Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

القدس: انروا کمپاؤنڈ کو فوجی مرکز بنانے پر بین الاقوامی تشویش

مقبوضہ بیت المقدس ۔ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) القدس گورنری نے کہا ہے کہ مقبوضہ القدس شہر کے محلے شیخ جراح میں فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد اور بحالی کی ذمہ دار اقوام متحدہ کی ایجنسی “انروا” کے ہیڈ کوارٹر کے کھنڈرات پر قابض فوج کے لیے ایک میوزیم، بھرتی کا دفتر اور “وزارت سکیورٹی” کا ہیڈ کوارٹر قائم کرنے کے نئے استعماری منصوبے کی منظوری دینا ایک خطرناک اضافہ ہے اور یہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہونے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی تنظیموں کے استحقاق اور ان کے تحفظ کی شدید پامالی ہے۔

گورنری نے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ یہ جارحیت تمام بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے اور جنیوا کے چوتھے کنونشن کے تحت بطور قابض قوت قابض اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح پامالی ہے، بالخصوص عوامی املاک کے تحفظ اور بین الاقوامی انسانی اداروں کے کام کو بغیر کسی رکاوٹ کے یقینی بنانے کے حوالے سے، نیز یہ سنہ 1946ء کے اقوام متحدہ کے مراعات اور استحقاق کے کنونشن کی بھی خلاف ورزی ہے۔

گورنری نے واضح کیا کہ یہ نیا استعماری منصوبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب گذشتہ جنوری میں قابض حکام نے قابض حکومت کے وزیر برائے قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر کی براہ راست نگرانی میں شیخ جراح کے محلے میں واقع “انروا” کے کمپلیکس کو منہدم کر دیا تھا، جس کے بعد نام نہاد “اسرائیل لینڈ اتھارٹی” کے حق میں اس پر قبضے کا حکم نامہ آویزاں کیا گیا، باوجود اس کے کہ یہ کمپلیکس اقوام متحدہ سے وابستہ ہے اور اسے ایسا قانونی تحفظ حاصل ہے جو اسے کسی بھی قسم کے انتظامی، عدالتی یا تادیبی اقدامات کے تابع کرنے سے روکتا ہے۔

گورنری نے مزید بتایا کہ قابض اسرائیل کے وزیر سکیورٹی یسرائیل کاٹز کے تیار کردہ اس منصوبے کے تحت تقریباً 36 دونم پر مشتمل اراضی کا ٹکڑا بغیر کسی ٹینڈر کے وزارت سکیورٹی کے لیے مختص کرنے کی منظوری دی گئی ہے، جس کا بہانہ یہ تراشا گیا ہے کہ القدس میں موجودہ بھرتی کے دفتر کی عمارت “قابض اسرائیلی فوج کی ضروریات کے مطابق نہیں ہے”۔ یہ اقدام مقبوضہ القدس شہر میں مزید استعماری حقائق مسلط کرنے اور عوامی مقامات کو یہودیانے کے بڑھتے ہوئے صہیونی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ “تلہ الذخیرہ” کے مقام کے قریب نام نہاد “اسرائیلی فوجی ورثہ” کے میوزیم کا قیام غاصبانہ قبضے کے بیانیے کو مضبوط کرنے اور فلسطینی تاریخی مقامات کو قابض اسرائیل کے فوجی بیانیے سے جوڑنے کی ایک منظم کوشش ہے۔

القدس گورنری نے اس بات پر سخت زور دیا کہ قابض حکام کی جانب سے منظور کردہ کسی بھی قانون یا فیصلے کے نتیجے میں “انروا” کی قانونی حیثیت یا مقبوضہ فلسطینی سرزمین بشمول مشرقی القدس میں اس کی موجودگی اور سرگرمیوں پر کوئی قانونی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق یہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔

القدس گورنری نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرش سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قابض اسرائیل کو عالمی عدالت انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے فوری اقدامات کریں اگر وہ “انروا” کو نشانہ بنانے والے قوانین اور اقدامات کو منسوخ نہیں کرتا اور ضبط کی گئی املاک اور اثاثے واپس نہیں کرتا۔ گورنری نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی برادری کی مسلسل خاموشی قابض حکام کو مقبوضہ القدس میں فلسطینی عوام اور بین الاقوامی اداروں کے خلاف اپنی سفاکیت اور جارحیت جاری رکھنے پر شہ دیتی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan