Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ میں پانچ طلبہ کو منصوبہ بندی کے تحت شہید کیے جانے کا انکشاف

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی وزارتِ تعلیم و اعلیٰ تعلیم نے غزہ میں سکول کے طلبہ اور بچوں پر قابض دشمن کی جانب سے جاری مسلسل حملوں کے سنگین نتائج پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے۔ یہ بیان حال ہی میں ایک ڈرون حملے میں 15 سال سے بھی کم عمر کے بچے، مجد محمد فخری حسن کی شہادت کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے ساتھ ہی ان حالیہ کارروائیوں میں شہید ہونے والے بچوں کی مجموعی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔

وزارت نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ غزہ میں طلبہ پر قابض اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی یہ مسلسل کارروائیاں ایک ایسی خطرناک پیش رفت کی عکاسی کرتی ہیں جو بچوں کو درپیش سکیورٹی خطرات کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں اور ان کے جینے، سلامتی اور تعلیم کے بنیادی حق کی راہ میں شدید رکاوٹ بن چکی ہیں۔

وزارت نے اس امر پر سخت زور دیا کہ پے در پے ہونے والے ان حملوں کے نتیجے میں پانچ طلبہ کی شہادت کو محض روزمرہ کی خبروں اور اعداد و شمار کا ایک عارضی عدد شمار نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ ایک انتہائی ہولناک انسانی اور تعلیمی نقصان ہے۔ یہ ان بچوں کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے جنہیں بین الاقوامی قوانین کے تحت تحفظ اور دیکھ بھال ملنی چاہیے، تاکہ وہ گولیوں اور بمباری کے خوف سے آزاد ہو کر اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔

بیان میں اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی گئی کہ طلبہ کا اپنے سکولوں کو جاتے یا وہاں سے واپس لوٹتے وقت، نیز تعلیمی مراکز کے اطراف میں خطرات کی زد میں آنا ان کی جانی سلامتی پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ یہ صورتحال عالمی برادری کو ان کی قانونی اور انسانی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کراتی ہے اور تقاضا کرتی ہے کہ وہ صرف ان واقعات کا اندراج کرنے اور اعداد و شمار جمع کرنے پر اکتفا کرنے کے بجائے فوری اور مؤثر تحرک کا مظاہرہ کریں۔

وزارتِ تعلیم و اعلیٰ تعلیم نے اقوام متحدہ، انروا، یونیسف، اور حقوقِ بچوں و انسانی حقوق سے متعلق عالمی اداروں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ صرف تشویش کا اظہار کرنے کے دائرے سے باہر نکلیں اور ایسے عملی و قانونی اقدامات اٹھائیں جو فلسطینی طلبہ کو تحفظ فراہم کریں، ان کے قتل اور زخمی ہونے کے واقعات کا سدِباب کریں، اور تعلیمی اداروں تک ان کی محفوظ رسائی یقینی بنائیں۔

علاوہ ازیں، وزارت نے طلبہ پر ڈھائے جانے والے ان مظالم کی پیشہ ورانہ اور آزادانہ دستاویز سازی کرنے، واقعات کی تحقیقات کرنے، بین الاقوامی قانون کے مطابق ذمہ داروں کا احتساب کرنے، اور بچوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی تنصیبات اور عملے کے لیے فوری بین الاقوامی تحفظ کا نظم کرنے کا مطالبات دہرایا، تاکہ ان المناک واقعات کے تکرار کا خاتمہ ہو سکے۔

وزارت نے اعادہ کیا کہ بچوں کا تحفظ کوئی اختیاری عمل یا عارضی ردعمل نہیں، بلکہ ایک اٹل قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ تعلیم کا حق براہِ راست زندگی کے حق سے جڑا ہوا ہے، اور جب تک طلبہ کو ان کی زندگیوں کی حفاظت کی حقیقی ضمانت نہیں ملتی، تعلیمی عمل کے تسلسل کا دعویٰ ادھورا ہی رہے گا۔

بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ ان حالات میں ضائع ہونے والا ہر طالب علم ایک ایسا روشن مستقبل ہے جو اپنی منزل سے محروم کر دیا گیا، اور ایک ایسا خاندان ہے جو ناقابلِ تلافی صدمے سے گزر رہا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ فلسطینی بچوں کے تحفظ کو سرفہرست ترجیح بنائے اور جواب دہی سے فرار کی فضا کو ختم کرتے ہوئے طلبہ کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan