غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کو نافذ ہوئے 200 سے زائد دن گذر جانے کے باوجود انسانی صورتحال انتہائی سنگین اور دلخراش ہے، مگر مغربی میڈیا کی کوریج اس مرحلے پر بھی قابض اسرائیل کے سفاکانہ جرائم کے تناسب سے انتہائی کم رہی ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ غزہ کی پیچیدہ اور لہو رنگ زمینی حقیقت کو مکمل اور واضح طور پر پیش کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
اگرچہ غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کا شور کسی حد تک تھما ہے، لیکن اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹس واضح کر رہی ہیں کہ انسانی بحران مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔ بنیادی خدمات کی شدید قلت سے لے کر انفراسٹرکچر کی مکمل تباہی تک اور عوام و سامان کی نقل و حرکت پر مسلسل پابندیوں کے ساتھ ساتھ معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں نے زندگی اجیرن کر دی ہے۔
غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار، جنہیں بین الاقوامی میڈیا بھی نقل کر رہا ہے، اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ جنگ بندی کے نفاذ سے اب تک 830 سے زائد فلسطینی جام شہادت نوش کر چکے ہیں جبکہ 2300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس نام نہاد جنگ بندی کے کھوکھلے پن اور قابض اسرائیل کی طرف سے مسلسل کی جانے والی زمینی خلاف ورزیوں اور نسل کشی کے تسلسل کا واضح ثبوت ہیں۔
کوریج کے زاویوں میں تضاد اور جانبداری
حالیہ مہینوں میں معروف مغربی میڈیا ہاؤسز کے جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ غزہ کی پٹی کے حالات کو پیش کرنے میں واضح تفاوت موجود ہے۔ جہاں کچھ رپورٹس انسانی پہلو کو سرسری چھوتی ہیں، وہیں اکثر کا جھکاؤ سکیورٹی اور سیاسی پہلوؤں کی طرف ہوتا ہے، خاص طور پر علاقائی استحکام اور تنازع کے دوبارہ بھڑکنے کے خدشات کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔
یہ تفاوت استعمال کی جانے والی زبان میں بھی نمایاں ہے، جہاں اکثر “کشیدگی” یا “وقفے وقفے سے ہونے والی جھڑپیں” جیسی عمومی اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں۔ ان رپورٹس میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کی تفصیلات میں جانے یا کسی کو ذمہ دار ٹھہرانے سے گریز کیا جاتا ہے، جبکہ انسانی بحران کی سنگینی اور ان تمام تر مظالم کی اصل ذمہ داری قابض اسرائیل پر ڈالنے سے پہلو تہی کی جاتی ہے۔
گذشتہ اپریل کے مہینے کے دوران بین الاقوامی میڈیا نے کوریج کا یہی مخصوص انداز اپنائے رکھا۔ نیوز ایجنسی “ایسوسی ایٹڈ پریس” نے “بی بی سی نیوز”، “سی این این” اور “نیویارک ٹائمز” جیسے بڑے میڈیا اداروں کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ رپورٹ شائع کی جس میں بین الاقوامی صحافیوں کو آزادانہ طور پر غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ رپورٹ میں تسلیم کیا گیا کہ لگائی گئی پابندیاں براہ راست کوریج میں رکاوٹ ہیں اور درست معلومات تک رسائی کو محدود کر رہی ہیں۔
اسی تناظر میں دیگر صحافتی رپورٹس نے غزہ کی پٹی کی صورتحال کو “نہ جنگ نہ امن” قرار دیا، جو اس کمزور جنگ بندی کی طرف اشارہ ہے جس کے پردے میں اسرائیلی خلاف ورزیاں اور انسانی المیہ مسلسل پروان چڑھ رہا ہے۔ “گارڈین” اور “واشنگٹن پوسٹ” جیسے اخبارات نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا تذکرہ تو کیا، لیکن تجزیاتی کوریج میں انہیں محض ایک سیاسی ڈھانچے اور زمینی حقیقت کے درمیان فرق کے طور پر پیش کیا۔
