Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

ماہرین کا انتباہ، مسجدِ اقصیٰ کے لیے آنے والا جمعہ حساس ترین قرار

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ بیت المقدس کے امور کے ماہر اور محقق زیاد ابحیص نے خبردار کیا ہے کہ آنے والا جمعہ “مقبوضہ بیت المقدس پر قبضے کے بعد سے اب تک مسجدِ اقصیٰ کے لیے خطرناک ترین جمعہ” ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ انتباہ انتہا پسند ہیکل گروپوں کی ان سازشوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے جو قابض اسرائیلی حکومت اور پولیس کے ساتھ مل کر مسجدِ مبارک کے اندر نئے حقائق مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ابحیص نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وضاحت کی کہ اس سال کی سنگینی اس بات میں پنہاں ہے کہ قدس پر قبضے کی نام نہاد “عبرانی برسی” اس جمعہ 15 مئی سنہ 2026ء کو آ رہی ہے، جو کہ فلسطینی نکبہ کی اٹھہترویں برسی کا دن بھی ہے۔ یہ اتفاق ہیکل گروپوں کو ایک “تاریخی مثال” قائم کرنے کا موقع فراہم کر رہا ہے کہ وہ جمعہ کے دن بھی آباد کاروں کے ذریعے مسجدِ اقصیٰ پر دھاوا بول سکیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ گذشتہ برسوں کے دوران یہ موقع مسجدِ اقصیٰ پر نام نہاد “صہیونی خودمختاری” کی نمائش کا مرکزی ذریعہ بن چکا ہے، جس میں اسرائیلی جھنڈے لہرائے جاتے ہیں اور مسجد کے صحنوں میں تلمودی رسومات بشمول اجتماعی سجدے (پروٹریشن) ادا کیے جاتے ہیں۔

نئے حملوں کی منصوبہ بندی

زیاد ابحیص نے اس بات کی تصدیق کی کہ ہیکل گروپ ابتدائی طور پر جمعرات کے دن ایک “تلافی کنندہ” دھاوا بولنے کی کوشش کریں گے تاکہ اگر جمعہ کے دن مسجد پر حملہ کرنا مشکل ہو تو اس کی کمی پوری کی جا سکے، تاہم بعد ازاں ان کا ہدف جمعہ کے دن نمازِ جمعہ سے قبل یا بعد میں دھاوا بول کر اسے ایک مستقل روایت کے طور پر مسلط کرنا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ منصوبہ صرف جمعہ کے دن حملہ کرنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد مقررہ اوقات سے ہٹ کر حملوں کے نئے اوقات متعارف کروانا ہے، جیسے نمازِ عصر یا نمازِ مغرب کے بعد۔ یہ اقدام مستقبل میں حملوں کے اوقات کار میں توسیع اور مسجدِ اقصیٰ کی زمانی تقسیم کی پالیسی کو وسعت دینے کی راہ ہموار کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل ان اقدامات کے ذریعے ایک ایسا فارمولا طے کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس میں صہیونی قومی اور یہودی مناسبتوں کو مسجدِ اقصیٰ کے اندر اسلامی مناسبتوں کے تقدس کے برابر لایا جا سکے، تاکہ قابض اسرائیل کی من گھڑت کہانی کے مطابق مسجد پر آباد کاروں کے “مساوی حق” کو تسلیم کروایا جا سکے۔

مسجدِ اقصیٰ کی طرف رختِ سفر باندھنے کی اپیل

ابحیص نے اس بات پر زور دیا کہ ان سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مسجدِ اقصیٰ میں اعتکاف، رباط اور رختِ سفر باندھنے (شدِ رحال) کے عمل کو تیز کرنا ضروری ہے، اور اسے فلسطین کے اندر اور باہر ایک وسیع عوامی تحریک کا عنوان بنانا ہو گا۔

انہوں نے اس جانب اشارہ کیا کہ قابض اسرائیل اب جمعہ اور اسلامی مناسبتوں پر مسجدِ اقصیٰ کو بند کرنے کی پالیسی سے آگے بڑھ کر عین جمعہ کے دن آباد کاروں کے حملے مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال مسجدِ اقصیٰ پر مستقبل میں ہونے والے حملوں کی نوعیت اور آنے والے مرحلے میں مزاحمت کی سمت کا تعین کرے گی۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan