مقبوضہ فلسطین – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) سیاسی تجزیہ کار اور ممتاز کالم نگار احمد الحیلہ نے سیاسی تقسیم کے تسلسل، رام اللہ میں موجود فلسطینی قیادت کے تذبذب، علاقائی و بین الاقوامی تبدیلیوں کے ساتھ دھڑے بندی کے حساب کتاب کے آپس میں گڈ مڈ ہونے کے ساتھ قومی فلسطینی مکالمے کی کامیابی کے محدود مواقع پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا قوی امکان ظاہر کیا ہے کہ فلسطینی انتخابات مسلسل التوا کے خطرے سے دوچار رہیں گے جب تک کہ قومی اتفاق رائے اور تجدید کے لیے قیادت کی سوچ اور طریقہ کار تبدیل نہیں ہو جاتا۔
احمد الحیلہ نے مرکز اطلاعات فلسطین کے لیے تیار کردہ اپنے موقف کے تجزیاتی جائزے جس کا عنوان “فلسطینی حالات کے بحران سے… قیادت کے بحران اور محدود اختیارات تک” تھا میں کہا کہ مسئلہ فلسطین کو ایسے وجودی خطرات کا سامنا ہے جو نہ صرف قابض اسرائیلی پالیسیوں اور منصوبوں سے جڑے ہیں بلکہ قیادت اور سیاسی نظام کے بحران، حماس اور فتح کے درمیان مسلسل تقسیم، اور تیز رفتار چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی ایک جامع و متحد قومی حکمت عملی کے فقدان سے بھی منسلک ہیں۔
مکالمے اور انتخابات کے محدود منظر نامے
احمد الحیلہ نے وضاحت کی کہ فلسطینی قومی مکالمے کا مستقبل کافی حد تک قابض اسرائیل اور امریکہ کے انتخابات کے نتائج سے جڑا ہوا ہے۔ نیز انہوں نے دو ممکنہ منظر ناموں کی طرف اشارہ کیا، پہلا منظر نامہ مکالمے کو انتخابات کے بعد تک ملتوی کرنا ہے اگر فلسطینی اتھارٹی کی قیادت واشنگٹن اور تل ابیب میں سیاسی تبدیلیوں کی صورت میں قابض اسرائیل کے ساتھ سیاسی عمل کو بحال کرنے کے امکانات پر شرط لگاتی ہے۔
جہاں تک دوسرے منظر نامے کا تعلق ہے تو وہ انتہائی پست سیاسی سطح کے ساتھ مکالمے کو دوبارہ شروع کرنے میں ظاہر ہوتا ہے اگر قابض اسرائیل کے انتخابات میں بنیامن نتن یاھو کی قیادت میں دائیں بازو کے موقع کو مزید تقویت ملتی ہے، جس کے ساتھ ہی حماس اور تمام مزاحمتی دھڑوں کے ساتھ کسی بھی تقارب یا توافق پر قابض اسرائیلی حکومت کے شدید ردعمل کے حوالے سے اتھارٹی کی قیادت کے خدشات شامل ہیں۔
الحیلہ نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی اتھارٹی کی قیادت کے تذبذب علاقائی کشیدگی کے نتائج میں عرب ممالک کی مصروفیت اور فلسطینی انتخابات کرانے کی سمت میں دباؤ ڈالنے کی بین الاقوامی فریقوں کی صلاحیت میں کمی کے سایہ میں مکالمے کی کامیابی کے مواقع انتہائی محدود رہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تمام حقائق قابض دشمن کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں اندرونی تقسیم اور قومی اداروں کی بازآبادکاری و ان کی مشروعیت کی تجدید جیسے اہم استحقاق سے بچنے کے لیے مکالمے کو استعمال کرنے کے خدشات کی موجودگی میں، انتخابات کے انعقاد اور جمہوری زندگی کی بحالی کو ایک مسلسل چیلنج بنا دیتے ہیں۔
سیاسی شرائط جو قومی توافق کے مواقع کو خطرے میں ڈالتی ہیں
الحیلہ نے نشاندہی کی کہ انتخابات کے التوا کے بعد قاہرہ میں فتح اور حماس کے درمیان ہونے والی پہلی ملاقات نے مکالمے کی کامیابی کے امکانات کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ شروع ہی سے ایک جامع قومی شرکت کے بغیر اسے صرف ان دو تحاریک تک محدود رکھنا، ان کے اندازے کے مطابق اس مرحلے کی حقیقی نوعیت کی عکاسی نہیں کرتا جو تمام فلسطینی قوتوں اور دھڑوں کی فعال شرکت کا تقاضا کرتا ہے۔
