور یہ کہ ٹارگٹ کلنگ کی پالیسی اپنے فوری اثرات کے باوجود تاریخی طور پر ان سیاسی اور سماجی وجوہات کا علاج کرنے میں ناکام رہی ہے جو فلسطینیوں کے وسیع تر طبقوں کو غاصب صہیونی دشمن کے مظالم کے خلاف مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔

یہ پالیسی رخ بدلنے میں ناکام رہی

القسام بریگیڈز کے رہنما عز الدین الحداد کو نشانہ بنائے جانے کے اعلان کے بعد فلسطینی ادیبوں اور تجزیہ کاروں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنے تبصروں میں اس بات پر زور دیا کہ ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں تاریخی طور پر فلسطینی مزاحمت کا رخ موڑنے میں ہمیشہ ناکام رہی ہیں۔

فلسطینی مصنف اور تجزیہ کار ابراہیم المدهون نے ایکس پر اپنے پیج سے کی جانے والی ٹویٹس میں کہاکہ قاتلانہ حملوں کی پالیسی اپنے تمام تر خطرات کے باوجود تاریخی طور پر نہ تو مزاحمت کے سفر کو روکنے میں کامیاب ہوئی ہے اور نہ ہی آزادی کی تحریکوں کو ختم کر سکی ہے، بلکہ اکثر اس کے الٹ نتائج برآمد ہوئے ہیں اور اس سے مزاحمت کے راستے اور اس کے قائدین کے گرد عوامی یکجہتی اور تائید میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

ابراہیم المدهون کا مزید کہنا ہے کہ بڑے قائدین کی رخصت دلوں کو لہولہان تو کرتی ہے لیکن یہ اس راستے کو تاریک نہیں کر سکتی جو انہوں نے اپنے خون اور قربانیوں سے روشن کیا ہے، کیونکہ ان کے پیچھے ایسے مردانِ حر اور آنے والی نسلیں موجود ہیں جو اس سفر کو جاری رکھیں گی اور اس امانت کو اس وقت تک اٹھائے رکھیں گی جب تک وہ وعدہ پورا نہیں ہو جاتا جس کے لیے وہ جئے اور شہید ہوئے۔

اسی طرح دیگر فلسطینی مبصرین اور سرگرم کارکنوں کی رائے ہے کہ گذشتہ دہائیوں کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ فلسطینی دھڑوں نے ایسا مضبوط تنظیمی ڈھانچہ تیار کر لیا ہے جو دشمن کے وار سہنے اور مسلسل نئی قیادت سامنے لانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، بالخصوص ان تبدیلیوں کے بعد جو غزہ اور مغربی کنارے میں عسکری کارروائیوں کے طریقہ کار میں رونما ہوئی ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہونے والی وسیع تر بحثوں میں اس نظریے کو بار بار دہرایا گیا کہ مزاحمت کسی ایک شخص یا چند اشخاص کے گروہ کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک وسیع تر عوامی جذبہ اور تحریک ہے، اور ٹارگٹ کلنگ کی سفاکانہ پالیسی نے دھڑوں کو ختم کرنے کے بجائے اکثر ان کے گرد عوامی یکجہتی کو مزید مستحکم کیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ غاصب صہیونی دشمن ریاست چند قائدین تک پہنچنے میں انٹیلی جنس کی سطح پر کامیاب ہونے کے باوجود اپنے اس سٹریٹجک ہدف کو حاصل کرنے میں قطعی ناکام رہی ہے جو مزاحمت کو ختم کرنے یا فلسطینی سرزمین پر سیاسی اور عوامی سطح پر ہتھیار ڈالنے کی کیفیت مسلط کرنے کی شکل میں تھا۔

اور جہاں غاصب صہیونی دشمن ریاست ان قاتلانہ حملوں کو ایک عبرت ناک ہتھیار اور اپنے مخالفین کو کمزور کرنے کا ذریعہ سمجھتی ہے، وہیں فلسطینیوں کی ایک بھاری اکثریت کا یہ ماننا ہے کہ تجربات نے اس تنازعے کو حل کرنے میں اس آپشن کی محدودیت کو ثابت کر دیا ہے، اور یہ کہ ہر شکل میں جاری رہنے والی یہ مزاحمت دہائیوں کے دوران اپنے مایہ ناز قائدین کو کھو دینے کے بعد بھی پوری آب و تاب سے قائم و دائم ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan