Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

محصور غزہ کے شہری ایک اور عید شدید مشکلات کے درمیان منانے پر مجبور

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ میں عید الاضحی کی آمد کا مطلب اب بازاروں کا رش ہے اور نہ ہی مویشیوں کی وہ آوازیں جو کبھی گلیوں اور عوامی محلوں میں گونجتی تھیں، بلکہ اب یہ عید غاصب صہیونی دشمن ریاست کی مسلسل جارحیت اور جابرانہ محاصرے کے سائے میں نقل مکانی، بھوک اور محرومی کے مناظر سے جڑ چکی ہے، جس نے عید کو اس کے بہت سے مذہبی اور سماجی مظاہر سے محروم کر دیا ہے۔

مسلسل تیسرے سال بھی غزہ کی پٹی کے باسی قربانی کی سنت کو معمول کے مطابق ادا کرنے سے محروم ہیں، جس کی وجہ حیوانی شعبے کی مکمل تباہی، گزرگاہوں کے راستے مویشیوں کے داخلے پر قابض اسرائیل کی پابندی اور قیمتوں کا بے تحاشا بڑھ جانا ہے، اور یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بیس لاکھ سے زائد فلسطینی انسانی تاریخ کے بدترین حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔

جہاں عید الاضحی ایک ایسا سماجی اور روحانی موقع ہوا کرتی تھی جس کا اہل غزہ ہر سال بے صبری سے انتظار کرتے تھے، وہیں آج قربانی کا جانور اکثر خاندانوں کے لیے ایک دور دراز کا خواب بن چکا ہے، جو اب خوراک، پانی اور بنیادی ضروریات کی کم از کم مقدار حاصل کرنے کے لیے بھی سخت جدوجہد کر رہے ہیں۔

غزہ شہر سے تعلق رکھنے والے پانچ بچوں کے باپ محمد السوسی کہتے ہیں کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے عید اپنی روایتی رونقیں کھو چکی ہے، لیکن یہ سال سب سے زیادہ ظالمانہ اور سخت ترین دکھائی دے رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ سالوں میں ہم عید کا انتظار کرتے تھے تاکہ بچوں کو خوش کر سکیں اور رشتہ داروں اور غریبوں میں گوشت تقسیم کر سکیں، لیکن آج ہم گوشت کا ایک کلو خریدنے سے بھی عاجز آ چکے ہیں۔

انہوں نے حسرت کے ساتھ بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ بچے قربانی اور عید کے کپڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں، لیکن ترجیحات مکمل طور پر بدل چکی ہیں، لوگ اب صرف خوراک، پانی اور امن و سکیورٹی کی تلاش میں ہیں۔

خیالی قیمتیں اور نایاب مویشی

یہ بحران صرف قوت خرید میں کمی کا نہیں ہے، بلکہ بازاروں میں مویشیوں کے ناپید ہونے کا بھی ہے، کیونکہ قابض اسرائیل نے جنگ کے دوران جانوروں کے فارمز، باڑوں اور چارے کے گوداموں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا ہے، جبکہ دوسری طرف گزرگاہیں مسلسل بند ہیں اور غزہ کی پٹی میں مویشی لانے پر سخت پابندی ہے۔

مویشیوں کے تاجر اور فارم مالک اکرم سعید کہتے ہیں کہ اس وقت بازاروں میں جو کچھ دستیاب ہے وہ جنگ سے پہلے موجود مویشیوں کے حجم کے پانچ فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جنگ سے پہلے عید سے ٹھیک پہلے غزہ میں سالانہ دس ہزار سے بیس ہزار گائے اور بچھڑے جبکہ تیس ہزار سے چالیس ہزار تک بھیڑ بکریاں درآمد کی جاتی تھیں، لیکن آج غزہ کی پٹی میں ایک بھی جانور داخل نہیں ہونے دیا جا رہا۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ قربانی کے جانوروں کی قیمتیں شہریوں کی استطاعت سے بالکل باہر ہو چکی ہیں، انہوں نے وضاحت کی کہ ایک دنبے کی قیمت جس کا وزن تقریباً 45 کلوگرام ہے چودہ ہزار شیکل تک پہنچ چکی ہے، جبکہ مقامی گوشت کی ایک کلو کی قیمت 300 شیکل سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ جنگ سے پہلے یہ قیمت صرف 25 شیکل تھی۔

