Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

Palestine

اسرائیل کے نمک خواروں سے سوال

تحریر: ڈاکٹر صابرابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے۔ ایک نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آنے والی ایک ایسی ریاست ہے جہاں نہ صرف مسلمانوں کے حقوق بلکہ اقلیتیوں کے حقوق کے تحفظ کی یقین دہانی بھی ہے۔بھارت کے مقابلہ میں پاکستان میں بسنے والی اقلیتیوں کو زیادہ تحفظ حاصل ہے۔پاکستان کے عوام کی ایک خصوصیت جو انہیں دنیا کی دیگر اقوام سے ممتاز بناتی ہیں وہ یہ ہے کہ پاکستان کے عوام دنیا بھر میں کسی بھی جگہ کوئی ظلم اور جارحیت ہو اسے قبول نہیں کرتے اور اس کے خلاف اپنے غم و غصہ کا اظہار کر کے انسان ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستانی اور ایک سچا مسلمان ہونے کا عملی ثبوت دیتے ہیں۔پاکستان قوم میں یہ صلاحیت یا خصوصیت کوئی نئی بات نہیں ہے۔
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کہ جن کو آج پاکستان میں کچھ انگریز سامراج کی غلامی کرنے والے خاندانوں کی اولادیں یہ الزام عائد کرتی ہیں کہ قائد اعظم انگریز سامراج کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ یعنی یہ ملک دشمن عناصر براہ راست قائد اعظم کی شخصیت کو نشانہ بناتے ہیں اور اپنے آپ کو زمانہ کا اسکالر بنا کر پیش کرتے ہیں۔
اگر ان نام نہاد دانشوروں کی کہ حقیقت میں جو انگریز سامراج کی غلامی کرنے والے خاندانوں کی اولادیں ہیں ان کی بات کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو پھر قائد اعظم کی وہ جد وجہد کہ جو انہوں نے قیام پاکستان کے کی تحریک کے دوران اس زمانہ میں فلسطین کے لئے کی کہ جب برطانوی استعمار امریکہ اور یورپ کے ساتھ مل کر غاصب صہیونیوں کے لئے فلسطین پر قبضہ کی منصوبہ بندی کر رہا تھا تو یہ برصغیر میں قائد اعظم محمد علی جناح ہی تھے کہ جو ہمیشہ واضح طور پر اس معاملہ پر برطانوی حکومت کی مخالفت کرتے تھے۔فلسطین پر کسی بھی قسم کی صہیونی ریاست کے قیام کے مخالف تھے۔آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاسوں میں ہمیشہ فلسطین کے معاملہ کو اہمیت دے کر یہ بتاتے تھے کہ ہم مظلوموں کے ساتھ ہیں اور دنیا کی ہر ظالم قوت کے خلاف ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے قیام کے بعد سے ہمیشہ پاکستانی قوم نے بابائے قوم کے اس نظریہ کی نہ صرف حفاظت کی ہے بلکہ عملی طور پر یہ ثابت کیا ہے کہ جو کچھ بانیان پاکستان نے ا س مملکت کے لئے وضع کیا ہے اس سے ایک انچ بھی رو گردانی نہیں کی جا سکتی۔آج بھی پاکستانی قوم کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ کشمیر، افغانستان، عراق، ایران، لبنان وشام سمیت فلسطین اور یمن میں جہاں کہیں بھی ظلم و بربریت ہو، پاکستانی قوم نے ہمیشہ بانی پاکستان کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے مظلوم اقوام کی ظالم سامراجی قوتوں کے مقابلہ میں ہر سطح پر حمایت جا ری رکھی ہے۔آج بھی یہ حمایت انہی اصولوں کی بنیاد پر جاری ہے۔
آج پاکستان میں چند دھتکارے ہوئے صحافی پاکستان کے نظریہ کو کھوکھلا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اپنی جیبوں کو گرم کرنے کے لئے اسرائیل جیسی خونخوار اور سفاک غاصب صہیونی حکومت کی نمک خواری کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ان لوگوں نے اپنی گردنوں میں ذلت اور بد بختی کا طوق خود پہن لیا ہے۔یہ اسرائیل کی نمک خواری کرتے ہوئے پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو تباہ وبرباد کرنے کی ناپاک کوشش کر رہے ہیں۔
