تل ابیب (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بین گویر نے ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں غزہ جانے والے فلوٹیلا سے حراست میں لیے گئے کارکنان کو دکھایا گیا ہے جس میں ان کے ہاتھ کمر پر بندھے ہوئے اور وہ گھٹنوں کے بل اپنی پیشانی زمین پر رکھے ہوئے ہیں۔ادھر برطانیہ نے فلوٹیلا کارکنوں کی ویڈیو کو انسانی وقار کیخلاف قرار دیدیا،بین گویر کے ایکس اکانٹ پر شائع کردہ اور’’اسرائیل میں خوش آمدید‘‘کے عنوان والی فوٹیج میں درجنوں کارکنان کو اسرائیل میں ایک فوجی کشتی کے عرشے پر زیرِ حراست دکھایا گیا ہے جہاں وزیر اسرائیلی پرچم لہرا رہے ہیں جبکہ اسرائیلی ترانہ بہت بلند آواز میں بج رہا ہے۔
مذکورہ ویڈیو میں وزیر کے قریب سے گذرنے پر جب ایک کارکن کھڑے ہو کر “آزاد فلسطین” کا نعرہ لگاتا ہے تو حراستی مرکز کا عملہ اسے نیچے دھکیل دیتاہے اور وزیر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
ادھربرطانوی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر نے کہا ہے کہ اسرائیلی حراست میں کارکنوں کی ویڈیو دیکھ کر وہ دنگ رہ گئیں۔یوویٹ کوپر نے کہا کہ ویڈیو انسانی احترام اور وقار کے بنیادی معیار کی خلاف ورزی ہے، اسرائیلی حکام سے واقعیکی وضاحت طلب کی ہے۔
یورپی کمیشن نے کہا کہ غزہ فلوٹیلا کارکنوں کے ساتھ اسرائیلی سلوک ناقابل قبول ہے، اسرائیل کارکنوں اور یورپی شہریوں کی حفاظت یقینی بنائے۔یورپی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایاکلاس نے کہا کہ غزہ جانے والے امدادی کارکنوں کو ہتھکڑیاں لگا کر زمین پر بٹھانا توہین آمیز ہے۔اٹلی،فرانس،کینیڈا اور ہالینڈ نے شدید مذمت کرتے ہوئے فلوٹیلا ارکان کے ساتھ برے سلوک پر اسرائیل سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جنوبی کوریا کے صدر نے اسرائیلی اقدام کو اغوا قرار دے دیا ہے۔