Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

اسرائیلی جامعات پر یورپی بائیکاٹ کے اثرات، غیر معمولی تعلیمی تنہائی

(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کے تعلیمی ادارے عالمی سطح پر بائیکاٹ کی مہمات اور یورپی یونین کے تحقیقی و اختراعی پروگرام ’ہورائزن‘ سے قابض اسرائیل کو بے دخل کرنے کے بڑھتے ہوئے مطالبات کے باعث ایک ’تزویراتی خطرے‘ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بیرون ملک اسرائیلی یونیورسٹیوں اور لکچراروں کے بائیکاٹ کے واقعات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

قابض اسرائیل میں یونیورسٹیوں کے سربراہوں کی کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں اس ’تزویراتی خطرے‘ کے بڑھنے پر خبردار کیا گیا ہے، جہاں یورپی تعلیمی بائیکاٹ اب انفرادی محققین سے بڑھ کر خود تعلیمی اداروں اور اسرائیلی پیشہ ورانہ انجمنوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

اخبار یدیعوت احرونوت کی جانب سے آج جمعرات کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، جو اکتوبر سنہ 2025 سے اپریل سنہ 2026 تک کے عرصے پر محیط ہے، یورپی یونین کے ’ہورائزن‘ پروگرام سے قابض اسرائیل کو نکالنے کی کوششوں میں 150 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ پروگرام 95 ارب یورو سے زیادہ کے بجٹ کے ساتھ سائنسی تحقیق کا دنیا کا سب سے بڑا پروگرام سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے کہ سابقہ اسرائیلی اندازے، جن میں یہ فرض کیا گیا تھا کہ غزہ میں سیز فائر سے بائیکاٹ کی مہمات کم ہو جائیں گی، وہ رپورٹ کے مرتبین کے بقول ’پورے نہیں ہوئے‘۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ بائیکاٹ کی داعی تنظیموں نے علاقائی صورتحال بشمول ایران پر حملے اور لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے مطابق خود کو تیزی سے ڈھال لیا ہے۔

رپورٹ میں درج اعداد و شمار کے مطابق بائیکاٹ کے دستاویزی کیسز میں سے تقریباً نصف کا تعلق براہ راست تعلیمی تعاون کو منجمد یا معطل کرنے سے تھا، جبکہ تقریباً 30 فیصد کیسز تعلیمی لکچرز اور کانفرنسوں میں خلل ڈالنے کی کوششوں سے متعلق تھے۔ اس کے علاوہ تحقیقی گرانٹس کو نقصان پہنچانے کے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بائیکاٹ کرنے والی تنظیمیں سیاسی اور سکیورٹی کی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قابض اسرائیل کی تعلیمی تنہائی کو مزید گہرا کر رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق علاقائی کشیدگی کے ساتھ ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی پالیسیوں پر بڑھتی ہوئی یورپی تنقید نے بھی یورپی تعلیمی حلقوں میں قابض اسرائیل کی پوزیشن کو متاثر کیا ہے، کیونکہ اسے واشنگٹن کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ میں ان یورپی تنقیدوں کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے جو قابض اسرائیل کے داخلی اقدامات پر کی جا رہی ہیں، جن میں فلسطینی اسیران کو سزائے موت دینے کا مجوزہ قانون اور اسرائیلی حکام کے بیانات شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان چیزوں نے یورپی یونین کے اندر ان ’مشترکہ اقدار‘ پر سوالات اٹھا دیے ہیں جو ’ہورائزن‘ پروگراموں میں قابض اسرائیل کی شرکت جاری رکھنے کی بنیاد ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سنہ 2024 اور سنہ 2025 کے دوران بائیکاٹ مہمات کا محور انفرادی محققین تھے، تاہم حالیہ مہینوں میں یہ رجحان خود تعلیمی اداروں اور ان سے وابستہ پیشہ ورانہ انجمنوں کو نشانہ بنانے کی طرف منتقل ہو چکا ہے۔

مزید برآں بائیکاٹ سے متعلق شکایات کی تعداد میں جنگ کے پہلے سال کے مقابلے میں 66 فیصد اضافہ ہوا ہے، اور زیر جائزہ مدت کے دوران 1120 شکایات درج کی گئیں۔ درجہ بندی کے مطابق 41 فیصد کیسز تعلیمی تعاون کی معطلی، 29 فیصد تقریبات اور لکچرز میں خلل ڈالنے کی کوششوں اور 9 فیصد تحقیقی گرانٹس کو نقصان پہنچانے سے متعلق تھے۔

رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ بیلجیئم ان یورپی ممالک کی فہرست میں سرِفہرست ہے جہاں بائیکاٹ کے سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے، جس کے بعد ہالینڈ، برطانیہ، سپین اور اٹلی کا نمبر آتا ہے۔ اٹلی میں جنگ سے متعلق داخلی سیاسی بحث و تکرار کے باعث ان واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan