غزہ ۔(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل کی حراست میں فلسطینی اسیران کو تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بنانا “ناقابل قبول” ہے۔ انہوں نے تمام اموات، تشدد، بدسلوکی اور غیر انسانی سلوک کے واقعات کی آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بیانات کمیشن کے ترجمان ثمین الخيطان کی زبان سے امریکی اخبار “نیویارک ٹائمز” کی اس رپورٹ پر تبصرے کے دوران سامنے آئے ہیں جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ حراست میں لیے گئے فلسطینیوں کو جنسی جرائم اور آبرو ریزی کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کی زد میں بچے بھی آئے اور اس گھناونے فعل کا ارتکاب قابض اسرائیلی فوجیوں، جیلروں اور نوآبادیاتی کارندوں نے کیا ہے۔
الخیطان نے کہا کہ کمیشن نے “قابض صہیونی عقوبت خانوں میں نظربند فلسطینیوں کے خلاف منظم طریقے سے تشدد اور بدسلوکی کے عمل کو دستاویزی شکل دی ہے، جس میں جنسی اور صنف پر مبنی تشدد بھی شامل ہے”۔ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ وہاں ریپ کے ایسے واقعات بھی موجود ہیں جن کا شکار بچوں کو بنایا گیا۔
انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ کمیشن نے سات اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک قابض صہیونی عقوبت خانوں کے اندر کم از کم 90 فلسطینی اسیران کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ متاثرین میں سے ایک 17 سالہ لڑکا بھی تھا جس پر موت سے قبل شدید بھوک اور فاقہ کشی کے آثار نمایاں تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غاصب حکام نے اموات کے اضافی معاملات کا اعلان تو کیا ہے لیکن انہوں نے ایسے کافی اعداد و شمار فراہم نہیں کیے جس سے متاثرین کی شناخت یا ان کی موت کے حالات کی تصدیق ممکن ہو سکے۔
الخیطان نے جو کچھ ہو رہا ہے اسے “قابض اسرائیل کے ایک ایسے ناقص حراستی اور عدالتی نظام” کا حصہ قرار دیا جس میں من مانی گرفتاریاں، غیر منصفانہ ٹرائل اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس نظام کا خاتمہ ضروری ہے، اور قابض اسرائیل کو بطور قابض قوت انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرنے پر مجبور کیا جائے۔
کمیشن کے ترجمان نے اپنی بات کا اختتام اس تاکید کے ساتھ کیا کہ موت، تشدد یا غیر انسانی سلوک کے تمام معاملات کی “آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف” تحقیقات کرائی جائیں اور اس کے ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے۔