انہوں نے مُکالمے کے دوران پیشگی سیاسی شرائط، مثلاً فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے پروگرام، دو ریاستی حل اور بین الاقوامی قرار دادوں کی پابندی کو سامنے لانے پر بھی کڑی تنقید کی، اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ فلسطین میں رونما ہونے والی انقلابی تبدیلیوں کو مدنظر رکھے بغیر ان شرائط پر اصرار کرنا ایک مشترکہ زمین تک پہنچنے کے مواقع کو محدود کر دیتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ قومی مکالمہ جمہوری اور مشارکت کی بنیادوں پر فلسطینی سیاسی نظام کی ازسرنو تعمیر کے لیے ایک راستے کے طور پر استعمال ہونے کے بجائے انتخابات کے التوا کو برقرار رکھنے اور قائم سیاسی صورت حال کو جوں کا توں رکھنے کے لیے ایک آڑ بن کر نہ رہ جائے۔
قیادت کا بحران سیاسی تقسیم کے نتائج سے بھی وسیع تر ہے
الحیلہ نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ انتخابات کا التوا مقبوضہ مغربی کنارے پر قابض اسرائیل کے الحاق کے منصوبوں اور غزہ پر مکمل کنٹرول کی مذموم کوششوں کو روک نہیں سکتا اور نہ ہی یہ پٹی میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران کا کوئی حل پیش کرتا ہے، جس کی وجہ سے قومی توافق ایک ایسی ناگزیر ضرورت بن جاتا ہے جو مسئلہ فلسطین کے مستقبل کو درپیش خطرناک چیلنجوں کا مقابلہ کر سکے۔
انہوں نے اس طرف بھی توجہ دلائی کہ قابض دشمن غزہ کی میں محاصرے، تباہ کاریوں اور کی جانے والی تعمیرِ نو کو روک کر اپنے مذموم منصوبوں کو جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ اس کے ساتھ ہی مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کے سفاکانہ حملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور زمین پر نیا واقعیاتی ماحول مسلط کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ معرکہ طوفان الاقصیٰ کے بعد مسئلہ فلسطین کو علاقائی اور بین الاقوامی توجہ کے مرکز میں دوبارہ لانے میں کامیابی کے باوجود فلسطینی شعبہ ابھی تک ان سیاسی، سکیورٹی، معاشی اور انسانی بحرانوں سے باہر نہیں نکل سکا، جبکہ ایک متحد قومی حکمت عملی کا فقدان واضح ہے جو اس عالمی موجودگی کو مثبت انداز میں استعمال کر سکے اور فلسطینی حقوق کے سودے پر کسی بھی قسم کا تصفیہ مسلط کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن سکے۔
قومی وحدت: فلسطینی حقوق کے تحفظ کے لیے ناگزیر ضرورت
الحیلہ نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی قیادت کو ایک ایسی تاریخی ذمہ داری کا سامنا ہے جو دھڑے بندی کے حساب کتاب اور اقتدار میں بقا کے مفادات پر اعلیٰ قومی مفاد کو ترجیح دینے کا تقاضا کرتی ہے۔ نیز انہوں نے خبردار کیا کہ تقسیم کا تسلسل اور مشروعیت کی تجدید کے استحقاق کا التوا قابض دشمن کے منصوبوں کا مقابلہ کرنے کی فلسطینی صلاحیت کو کمزور کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ قومی وحدت کو محض نفوذ کی تقسیم کی ڈیل میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے ایک ایسے حقیقی سیاسی اشتراک کا فریم ورک بننا چاہیے جو قومی حقوق کی حفاظت کرے اور جمہوری بنیادوں پر نمائندہ اداروں کو ازسرنو تعمیر کرے۔
الحیلہ نے اپنے بیان کے اختتام میں اس بات کی توثیق کی کہ فلسطینی قیادت کا حقیقی امتحان چیلنجوں کے حجم کے مطابق جرات مندانہ فیصلے کرنے، قومی صفوں کو متحد کرنے، سیاسی نظام کی تجدید کرنے، اور ایک وسیع تر سیاسی شرکت کے لیے راہ ہموار کرنے کی اس کی صلاحیت میں پنہاں ہے، تاکہ فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین، اپنے حقوق اور اپنے مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے مزید طاقت اور ثبات مل سکے۔
