Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

غیر قانونی بستیوں سے منافع پر احتجاج، فرانسسکا البانیز اور وایزمین فیسٹیول سے دستبردار

کاؤنٹی ویلز – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے عالمی ‘ہائے فیسٹیول’ کی سرگرمیوں سے باقاعدہ طور پر دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا ہے، یہ احتجاج فیسٹیول کے منتظمین اور جائیدادوں کو ڈیجیٹل کرائے پر دینے والی معروف امریکی کمپنی ‘ائیر بی این بی’ کے درمیان قائم شراکت داری کے خلاف کیا گیا ہے۔

فرانسسکا البانیز نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا یہ فیصلہ اس اصول پر مبنی ہے جس کے تحت ان اداروں کے ساتھ تعلقات کو یکسر مسترد کیا جاتا ہے جو مغربی کنارے میں قائم قابض اسرائیل کی غیر قانونی بستیوں سے منافع کماتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ سپانسر کمپنی براہ راست ایک ایسے اقتصادی نظام کو مدد فراہم کرنے میں ملوث ہے جو غاصبانہ قبضے، زمینوں کو ہڑپ کرنے اور فلسطینیوں کو ان کی اپنی ہی سرزمین سے زبردستی بے دخل کرنے (نسل کشی اور جبری ہجرت) کے عمل کو تقویت دیتا ہے۔

اس اصولی موقف میں فرانسسکا البانیز اکیلی نہیں تھیں بلکہ ممتاز ماہر تعمیرات اور مایہ ناز دانشور پروفیسر ایال وایزمین نے بھی انہی اصولوں کی حمایت میں فیسٹیول سے الگ ہونے کا اعلان کیا ہے۔ پروفیسر وایزمین لندن کی گولڈ سمتھ یونیورسٹی میں اسپیٹیل کلچرز (مکانی ثقافت) کے پروفیسر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور وہ غاصب قابض دشمن کی پالیسیوں کے خلاف اپنی تعلیمی و علمی سرگرمیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر جانے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ ‘ہائے فیسٹیول’ نامی یہ ادبی میلہ اس وقت برطانیہ کی کاؤنٹی ویلز کے ایک قصبے ‘ہائے اون وائے’ میں منعقد ہو رہا ہے جو مئی کے موجودہ مہینے کے آخر تک جاری رہے گا۔ اس میلے کا شمار دنیا کے اہم ترین ثقافتی اور ادبی فورمز میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس مقتدر ادبی محفل سے انسانی حقوق کی ان مقتدر شخصیات کی دستبرداری کی گونج پوری دنیا میں انتہائی شدت سے سنی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنے ایک بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ انسانی اقدار کو کبھی بھی حصوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی انہیں مخصوص حالات کے تابع کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ انسانی حقوق کی پامالیوں پر خاموشی اختیار کرنا کسی بھی صورت میں ذاتی آرام یا ثقافتی وقار کی قیمت پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس دستبرداری کو یہودی آباد کاروں کے لیے بستیوں کی تعمیر کی مسلسل حمایت کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ قرار دیا۔

فیسٹیول کے سرکاری ڈیٹا سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ‘ائیر بی این بی’ کمپنی اس تقریب کے ساتھ ایک سٹریٹجک پارٹنر اور آفیشل سپانسر کے طور پر منسلک ہے، جس نے انسانی حقوق کے علمبرداروں کے غصے کو مزید بھڑکا دیا ہے۔ اس کمپنی کو عالمی سطح پر مسلسل شدید تنقید کا سامنا ہے کیونکہ یہ ان جائیدادوں کو اپنے کاروباری مینو میں شامل کرتی ہے جو فلسطینیوں کی لوٹی ہوئی اراضی پر قائم ناجائز بستیوں کے اندر واقع ہیں۔

یہ دلیرانہ موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سنہ 2022ء کے اواخر میں قابض اسرائیل کی موجودہ فاشسٹ حکومت کے برسرِاقتدار آنے کے بعد سے مغربی کنارے اور مشرقی مقدسی علاقے میں یہودی آباد کاروں کی بستیوں کی تعمیر میں خوفناک حد تک تیزی آئی ہے۔ رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی دھجیاں اڑاتے ہوئے ان استعماری بستیوں میں اب تک کی سب سے بڑی اور بے لگام توسیع کی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں قائم سیکڑوں بستیوں اور چرواہوں کے نام پر ہڑپ کی گئی زمینوں میں تقریباً ساڑھے سات لاکھ یہودی آباد کار دندناتے پھر رہے ہیں۔ ان غاصبوں میں سے تقریباً ایک چوتھائی ملین یہودی آباد کار مقبوضہ بیت المقدس میں رہائش پذیر ہیں، جس کا مقصد ایک جغرافیائی طور پر جڑی ہوئی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو یکسر ختم کرنا ہے۔

بستیوں کی اس وحشیانہ توسیع کے ساتھ ساتھ قابض فوج اور مسلح یہودی آباد کاروں کی جانب سے زمینی سطح پر مظالم اور جارحیت میں بھی شدید اضافہ ہوا ہے، جس میں فلسطینیوں کے مکانات، تنصیبات اور ان کے ذرائع معاش کو بڑے پیمانے پر مسمار کرنا شامل ہے۔ مبصرین کے مطابق ان مزموم اقدامات کا واحد مقصد ایک نیا جبر کا ماحول مسلط کرنا ہے تاکہ مغربی کنارے کو باقاعدہ طور پر غاصب اسرائیلی سیادت میں شامل کرنے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

اسی سلسلے میں دیوار وبستی مخالف مزاحمتی اتھارٹی کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قابض دشمن نے صرف گذشتہ ماہ کے دوران درجنوں رہائشی مکانات کو مسمار کرنے کی کارروائیاں کی ہیں۔ ان ظالمانہ کارروائیوں کا نشانہ القدس گورنری، رام اللہ اور بیت لحم کے اضلاع میں واقع آباد گھر اور زرعی تنصیبات بنیں، جس کے نتیجے میں درجنوں معصوم فلسطینی خاندان اپنے ہی وطن میں بے گھر ہو کر رہ گئے۔

فرانسسکا البانیز اور وایزمین کی یہ تاریخی دستبرداری بین الاقوامی ثقافتی اداروں کو ان کے شراکت داروں کے انتخاب کے حوالے سے ان کی اخلاقی ذمہ داری کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اس اقدام نے ان بین الاقوامی بائیکاٹ مہمات کو بھی ایک نئی طاقت بخشی ہے جو فلسطینی سرزمین پر قابض اسرائیل کے استعماری ڈھانچے کو سہارا دینے والی مجرم کمپنیوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan