بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ “یونیسف” نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ 2 مارچ سے لبنان پر جاری قابض اسرائیل کے پیہم حملوں کے نتیجے میں اب تک 200 بچے شہید اور 806 زخمی ہو چکے ہیں۔ ادارے نے بچوں کی ابتر ہوتی ہوئی انسانی اور نفسیاتی صورتحال کے حوالے سے شدید خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
یونیسف نے ایک بیان میں کہا کہ لبنان میں بچے مسلسل تشدد، نقل مکانی اور صدمات کے نتیجے میں سب سے بھاری قیمت چکا رہے ہیں، حالانکہ گذشتہ 17 اپریل سے سیز فائر کے معاہدے کا اعلان ہو چکا ہے۔
ادارے نے وضاحت کی کہ صرف گذشتہ ہفتے کے دوران 59 بچے شہید اور زخمی ہوئے، جبکہ جنگ بندی کے آغاز سے اب تک شہید ہونے والے بچوں کی تعداد 23 ہو چکی ہے اور 93 زخمی ہوئے ہیں۔ یونیسف کے مطابق یہ اعداد و شمار بچوں کے خلاف جاری انسانی حقوق کی پامالیوں اور ان کو درپیش سنگین خطرات کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔
تنظیم نے مزید کہا کہ جارحیت کے آغاز سے اب تک اوسطاً روزانہ 14 بچے شہید یا زخمی ہو رہے ہیں۔ بیان میں اس کربناک پہلو کی نشاندہی کی گئی کہ بچے اس وقت لقمہ اجل بن رہے ہیں یا معذور ہو رہے ہیں جب انہیں اپنے سکولوں اور معمول کی زندگی کی طرف لوٹنا تھا۔
یونیسف نے جنگ کے سنگین نفسیاتی اثرات سے خبردار کرتے ہوئے تصدیق کی کہ لبنان میں تقریباً 7 لاکھ 70 ہزار بچے تشدد، پیاروں کی جدائی اور بے گھری کی وجہ سے شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ ان کے لیے ذہنی صحت اور سماجی مدد کی خدمات کا فقدان ہے۔
مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے یونیسف کے علاقائی ڈائریکٹر ایڈورڈ بیجبیدر نے کہا کہ زمینی حقائق سیز فائر کے اعلانات کے بالکل برعکس ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلسل حملے بچوں کو قتل کر رہے ہیں، ان کے دکھوں میں اضافہ کر رہے ہیں اور ایسے تباہ کن اثرات چھوڑ رہے ہیں جو زندگی بھر ان کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔
ادارے نے تمام فریقین سے بچوں کے تحفظ، بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری اور مستقل سیز فائر کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
لبنان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2 مارچ سے جاری قابض اسرائیل کی جارحیت کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر 2896 افراد شہید اور 8824 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 10 لاکھ سے زائد لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 17 اپریل کو قابض اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 10 روزہ قابل توسیع جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جسے بعد میں مزید تین ہفتوں کے لیے بڑھا دیا گیا تھا، تاہم قابض اسرائیل نے لبنانی علاقوں پر بار بار بمباری اور فضائی حملوں کے ذریعے اس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کی ہے۔
