Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

فوجی کنٹرول میں اضافہ، غزہ کی جغرافیائی تشکیل پر نئے خدشات

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں جہاں اب نقشے محض کاغذ پر لکیریں نہیں رہے، وہاں نام نہاد اورنج لائن (نارنجی لکیر) ایک نئے میدانی مرحلے کے طور پر ابھری ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں جغرافیہ فوجی طاقت سے ٹکراتا ہے اور حد فاصل کا تصور ایک نظریے سے بدل کر ایک ایسی تلخ حقیقت بن جاتا ہے جسے یہاں کے مکین اپنی زندگی کے تمام تر جزئیات کے ساتھ روزانہ جھیلتے ہیں۔

یہ لکیر جس کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا، زمین پر بتدریج آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ اس یلو لائن (پیلی لکیر) کی توسیع ہے جس کی منظوری 10 اکتوبر سنہ 2025ء کو سیز فائر معاہدے کے تحت دی گئی تھی، اور جس کا مقصد مشرق میں قابض اسرائیل کے زیر تسلط علاقوں اور مغرب میں فلسطینیوں کی موجودگی والے علاقوں کے درمیان ایک فاصلہ قائم کرنا تھا۔

تاہم بعد میں جو کچھ ہوا وہ اس تصور کے مطابق نہیں تھا۔ میدانی شواہد، سیٹلائٹ تصاویر اور بین الاقوامی رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ کنکریٹ کی دیواروں اور رکاوٹوں کی منتقلی کے ذریعے یہ لکیر خاموشی اور مستقل مزاجی سے غزہ کی پٹی کی گہرائی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس نئی صورتحال کو اب اورنج لائن کا نام دیا گیا ہے، جو ایک غیر اعلانیہ سرحد کے طور پر قبضے کے دائرہ کار میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔

جہاں یلو لائن غزہ کی پٹی کے تقریباً 53 فیصد رقبے پر محیط تھی، وہیں حالیہ اندازے بتاتے ہیں کہ یہ تناسب بڑھ کر تقریباً 59 فیصد ہو چکا ہے، بلکہ بعض رپورٹس کے مطابق یہ فوجی تسلط کے ایک مربوط نظام کے تحت 64 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ لکیر بتدریج مغرب کی طرف بڑھ رہی ہے اور بعض مقامات پر شاہراہ صلاح الدین کو چھو رہی ہے، جو غزہ کے شمال کو جنوب سے ملانے والی اہم ترین شہ رگ ہے۔

میدان عمل میں ان اعداد و شمار کو محض فیصدی تناسب کے طور پر نہیں دیکھا جاتا، بلکہ یہ وہ زمین ہے جو فلسطینیوں کی زندگیوں سے چھینی جا رہی ہے۔ وہاں جہاں کبھی گنجان آباد محلے ہوا کرتے تھے، اب لوگوں سے پہلے ویرانے پہنچ جاتے ہیں۔ تباہ حال سڑکیں، ناقابل رہائش عمارتیں اور وسیع و عریض رقبے خطرناک یا ممنوعہ علاقوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ اس لکیر کی ہر پیش قدمی کے ساتھ فلسطینیوں کے لیے دستیاب جگہ سکڑتی جا رہی ہے اور بقیہ رقبے پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

مقامی اندازوں کے مطابق غزہ کی پٹی کا وہ رقبہ جو اب حقیقی معنوں میں رہنے کے قابل بچا ہے وہ 15 فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ یہاں لاکھوں انسان خیموں یا ملبے کے ڈھیروں میں ایک ایسی انسانی صورتحال کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں جو حصار اور تعمیراتی مواد کی آمد پر پابندی کے باعث انتہائی نازک ہو چکی ہے۔ اس تناظر میں یہ لکیر محض ایک فوجی اصطلاح نہیں رہی، بلکہ یہاں کے مکینوں کے شعور میں یہ روزمرہ کی زندگی کو تنگ کرنے کا ایک ہتھیار بن چکی ہے۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ لکیریں جو عارضی اقدامات کے طور پر کھینچی گئی تھیں، آج وہ غیر مرئی دیواریں بن چکی ہیں جو نقل و حرکت کو محصور کرتی ہیں، جبکہ دیگر اسے گلا گھونٹنے کا وہ تدریجی ذریعہ قرار دیتے ہیں جو زمین پر نیا جبر مسلط کر رہا ہے۔

آبادیاتی اور جغرافیائی حقیقت

اس تبدیلی کے قانونی تجزیے میں قانونی ماہر اور مشیر اسامہ سعد نے اورنج لائن کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سیز فائر معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے اور طاقت کے بل بوتے پر ایک نئی آبادیاتی اور جغرافیائی حقیقت مسلط کرنے کی کوشش ہے۔

اسامہ سعد نے ہمارے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس عمل کو ان وسیع تر پالیسیوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا جو جبری بے دخلی اور نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ شہریوں کو نقل و حرکت کی پابندیوں اور زندگی کی بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی میں چھوٹے اور خطرناک علاقوں میں محصور کرنا بین الاقوامی انسانی قانون، خاص طور پر شہریوں کے تحفظ کے قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان اقدامات کی سنگینی محض ان کے فوری اثرات میں نہیں، بلکہ ان کے بتدریج استعمال میں ہے، جہاں عارضی انتظامات کو مستقل حدود میں تبدیل کر دیا جاتا ہے اور کسی بھی حقیقی سیاسی عمل سے ہٹ کر جغرافیہ کی ازسرنو تشکیل کی جاتی ہے۔

یہ پہلو فرانسیسی ویب سائٹ میڈیا پارٹ کی اس رپورٹ سے بھی میل کھاتا ہے جس میں اسٹریٹجک رنگ سازی (ہندستہ الالوان) کا ذکر کیا گیا تھا۔ یہ ایسی حکمت عملی ہے جو مرحلہ وار لکیروں کے ذریعے تسلط کی سرحدیں کھینچتی ہے، جس کا حتمی نتیجہ غزہ کی پٹی پر طویل مدتی میدانی کنٹرول کو دوام بخشنا ہے۔

جب نقشوں پر رنگ بدلتے ہیں، تو ایک حقیقت اٹل رہتی ہے کہ یہ لکیریں لوگوں کی زندگیوں کو دوبارہ ترتیب دے رہی ہیں۔ یہ صرف یہ طے نہیں کرتیں کہ انسان کہاں ہو سکتا ہے، بلکہ یہ بھی طے کرتی ہیں کہ وہ کہاں حرکت کر سکتا ہے، کہاں جی سکتا ہے اور کہاں زندگی کا ہر عمل تھم جائے گا۔ اس پھیلاؤ کے جاری رہنے سے یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ اورنج لائن محض ایک میدانی اصطلاح سے بدل کر ایک مستقل مرحلہ بن جائے گی، جس میں غزہ کی پٹی کو ایک ایسے بکھرے ہوئے رقبے کے طور پر متعارف کرایا جائے گا جہاں لکیریں پیچھے ہٹنے کے بجائے صرف آگے بڑھتی ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan