رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقامی ذرائع کے مطابق قابض اسرائیلی حکام نے منگل کے روز طولکرم شہر کے شمالی علاقے ضاحیہ شویکہ سے تعلق رکھنے والے فلسطینی صحافی حازم عماد ناصر کو بغیر کسی رسمی الزام کے انتظامی حراست میں دو سال سے زائد کا عرصہ گزارنے کے بعد رہا کر دیا ہے۔
ناصر کی رہائی ان انتظامی احکامات کے تحت ان کی گرفتاری کے بعد عمل میں آئی ہے جو قابض حکام کو اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ وہ فلسطینیوں کو معلنہ الزامات عائد کیے بغیر یا ان کے خلاف مبینہ شواہد کا افشاء کیے بغیر ایسی مدت کے لیے محبوس رکھیں جن میں تجدید کی جا سکتی ہو۔
قابض فورسز نے صحافی ناصر کو 25 جولائی سنہ 2024ء کی صبح ضاحیہ شویکہ میں واقع ان کے گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ان کے خلاف پانچ ماہ کی قابلِ تجدید انتظامی حراست کا حکم نامہ جاری کیا گیا تھا۔
ان کی رہائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گرفتاری اور پراسیکیوشن کے ذریعے فلسطینی صحافیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ کلب برائے اسیران نے گذشتہ ستمبر میں بتایا تھا کہ 37 صحافی اور صحافیات قابض صہیونی عقوبت خانوں میں قید تھیں، جن میں سے نصف سے زائد بغیر کسی الزام کے انتظامی حراست کے تحت قید تھے۔
انتظامی حراست ان نمایاں ترین حربوں میں سے ایک ہے جنہیں قابض حکام خفیہ فائلوں کی بنیاد پر فلسطینیوں کو محبوس رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، جن کی مکمل تفصیلات تک اسیر اور اس کے وکیل کی رسائی ممکن نہیں ہوتی، جب کہ پے در پے جاری ہونے والے احکامات حراست کی تجدید کی اجازت دیتے ہیں، جس سے اسیران عملی طور پر غیر متعین مدتِ حراست کا سامنا کرتے ہیں۔
