دوحہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے فتح کی مرکزی کمیٹی کے سیکرٹری جبریل الرجوب کی طرف سے سینئر رہنما خالد مشعل پر عائد کیے گئے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، جن میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ سنہ 1996ء میں فلسطینی مزاحمت کی کارروائیاں شمعون پیریز کی حکومت گرانے اور اسرائیلی دائیں بازو کی حمایت کے لیے تھیں۔
حماس نے ایک پریس بیان میں تصدیق کی کہ یہ دعوے بالکل بے بنیاد ہیں اور ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ تحریک نے انہیں قومی ذمہ داری کے تقاضوں کے منافی اور ان حالات کے بالکل برعکس قرار دیا جو فلسطینی ڈائیلاگ میں قائم ہونے چاہئیں۔
’حماس‘ نے اس نازک مرحلے پر ایسے بیانات کے سامنے آنے پر شدید افسوس کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس قسم کے مواقف کا بار بار دہرایا جانا قومی اتفاقِ رائے کے حصول، جامع ڈائیلاگ کے آغاز اور فلسطینی صفوں کی درستی کی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
حماس نے ان تمام بیانات کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا جو کشیدگی اور انتشار کو ہوا دیتے ہیں اور زور دیا کی کہ تمام تر توانائیاں ان امور پر مرکوز کی جائیں جو فلسطینی عوام کی امنگوں اور ان کی مشترکہ جدوجہد کے مفاد میں ہوں۔ حماس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ گروہی حساب کتاب یا قابض دشمن کے انتخابی معرکوں سے بالاتر ہو کر وطن کے دفاع میں جانیں قربان کرنے والے تمام رہنماؤں و شہداء کی عظیم قربانیوں اور تاریخِ جدوجہد کا احترام لازمی کیا جائے۔