انہوں نے کہا کہ عوامی رجحان بالکل نہ ہونے کے برابر ہے، اور عام شہریوں کی خریداری کی شرح ایک فیصد سے زیادہ نہیں ہے، جبکہ کچھ فلاحی تنظیمیں اور مخیر حضرات محدود تعداد میں جانور خریدنے پر انحصار کر رہے ہیں تاکہ ضرورت مند خاندانوں میں گوشت تقسیم کیا جا سکے۔

سنگین تر ہوتا انسانی المیہ

قربانی کا یہ بحران غزہ کی پٹی میں سنگین ترین انسانی المیے کے ساتھ ہی رونما ہو رہا ہے، جہاں عالمی غذائی پروگرام کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ تقریباً سولہ لاکھ افراد، جو غزہ کی پٹی کی آبادی کا 77 فیصد بنتے ہیں، شدید غذائی عدم تحفظ کے اعلیٰ درجے کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں ایک لاکھ سے زائد بچے اور 37 ہزار حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین شامل ہیں۔

اسی طرح قابض اسرائیل کی حکام انسانی ہمدردی کے پروٹوکول کے تحت منظور شدہ امداد میں سے صرف 38 فیصد حصے کو داخل ہونے کی اجازت دے رہی ہے، باوجود اس کے کہ وہاں خوراک، دوا اور ایندھن کی شدید ترین ضرورت ہے۔

اسی تناظر میں سات اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری قابض اسرائیل کی سفاکیت اور جارحیت کے اثرات مسلسل برقرار ہیں، جس کے نتیجے میں طبی ذرائع کے مطابق 72,772 سے زائد فلسطینی شہید اور 172,707 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ بنیادی ڈھانچے، مکانات، معاشی اور زرعی تنصیبات کو وسیع پیمانے پر تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

جہاں تک حالیہ سیز فائر (یا جنگ بندی) کے معاہدے کے نفاذ کے بعد کا تعلق ہے، تو اب تک تقریباً 900 فلسطینی شہید اور 2,600 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں سے سینکڑوں شہدا کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔

خوشی کے بغیر عید

ان سنگین حالات کے درمیان غزہ میں عید الاضحی کا ماحول بالکل بے رونق اور نقصانات کے بوجھ تلے دبا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ نہ تو دسترخوان سجے ہیں، نہ گذشتہ سالوں کی طرح ملاقاتیں ہیں، اور نہ ہی اکثر خاندانوں میں عید سے وابستہ شعائر کو زندہ کرنے کی ہمت بچی ہے۔

شمالی غزہ کی پٹی سے ہجرت کرنے والی ام محمد کہتی ہیں کہ بچے اب عید کے بارے میں صرف سنتے ہی ہیں، اسے جیتے نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم کپڑے اور مٹھائیاں خرید کر اور قربانی کی تیاری کر کے عید کا استقبال کیا کرتے تھے، لیکن اب ہم خیموں کے اندر زندگی گزار رہے ہیں اور روزانہ صرف کھانے کی تلاش میں رہتے ہیں۔

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ بچوں کی خوشی بھی مؤخر ہو چکی ہے، کیونکہ جنگ نے ہم سے تقریباً سب کچھ ہی چھین لیا ہے۔

منظرنامے کی اس سنگینی کے باوجود، اہل غزة عید کی بچی کچھی روح کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ سادہ ملاقاتوں، عید کی مبارکباد کے تبادلے اور شدید ترین غریب خاندانوں کی مدد کے ذریعے ایک دوسرے کا سہارا بن رہے ہیں، تاکہ اس جنگ کے بیچ سماجی یکجہتی کو برقرار رکھا جا سکے جس نے خوشی کے لیے کوئی بڑی جگہ باقی نہیں چھوڑی۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan