Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

لبنان محاذ پر کشیدگی میں اضافہ، دو اسرائیلی فوجی ہلاک

جنوبی لبنان – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) یہودی آباد کاروں کے ترجمان میڈیا پلیٹ فارمز نے بتایا ہے کہ جنوب لبنان میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران کم از کم دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ دوسری طرف قابض فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے لبنان پر جنگ جاری رکھنے کے منصوبوں کی منظوری دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ فوج تمام محاذوں پر حزب اللہ کو نشانہ بنانا جاری رکھے ہوئے ہے۔

یہ پیش رفت شمالی سرحد پر قابض فوج کے ٹھکانوں اور ان کے اجتماعات کے خلاف حزب اللہ کی طرف سے کیے جانے والے ڈرون حملوں میں شدت آنے کے سائے میں سامنے آئی ہے، جبکہ قابض اسرائیل کے اندر جاری جھڑپوں میں ڈرون طیاروں کی طرف سے بڑھتے ہوئے خطرات کے بارے میں بحث تیز ہوتی جا رہی ہے۔

قابض فوج کی طرف سے ابھی تک اس واقعے کی تفصیلات یا ان دونوں فوجیوں کی ہلاکت کا سبب بننے والے آپریشن کی نوعیت کے بارے میں کوئی باقاعدہ تبصرہ سامنے نہیں آیا، جبکہ اسرائیلی پلیٹ فارمز پر لبنان کے جنوبی سیکٹر میں فوجی سرگرمی کے دوران جانی نقصان اٹھانے کے بارے میں ابتدائی معلومات گردش کر رہی ہیں۔

اس کے متوازی طور پر، قابض فوج نے آج شام ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ زامیر نے شمالی کمانڈ میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس منعقد کیا اور جنرل ہیڈ کوارٹرز کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے “لڑائی جاری رکھنے کے منصوبوں” کی منظوری دی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ زامیر نے 401 ویں بریگیڈ کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا اور شمالی محاذ پر فوجی کارروائیوں کی نگرانی کے فریم ورک کے تحت بریگیڈ کے کمانڈروں اور جوانوں سے ملاقات کی۔

زامیر نے صورتحال کا جائزہ لینے کے دوران کہا کہ فوج “علاقائی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے” اور وہ “فوری طور پر شدید لڑائی کی طرف لوٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے”۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ “ایرانی حکومت اور اس کی صلاحیتوں کو کمزور کرنے” کے لیے کام جاری رکھیں گے۔

اسرائیلی چیف آف اسٹاف نے اس بات پر زور دیا کہ حزب اللہ کو ایک “منظم اور مسلسل” انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس کا مقابلہ کرنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ہم اس کے ارکان اور اس کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنا جاری رکھیں گے جو شمال کے باشندوں اور ہماری افواج کے لیے خطرہ ہیں۔

لبنانی محاذ پر گذشتہ ہفتوں کے دوران حزب اللہ کی طرف سے فدائی ڈرون طیاروں اور راکٹ حملوں کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جنہوں نے سرحد کے قریب فوجی ٹھکانوں، فوجیوں کی نقل و حرکت اور اسرائیلی گاڑیوں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ اسرائیلی رپورٹوں میں ان تمام حملوں کو روکنے میں بڑھتی ہوئی مشکلات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

یہ فوجی کشیدگی امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات سے وابستہ سیاسی پیش رفت کے ساتھ ہی رونما ہو رہی ہے، کیونکہ قابض حکومت کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے آج اتوار کے روز کہا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اتفاق کیا ہے کہ تہران کے ساتھ کوئی بھی حتمی معاہدہ “ایرانی نیوکلیائی خطرے” کو ختم کرنے والا ہونا چاہیے۔

ٹرمپ نے اس سے پہلے کہا تھا کہ انہوں نے امریکی مذاکرات کاروں کو مطلع کر دیا ہے کہ وہ جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کے ساتھ معاہدہ طے کرنے میں “جلدی نہ کریں”۔

قابض فوج نے فضائی حملوں کے سلسلے اور مسلسل گولہ باری کے ذریعے لبنان پر اپنے حملے جاری رکھے جن میں ملک کے جنوب میں کئی قصبوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں رہائشی عمارتوں، طبی اور تجارتی اداروں کو وسیع پیمانے پر تباہی کا سامنا کرنا پڑا، اور یہ سب کچھ گذشتہ 17 اپریل سے جاری نازک جنگ بندی کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے سائے میں ہو رہا ہے۔

اسرائیلی جنگی طیاروں نے اتوار کے روز حبوش، کفررمان، تول کے قصبوں اور نبطیہ شہر پر یکے بعد دیگرے کئی غارات کیں، جبکہ دیگر حملوں میں حاروف کے چوک اور مرج کے گرد و نواح کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں درجنوں تجارتی دکانوں، ریسٹورنٹس اور اداروں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ اسی طرح ایک اسرائیلی حملے میں نبطیہ میں علاقائی شہری دفاع کے مرکز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں عمارت مکمل طور پر منہدم ہو گئی اور کئی گاڑیوں و آلات کو شدید نقصان پہنچا۔

قابض فوج نے اتوار کے روز نبطیہ اور مغربی بقاع کے کئی قصبوں کے باشندوں کے لیے جن میں الدویر، عربصالیم، زبدين، مشغرہ اور سحمر شامل ہیں، وہاں سے انخلا کے انتباہات جاری کیے اور حزب اللہ کی طرف سے “سیز فائر (یا جنگ بندی) کے معاہدے کی خلاف ورزی” کے بہانے نئے حملے کرنے کی دھمکی دی، اور رہائشیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان مقامات سے کم از کم ایک ہزار میٹر کا فاصلہ اختیار کر لیں جنہیں اس نے فوجی تنصیبات اور ہتھیار قرار دیا ہے۔

وزارتِ صحت عامہ کے ہیلتھ ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کی طرف سے آج جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 2 مارچ سے جاری مسلسل اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد 3151 ہو گئی ہے جبکہ 9571 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan