دوحہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے انتہا پسند وزیر بزلئیل سموٹریچ کی جانب سے جاری کردہ ان ہولناک منصوبوں کے شدید خطرات سے خبردار کیا ہے جن کے تحت مقبو ضہ مغربی کنارے میں دسیوں ہزار نئی صیہونی بستیوں کی تعمیر کا خاکہ تیار کیا گیا ہے۔ یہ منصوبے ایک ایسے وقت میں سامنے لائے گئے ہیں جب وہ علانیہ طور پر سرحدوں کو مٹانے اور ہماری پاک سرزمیں پر قابض اسرائیل کی مکمل حاکمیت مسلط کرنے کی گندی پکار لگا رہا ہے۔
حماس نے جاری کردہ اپنے ایک جرات مندانہ بیان میں اس بات پر زور دیا کہ یہ جارحانہ پالیسیاں اس غاصب صیہونی حکومت کا اصل اور مکروہ چہرہ ہیں جو کہ زمینوں کی چوری، بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کے وجود کو مٹانے کے ہتھکنڈوں کے ذریعے سراسر ایک غاصبانہ، استعماری، توسیعی، نسل کشی اور نسلی امتیاز (اپارتھائیڈ) پر مبنی حکومت کے طور پر کام کر رہی ہے، اور تمام بین الاقوامی قوانین و قراردادوں کی کھلم کھلا دھجیاں اڑا رہی ہے۔
بیان میں سختی سے دہرایا گیا کہ یہ غیر قانونی صیہونی بستیاں قابض اسرائیل کو کبھی کوئی قانونی یا اخلاقی جواز فراہم نہیں کر سکتیں، اور نہ ہی زمینوں کو ہڑپ کرنے یا ان کی یہودیت مسلط کرنے کے یہ ناپاک منصوبے ہمارے عوام کے عزم کو توڑنے یا انہیں ان کی آبائی زمین سے اکھاڑ پھینکنے میں کبھی کامیاب ہوں گے۔ ہمارے غیور عوام اپنے تمام مسلمہ اصولوں، حقوق اور پامردی و مزاحمت کے راستے پر ہمیشہ سختی سے کاربند رہیں گے۔
حماس نے دنیا بھر اور تمام علاقوں میں موجود اپنے بہادر عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قابض اسرائیل اور اس کے وحشی آباد کاروں کے غنڈہ گرد گروہوں کے خلاف اپنے احتجاج اور مقابلے کو مزید تیز کریں، صیہونی نشانے پر موجود دیہاتوں اور قصبوں میں اپنی موجودگی اور دفاع کو مضبوط بنائیں اور اس بدترین صیہونی توسیعی حملے کے خلاف اپنی تمام کوششوں کو متحد کریں۔
بیان کے آخر میں حماس نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مجرمانہ خاموشی اور صیہونی پشت پناہی کی پالیسی کو فوری طور پر ترک کرے اور بستیوں کی تعمیر و زمینوں پر قبضے کے ان صیہونی جرائم کو روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرے، نیز ہمارے لوگوں، ہماری سرزمیں اور ہمارے مقدس مقامات کے خلاف مسلسل جاری ان سنگین خلاف ورزیوں پر قابض اسرائیلی حکومت کا سخت احتساب کرے۔
