بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے نافذ کردہ کڑے فوجی اقدامات اور رکاوٹوں کے باوجود دسیوں ہزار فرزندانِ توحید نے مسجدِ اقصیٰ میں نمازِ جمعہ ادا کی۔
القدس گورنری کے مطابق نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے صبح ہی سے ہزاروں نمازیوں کی مسجدِ اقصیٰ آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا، جبکہ دوسری جانب قابض اسرائیل نے مسجد کے دروازوں پر سخت فوجی پہرے بٹھا کر نمازیوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کیں اور پرانے شہر کے گردونواح سمیت اندرونی حصوں میں بھی اپنی نفری کا بھاری جال بچھا رکھا تھا۔
گذشتہ چند دنوں سے فلسطینیوں کی جانب سے جمعہ کے روز مسجدِ اقصیٰ میں بھرپور حاضری دینے اور وہاں ڈیرے ڈالنے کی اپیلیں کی جا رہی تھیں، کیونکہ عبرانی تقویم کے مطابق نام نہاد یومِ القدس کی مناسبت سے انتہا پسند ہیکل گروہوں اور یہودی ربیوں کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ پر بڑے پیمانے پر دھاوے بولنے کی ترغیب دی جا رہی تھی۔
حالیہ دنوں میں انتہا پسند آبادکار گروہوں نے آباد اروں کو مسجدِ اقصیٰ میں گروہی صورت میں داخل ہونے کے لیے اشتعال انگیز پیغامات بھیجے ہیں، جس پر فلسطینی حلقوں نے متنبہ کیا ہے کہ ان سازشوں کا مقصد مسجدِ مبارک کے اندر یہودیت کے نئے حقائق مسلط کرنا ہے، خاص طور پر مئی کے وسط میں جب القدس اور مسجدِ اقصیٰ کے خلاف اسرائیلی خلاف ورزیوں اور سفاکیت میں تیزی آ جاتی ہے۔
فلسطینیوں کی جانب سے جاری کردہ اپیلوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ قابض افواج کی جانب سے نمازیوں کے داخلے پر لگائی گئی سخت فوجی پابندیوں کے باوجود آنے والے دنوں میں مسجدِ اقصیٰ میں موجودگی اور رباط (پہرہ دینے) کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ آبادکاروں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جا سکے اور باحاتِ مسجد میں تلمودی رسومات کی ادائیگی کی کوششوں کا راستہ روکا جا سکے۔
اسی تناظر میں اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے رہنما ماجد ابو قطیش نے انتہا پسند یہودا گلیک کے مسجدِ اقصیٰ پر دھاوے اور وہاں تلمودی رسومات کی قیادت کرنے کو انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام مسجد کی حرمت پر منظم حملہ اور یہودیت مسلط کرنے کی ایک پیہم کوشش ہے۔
ماجد ابو قطیش کا کہنا تھا کہ قابض اسرائیل کی انتہا پسند حکومت کی سرپرستی میں جاری یہ منظم کارروائیاں مسجدِ اقصیٰ کی شناخت تبدیل کرنے یا اس پر ہمارے عوام اور امتِ مسلمہ کے حق کو چھیننے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ان مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں مقبوضہ بیت المقدس اور پورے خطے میں حالات کسی بھی وقت دھماکہ خیز صورتحال اختیار کر سکتے ہیں۔
انہوں نے عوام سے عام نفیر اور مسجدِ اقصیٰ کی طرف کوچ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہاں عوامی موجودگی اور رباط کو اس قدر مضبوط کیا جائے کہ آبادکار اپنے مذموم منصوبے پورے نہ کر سکیں اور مسجدِ مبارک ان کے بڑھتے ہوئے حملوں اور توہین آمیز اقدامات کا شکار نہ ہونے پائے۔