میدانی کوریج کے حوالے سے “بی بی سی” اور “رائٹرز” نے اپریل میں شہریوں اور صحافیوں کی شہادت کے واقعات کو تو رپورٹ کیا، لیکن اکثر انہیں الگ الگ واقعات کے طور پر دکھایا گیا۔ ان واقعات کو اس وسیع تناظر سے نہیں جوڑا گیا جو قابض اسرائیل کے اس مکروہ ایجنڈے کو بے نقاب کر سکے جس کے ذریعے وہ معاہدے کی تمام شقوں کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ مغربی میڈیا میں غزہ کی پٹی کا انسانی بحران بتدریج پس منظر میں دھکیلا جا رہا ہے، جبکہ غیر ملکی صحافیوں پر پابندیوں کے باعث کوریج کا بڑا حصہ غیر یقینی ذرائع پر منحصر ہو کر رہ گیا ہے۔
ادھوری اور ناقص کوریج پر تنقید
غزہ کی پٹی میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے مغربی میڈیا جس طرح پیش کر رہا ہے وہ اب محض خبروں کی ترسیل نہیں رہی، بلکہ ماہرین اور صحافیوں کی جانب سے اس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ کوریج پیشہ وارانہ غیر جانبداری کے بجائے بیانیے کے ساختی بگاڑ کی عکاسی کرتی ہے۔
سب سے نمایاں تنقید “واقعات کی تقسیم” (Fragmenting the event) پر کی جا رہی ہے۔ میڈیا ریسرچر محمد الاخرس کا کہنا ہے کہ بہت سے مغربی میڈیا ادارے ہر واقعے، جیسے بمباری یا شہریوں کے قتل کو ایک الگ واقعے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اسے مسلسل ہونے والی خلاف ورزیوں کے تسلسل سے نہیں جوڑا جاتا، جس کی وجہ سے عالمی عوام زمین پر ہونے والے حقیقی مظالم کی نوعیت کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔
اسی طرح امریکی ماہر تعلیم نارمن فنکلسٹائن نے “سی این این” اور “بی بی سی نیوز” جیسے اداروں پر تنقید کی ہے کہ وہ سرکاری بیانیے اور فوجی ذرائع پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرتے ہیں، جبکہ فلسطینی بیانیے یا آزاد میدانی رپورٹس کو بہت کم جگہ دی جاتی ہے، خاص طور پر جب صحافیوں کا غزہ میں داخلہ بند ہے۔
لغوی انتخاب پر بھی شدید تنقید سامنے آئی ہے۔ “دی گارڈین” میں صحافی اوون جونز نے نشاندہی کی کہ “جھڑپیں” یا “کشیدگی” جیسی اصطلاحات کا استعمال فریقین کے درمیان برابری کا تاثر پیدا کرتا ہے، حالانکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ طاقت کا توازن مکمل طور پر قابض اسرائیل کے حق میں ہے جو جدید ترین مہلک ہتھیاروں سے لیس ہو کر فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار ڈیانا بٹو کا کہنا ہے کہ مغربی کوریج “موسمی توجہ” کا شکار ہے۔ جب فوجی کارروائی عروج پر ہوتی ہے تو کوریج بڑھ جاتی ہے، لیکن “نسبتی خاموشی” کے ادوار میں انسانی بحران کے مجموعی اور تباہ کن اثرات کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
مغربی میڈیا کی کوریج سے یہ واضح ہوتا ہے کہ غزہ کی پٹی کی مسلسل تلخ حقیقت اور بین الاقوامی میڈیا کے بیانیے کے درمیان ایک گہری خلیج موجود ہے۔ یہ خلیج نہ صرف سیاسی موقف کی وجہ سے ہے بلکہ صحافتی کام کے ڈھانچے میں موجود نقائص کا نتیجہ بھی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا مغربی میڈیا واقعی ان مظالم کی درست اور جامع تصویر پیش کر پائے گا، یا ادارتی پالیسیاں اور میدانی پابندیاں حقیقت کو ایک ایسے سانچے میں ڈھالتی رہیں گی جو اصل شدت سے بہت کم ہو؟ کیا عالمی ضمیر ان بکھرے ہوئے واقعات کو ایک مسلسل نسل کشی کے طور پر دیکھ پائے گا یا یہ المیہ اسی طرح خاموشی کے سائے میں دم توڑ دے گا؟.
