رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے رہنما عبد الرحمن شدید نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قابض حکومت کے انتہا پسند وزیر ایتمار بن گویر کا ایک قید فلسطینی اسیر کی ویڈیو قصداً شائع کرنا جس میں انہیں ہتھکڑیاں لگے ہوئے اور دھمکی کے تحت اپنے قید خانے کی دیوار پر رنگ و روغن کرنے پر مجبور کرتے دکھایا گیا ہےایک فاشسٹ اور مجرمانہ رویہ ہے جو قابض دشمن کی درندگی اور شدید اخلاقی دیوالیہ پن کی عکاسی کرتا ہے۔
عبد الرحمن شدید نے جمعرات کے روز ایک پریس بیان میں کہا کہ “بن گویر قابض صہیونی عقوبت خانوں کے اندر اسیران کے خلاف جو مظالم ڈھا رہا ہے، وہ اس سیاسی و عسکری ناکامی اور افلاس کی حالت کو چھپانے کی ایک ناپاک کوشش کے سوا کچھ نہیں جس سے یہ دشمن گزر رہا ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا اسیران اور اسیر خواتین کے خلاف قابض دشمن کی منظم خلاف ورزیاں دہشت گردی کی حدود سے تجاوز کر کے بین الاقوامی قانون کے مطابق مکمل طور پر قائم شدہ منظم جرائم کی حد تک پہنچ چکی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بن گویر اور ان کی حکومت کا نہتے اسیران کے خلاف جسمانی و نفسیاتی اذیتوں اور مظالم کا کھل کر ڈنکا بجانا ہمارے اسیران کی بہتری، صلابت اور ثابت قدمی میں مزید اضافہ کرے گا، ان کے عزم و ارادے کو توڑنے میں یہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکے گا۔
عبد الرحمن شدید نے نشاندہی کی کہ اسیران کی تحریک کے خلاف مسلسل انتقامی مظالم جن میں سب سے پیش پیش منظم طبی غفلت اور بنیادی حقوق پر سلب و تنگی ہے ایک متحدہ قومی موقف اور تمام میدانوں میں اسیران کی پشت پناہی کے لیے عوامی لہر کے متقاضی ہیں، تاکہ ظلم و ستم کی اس مشین کے مقابلے میں ان کی ثابت قدمی کو تقویت دی جا سکے۔
عبد الرحمن شدید نے انسانی حقوق اور بین الاقوامی اداروں اور اقوام متحدہ کے اداروں میں سب سے پہلے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی شامل ہے—سے اپیل کی کہ وہ ان جرائم اور فاش خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری مداخلت کریں اور قابض دشمن کے رہنماؤں کو ان کے مسلسل جرائم اور ناانصافیوں پر بین الاقوامی عدالتوں کے سامنے لا کر ان کا احتساب اور محاکمہ کرنے کے لیے کام کریں، نیز ہمارے اسیران، ہماری سرزمین اور ہمارے عوام کے خلاف ان کی دہشت گردی کا خاتمہ کریں۔
