غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کی سفاک فوج نے بھی فضائی و توپ خانے کی بمباری اور غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں اندھا دھند فائرنگ کر کے سیز فائر (یا جنگ بندی) کی اپنی پیہم خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔
قابض اسرائیل کی افواج کی طرف سے غزہ شہر میں ایک عام شہری گاڑی کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں ایک اور فلسطینی شہری جامِ شہادت نوش کر گیا۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض افواج نے مغربی غزہ شہر میں واقع شارع شہداء پر برج فلسطین کے گردونواح میں ایک سول گاڑی کو بزدلانہ ہدف بنایا جس کے نتیجے میں کم از کم ایک شہری شہید ہو گیا۔
شمالی غزہ کی پٹی کے شہر بیت لاہیا میں قابض اسرائیل کی ظالم فوج کی گولیوں کا نشانہ بن کر ایک فلسطینی بچہ شدید زخمی ہو گیا جبکہ مشرقی غزہ کے حی الزیتون میں شہریوں کے ایک اجتماع پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں دیگر کئی عام شہری زخمی ہو گئے۔
منگل کو دوپہر ایک مقامی عینی شاہد نے بتایا کہ چودہ سالہ معصوم بچہ محمد صلاح محمد الرقب زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا ہے۔ یہ بچہ تین دن قبل صلاح الدین شاہراہ پر خان یونس گورنری کے قریب ہونے والی اسرائیلی بمباری میں شدید زخمی ہوا تھا۔
ایک اور مقامی ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس کے ساحل کے قریب اسرائیلی جنگی بحری جہازوں کی وحشیانہ فائرنگ سے النجار خاندان سے تعلق رکھنے والے دو ماہی گیر شدید زخمی ہو گئے۔
علی الصبح قابض دشمن کے جنگی طیاروں نے خان یونس کے مواصی کے علاقے کو وحشیانہ بمباری کا نشانہ بنایا جو بے گھر فلسطینیوں کے خیموں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہے۔ یہ بمباری ان مکارانہ فون کالز کے چند گھنٹوں بعد کی گئی جو قابض فوج نے متعدد پناہ گزینوں کو علاقہ خالی کرنے کے لیے کی تھیں، اور یہ ایک ایسا بھیانک جرم ہے جو معصوم شہریوں کی تکالیف اور فلسطینیوں کی نسل کشی میں اضافے کے لیے حالیہ دنوں میں بار بار دہرایا جا رہا ہے۔
قابض صیہونی دشمن کے ایک ڈرون طیارے نے خان یونس کے مواصی میں ہی شارع الطینہ کے علاقے پر ایک اور غارت گرانہ حملہ کیا۔
علاوہ ازیں قابض اسرائیل کی افواج نے خان یونس شہر کے مشرقی علاقوں میں رہائشی مکانات کو بارود سے اڑانے (نسف کرنے) کی کارروائیاں انجام دیں۔
قابض افواج نے جبالیہ قصبے کے مشرق میں روشنی کے بم برسائے اور جبالیہ کیمپ کے مغرب میں واقع الفالوجا کے علاقے کو نشانہ بناتے ہوئے ایک ہولناک فضائی حملہ کیا۔
گذشتہ روز پیر کو مقامی اور طبی ذرائع نے بتایا تھا کہ خان یونس کے مشرق میں بنی سہیلہ چوک کے قریب شہریوں کے ایک گروپ پر قابض دشمن کے طیاروں کے حملے کے نتیجے میں نوجوان محمد عبدالسلام ابو شاب شہید اور دو دیگر شہری زخمی ہو گئے تھے۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے باضابطہ اعداد و شمار کے مطابق، گذشتہ سات اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد دس اکتوبر سنہ 2025ء کو شروع ہونے والے سیز فائر کے نفاذ سے لے کر اب تک صیہونی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 881 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اس دوران 2605 افراد زخمی ہوئے اور 776 لاشوں کو ملبے سے نکالا گیا۔
سرکاری فلسطینی ریکارڈ کے مطابق اس کے ساتھ ہی سات اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ کی پٹی پر مسلط قابض اسرائیل کی مجموعی سفاکانہ جارحیت کے نتیجے میں شہدا کی کل تعداد 72,773 ہو گئی ہے اور زخمیوں کی تعداد 172,707 تک جا پہنچی ہے۔