ان اسرائیلی نمک خواروں سے میں سوال پوچھتا ہوں کہ یہ بتائیں کیا کوئی نظریاتی ملک نظریہ کے بغیر باقی رہ سکتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر کیوں اور کس کے مفاد کی خاطر یہ ملک دشمن صحافی نما ٹولہ اسرائیل کی نمک خواری میں مصروف ہے۔یہاں ایک اور بات بھی واضح کرتا چلوں کہ اسرائیل کی نمک خواری کرنے والے صرف صحافی نہیں بلکہ اس فہرست میں علماء کے لبادے میں موجود عناصر اور اسی طرح کچھ یونیورسٹیز میں موجود اساتذہ نما کالی بھیڑوں کی صورت میں عناصر موجود ہیں۔ساتھ ساتھ ملک میں موجود مسیحی اور ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے عناصر امریکی ڈالروں سے جیب گرم کرنے کے لئے بین المذاہب ہم آہنگی کی آڑ میں پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کو توڑنے میں مصروف عمل ہیں۔یہ سارے کا سارا ٹولہ حقیقت میں اسرائیل کا نمک خوار ہے۔یہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔
اسرائیلی نمک خواروں سے دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل ایک غیر قانونی اور ناجائز ریاست نہیں ہے؟ کیا اسرائیل کا وجود سرزمین فلسطین پر غیر قانونی اور ناجائز انداز سے قائم نہیں کیا گیا ہے؟ کیا مقامی فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے باہر نہیں نکالا گیا؟ کیا مقامی فلسطینیوں کی زمینوں اور گھروں پر صہیونیوں کو قبضہ کروا کر یہاں غاصب صہیونی حکومت کی بنیاد نہیں رکھی گئی؟آج بھی عالمی سیاست نگاروں سے یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ وہ بتائیں کہ اسرائیل کس نیشن اسٹیٹ فارمولہ پر پورا اترتا ہے؟ کیا آج فلسطین سے نکالے گئے مقامی فلسطینیوں کا مستقبل کیا ہے؟ کیا آج وہ صہیونیوں کے ظلم و بربریت کی وجہ سے جبری جلا وطن نہیں ہیں؟کیا ان حقائق کی پردہ پوشی کی جا سکتی ہے؟
اگر ان تمام سوالوں کے جواب میں اسرائیلی نمک خوار ٹولہ اس کی مخالفت کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پھر دنیا میں کسی بھی قوم اور قبیلہ کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ کسی بھی دوسری ریاست پر چڑھائی کرے اور وہاں جا کر اپنے لوگوں کے ساتھ ایک نئی ریاست کا قیام عمل میں لائے۔یعنی اگر اسرائیلی نمک خوار ٹولہ درج بالا سوالات کے معقول جواب دینے کی بجائے ان سوالوں کی مخالفت کرتا ہے تو اس کا مطلب ہو گا کہ عالمی سیاسی منظر نامہ پر جس کی لاٹھی اور اس کی بھینس کا قانون چلے گا۔پھر اس طرح پاکستان میں بسنے والے سیکڑوں ایسے شہری موجو دہو سکتے ہیں کہ جن کے آباؤ اجداد مکہ سے ہجرت کر کے آئے تھے تو کیا وہ سب کے سب مکہ مکرمہ پہنچ کر اپنی الگ حلومت قائم کر لیں؟
لہذا اسرائیل کے نمک خواروں کے پاس اس طرح کے سادہ اور بنیادی سوالوں کے منطقی جواب موجود نہیں ہیں۔پس یہ ثابت ہوا کہ اسرائیل فلسطین کی سرزمین پر قائم کی جانے والی صہیونیوں کی ایک ناجائز ریاست ہے۔فلسطین پر صرف اور صرف فلسطینی مقامی عربوں کا حق ہے اور دنیا بھر میں جو کوئی بھی صہیونیوں کی غاصب ریاست کی حمایت کرتا ہے حقیقت میں وہ انصاف اور قانون کو درگور کرتا ہے۔
مجھے یقین ہے کہ اس مقالہ کوپڑھنے کے بعد کوئی بھی اسرائیلی نمک خوار منطقی اور منصفانہ جواب دینے کی صلاھیت نہیں رکھے گا۔کیونکہ فلسطین حق ہے اور اسرائیل باطل اور شر مطلق ہے۔

2 Comments

2 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan