کراچی(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطین فائونڈیشن پاکستان کی اپیل پر ملک بھر میں 21 اگست کو یوم دفاع مسجد اقصیٰ منایا گیا اور ملک بھر میں چھوٹے پبڑے شہروں میں قبلہ اول کے دفاع کے لئے احتجاجی مظاہرے کئے گئے جبکہ مرکزی احتجاج کراچی پریس کلب کے باہر کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے میں شریک سیاسی ومذبی جماعتوں کے قائدین سمیت سول سوسائٹی، اقلیتی برادری اور طلبا ء او اساتذہ سمیت وکلاء اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نامور مرد و خواتین شریک ہوئے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر قبلہ اول کے دفاع اور مسلمانوں کی ذمہ داری سمیت امریکہ مردہ باد اور اسرائیل نا منظور کے نعرے درج تھے جبکہ ہاتھوں میں پاکستان اور فلسطین کے پرچم بھی اٹھا رکھے تھے۔
مرکزی احتجاجی مظاہرہ سےجماعت اسلامی کے نائب امیر مسلم پرویز،فلسطین فائونڈیشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم، پاکستان پیپلزپارٹی کے سید ارشد حسین، پاکستان مسلم لیگ نواز کے پیرزادہ ازہر علی ہمدانی جمعیت علماء پاکستان کے علامہ عقیل انجم، مجلس وحدت مسلمین کے علامہ باقر زیدی، عوامی نیشنل پارٹی کے یونس بونیری، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سابق رکن سندھ اسمبلی میجر (ر) قمر عباس، مرکزی مسلم لیگ کے رہنما مولانا اسحاق ،پی ٹی آئی خواتین رہنما تاجور حسین، عائشہ رشید، تحریک منہا ج القرآن کے عبد الصمد، جمعیت اہلحدیث کے مفتی مرتضیٰ رحمانی، پاکستان نظریاتی پارٹی کے ابراھیم چترالی، معروف اسکالر پیر معاذ نظامی، سماجی رہنما اسلم فاروقی سمیت مفتی عبد الوحید یونس، حمید اللہ ایڈوکیٹ سمیت دیگر نے خطا ب کیا۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پاکستان کے تمام طبقات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوںنے آج یوم دفاع اقصیٰ منا کر ثابت کیا کہ پاکستان کے عوام فلسطین اور القدس کے ساتھ ہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ سنہ 1969 ء میں آج ہی کے دن مسلمانوں کے قبلہ او ل کو نذر آتش کیا گیا اور آج بھی مسجد اقصیٰ خطرے میں ہے۔ مقررین نے کہا کہ قبلہ اول مسجد اقصیٰ کا دفاع کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے ۔انہوںنے عالم اسلام کے حکمرانوں سے اپیل کی کہ قبلہ اول کے دفاع کے لئے موثر اور عملی حکمت عملی اپنائی جائے اور فلسطین کی غاصب صیہونی قبضہ سے آزادی اور القدس کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ مقررین نے فلسطین میں مسیحی مقدسا ت کو غاصب صیہونیوں کی جانب سے نقصان پہنچانےاور توہین کے واقعات پر شدید مذمت کی۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کامزید کہنا تھا کہ سنہ 1969 میں مسجد اقصیٰ پر حملہ کے بعد اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی بنائی گئی تھی جو 57 سال گزرنے کے باوجود مسجد اقصیٰ کا دفاع کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوںنے اسلامی ممالک کی تنظیم کی ناکامی کو آپس میں وحدت اور اتحاد نہ ہونا قرار دیا، ان کاکہنا تھا کہ فلسطین و القدس کی آزادی کا واحد راستہ مسلمان حکمرانوں کا باہمی اتحاد میں ہے۔ انہوںنے کہا کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم دنیا کے حکمران امریکہ پر انحصار کرنے کی بجائے باہمی تعاون اور اتحاد کو فروغ دیں۔انہوںنے فلسطین و لبنان میں مسلسل اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی اور کہا کہ غزہ اور لبنان میں تاحال اسرائیلی جارحیت جاری ہے اور عالمی برادری جنگ بندی کے معاہدوں کے باوجود غاصب اسرائیل کو لگام دینے میں ناکام ہے۔ مقررین نے ہندوستان میں امریکی سفیر کے دورہ مقبوضہ کشمیر کی مذمت کی اور کہا کہ امریکی سفیر کا کشمیر کو ہندوستانی علاقہ قرار دیان امریکہ کی جارحانہ سوچ اور عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔اس موقع پر شرکائے مظاہرہ نے فلسطین ، لبنان، یمن، ایران او مزاحمت کے شہداء بشمول اسماعیل ھنیہ، یحیٰ سنوار، حسن نصر اللہ، سید علی خامنہ ای اور حسین بدرالدین حوثی سمیت غزہ و لبنان کے لاکھوں شہداء او ر پاکستان کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔
