غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے ترجمان حازم قاسم نے کہا ہے کہ ان کی تحریک غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیل کے ساتھ سیز فائر معاہدے کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے وسطاء، بالخصوص مصر کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تل ابیب کی جانب سے دیگر تمام امور سے قبل اسلحہ چھوڑنے کی شرط رکھنا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
حازم قاسم نے اناطولیہ نیوز ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے عمومی فریم ورک کے حوالے سے معقول نقطہ نظر تلاش کرنے کے لیے وسطاء اور خاص طور پر برادر ملک مصر کے ساتھ بات چیت اور رابطے جاری ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ قابض اسرائیل اب بھی کسی دوسرے راستے پر چلنے سے پہلے فلسطینیوں کے اسلحہ چھوڑنے جیسے مسائل پر ضد کر رہا ہے اور اس حوالے سے کوئی ضمانت بھی فراہم نہیں کر رہا۔
قاسم نے کہا کہ دیگر مراحل میں داخل ہونے سے پہلے غیر مسلح ہونے کی شرط رکھنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے میں طے پانے والے امور کی مخالفت اور خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ یہ موقف اسرائیلی ایجنڈے سے میل کھاتا ہے اور اس کا مقصد موجودہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اصل مطالبہ یہ ہے کہ پہلے معاہدے کے مطابق پہلے مرحلے پر عمل درآمد کیا جائے اور پھر دوسرے مرحلے سے متعلق بحث شروع کی جائے۔
واضح رہے کہ 29 ستمبر سنہ 2025ء کو ٹرمپ نے غزہ میں جنگ روکنے کے لیے 20 نکات پر مشتمل ایک منصوبے کا اعلان کیا تھا جس میں اسرائیلی اسیران کی رہائی، حماس کو غیر مسلح کرنا، غزہ سے اسرائیلی فوج کا جزوی انخلاء، ٹیکنوکریٹ حکومت کی تشکیل اور بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی شامل تھی۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے کا آغاز 10 اکتوبر سنہ 2025ء کو ہوا تھا۔
جبکہ حماس نے پہلے مرحلے کے تقاضوں کی مکمل پاسداری کی، اس کے برعکس قابض اسرائیل نے اپنے وعدوں سے انحراف کیا اور اپنی جارحیت جاری رکھی، جس کے نتیجے میں تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 846 فلسطینی شہید اور 2418 زخمی ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی بدعہدی کے باوجود ٹرمپ نے گزشتہ جنوری کے وسط میں سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 (منظور شدہ 17 نومبر سنہ 2025ء) کے تحت اپنے منظور شدہ منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔
دوسرے مرحلے میں اسرائیلی فوج کا وسیع تر انخلاء شامل ہے جو کہ غزہ کی پٹی کے 50 فیصد سے زائد رقبے پر قابض ہے، نیز تعمیر نو کا آغاز اور اس کے بدلے مزاحمتی دھڑوں کے غیر مسلح ہونے کا عمل شروع ہونا تھا، لیکن اسرائیل نے اس پر بھی عمل نہیں کیا اور پہلے غیر مسلح ہونے کی شرط پر بضد ہو کر معاہدے سے تجاوز کر رہا ہے۔
حماس پرعزم ہے
اس تناظر میں حماس کے ترجمان نے جنگ بندی معاہدے کی شرائط پر تحریک کی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حماس وسطاء کے ساتھ سیاسی اور سفارتی رابطے مسلسل برقرار رکھے ہوئے ہے اور انہیں روزانہ کی بنیاد پر اسرائیلی خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔
قاسم نے نشاندہی کی کہ قابض اسرائیل یلو لائن (زرد لکیر) کو مغرب کی طرف منتقل کر کے غزہ کی پٹی کے اندر اسرائیلی موجودگی کے حق میں مزید زمین ہڑپ کر رہا ہے، جو خود امریکی صدر کے شائع کردہ نقشوں کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یلو لائن کی اس تبدیلی کے بعد شہریوں کی جبری ہجرت، بمباری، قتل و غارت اور مکانات کو دھماکوں سے اڑانے کے واقعات ہوتے ہیں جیسا کہ روزانہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے ثالث ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ان خلاف ورزیوں کو روکنے اور قابض دشمن کو معاہدے پر عمل درآمد کا پابند بنانے کے لیے حقیقی موقف اختیار کریں۔
انہوں نے بتایا کہ حماس روزانہ کی بنیاد پر اسرائیلی خلاف ورزیوں کی نگرانی کر رہی ہے اور متعلقہ حکام کو ان سے باخبر رکھ رہی ہے۔ یاد رہے کہ یلو لائن ایک فرضی پٹی ہے جو مشرق میں اسرائیلی فوج کے زیر کنٹرول علاقوں اور مغرب میں ان علاقوں کو الگ کرتی ہے جہاں فلسطینیوں کو رہنے کی اجازت ہے، یہ غزہ کی پٹی کے کل رقبے کے تقریباً 59 فیصد پر محیط ہے۔
عزام الحیہ کی شہادت
حازم قاسم نے خبردار کیا کہ حماس کے غزہ میں سربراہ ڈاکٹر خلیل الحیہ کے فرزند عزام الحیہ کو نشانہ بنانے کا مقصد قاہرہ میں تحریک کے مذاکراتی وفد سے بدلہ لینا اور قیادت پر دباؤ ڈال کر مذاکرات کے دوران سیاسی مراعات حاصل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عزام الحیہ کی شہادت، جو ڈاکٹر خلیل الحیہ کے چوتھے شہید بیٹے ہیں، گزشتہ دو سالوں سے زائد عرصے سے ہمارے فلسطینی عوام کے خلاف جاری قابض دشمن کی سفاکیت اور جرائم کا ایک حصہ ہے۔
قاسم نے زور دے کر کہا کہ یہ پالیسی جسے قابض دشمن پہلے بھی آزما چکا ہے، مزاحمت کی قیادت اور حماس سے کوئی بھی رعایت لینے میں کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ تحریک نے بارہا پہلے مرحلے پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے کیونکہ یہ دوسرے مرحلے کے پیچیدہ مسائل پر بحث کے لیے اعتماد کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
جمعرات کے روز عزام الحیہ ان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے جو انہیں بدھ کے روز غزہ شہر کے مشرقی محلے الدرج پر ہونے والے اسرائیلی حملے میں آئے تھے۔ عزام، خلیل الحیہ کے چوتھے بیٹے ہیں جنہیں اسرائیل نے گذشتہ برسوں میں شہید کیا، ان سے قبل ان کے بھائی حمزہ، اسامہ اور حال ہی میں ہمام شہید ہوئے جنہیں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
خلیل الحیہ نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ان کے بیٹے کو نشانہ بنانا گزشتہ سال مذاکراتی وفد کو نشانہ بنانے کے سلسلے کی کڑی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ قابض دشمن یہ وہم پالے ہوئے ہے کہ قائدین، ان کے بیٹوں اور خاندانوں کو نشانہ بنا کر وہ ہم سے وہ لے سکتا ہے جو ہم نہیں دینا چاہتے، لیکن یہ اس کی خام خیالی ہے اور وہ ان حالات میں اپنے مقصد تک ہرگز نہیں پہنچ سکے گا، ان شاء اللہ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا نصب العین ہمارے عوام کے مفادات، ان کے جائز سیاسی اہداف کا حصول، ان کے لیے استحکام اور سکون کی فراہمی اور ایسی صورتحال پیدا کرنا ہے کہ ہمارے عوام اپنی سرزمین اور وطن پر مضبوطی سے جمے رہیں۔
