مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے مقبوضہ بیت المقدس کے محلے شیخ جراح میں واقع اقوامِ متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (انروا) کی عمارت کو عسکری تنصیبات میں تبدیل کرنے کی قابض اسرائیلی حکومت کی منظوری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جس کے تحت اس جگہ کو فوج کے میوزیم اور بھرتی کے دفتر میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
حماس نے اپنے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ فیصلہ ایک خطرناک ترین پیش رفت اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور یہ اقدام اقوامِ متحدہ اور اس کی ذیلی تنظیموں کے عالمی استحقاق کو یکسر پسِ پشت ڈالنے کی صہیونی روش کو ظاہر کرتا ہے؛ انہوں نے کہا کہ یہ ظالمانہ فیصلہ فلسطینی سرزمین کو یہودیانے اور نوآبادیاتی استعمار کو مضبوط کرنے کے ایک منظم اور خطرناک منصوبے کا حصہ ہے اور یہ فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا تسلسل ہے۔
حماس نے واضح کیا کہ یہ غاصبانہ کارروائی مکمل طور پر باطل اور غیر قانونی ہے اور یہ عالمی برادری کے ارادے کو کھلا چیلنج ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس کی مذمت اور اسے منسوخ کرنے کے لیے ایک مضبوط اور حتمی بین الاقوامی موقف اختیار کیا جائے اور بنجمن نیتن یاھو کی غاصب صہیونی حکومت پر ایسی سخت اقتصادی و سیاسی پابندیاں عائد کی جائیں جو اسے اس سفاکیت سے باز رکھ سکیں۔
حماس نے اس امر پر زور دیا کہ ’انروا‘ کو نشانہ بنانا ایک ایسی منظم مہم کا حصہ ہے جس کا اصل مقصد فلسطینی پناہ گزینوں کے اپنی غصب شدہ اور مقبوضہ زمینوں پر واپسی کے برحق حق پر ایک مستند عالمی گواہ کے طور پر اس ایجنسی کے کلیدی کردار کو ہمیشہ کے لیے مٹانا ہے تاکہ غاصب صہیونی دشمن ریاست کی طرف سے فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان کی شناخت مٹانے کے مہیب عزائم کو پورا کیا جا سکے۔
