غزہ-(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن)صرف چند سال قبل تک غزہ کی پٹی کی گلیاں حج کے سیزن اور عید الاضحی کا استقبال ایک غیر معمولی چہل پہل کے ساتھ کرتی تھیں جس سے بازاروں اور عوامی محلوں میں زندگی دوڑ جاتی تھی۔ مویشی منڈیوں میں بیوپاریوں کی آوازیں گونجتی تھیں، بچے سجے ہوئے جانوروں کے گرد خوشی سے جھومتے تھے اور خاندان اپنے حجاج کو الوداع کہنے، ان کے استقبال کی تیاریاں کرنے یا قربانی کے جانور خریدنے میں مصروف ہوتے تھے۔ یہ وہ مناظر تھے جو طویل محاصرے کے برسوں میں بھی غزہ کے باسیوں کو خوشی کا ایک نادر موقع فراہم کرتے تھے۔
مگر آج، مسلسل تیسرے سال بھی، جنگ، نقل مکانی اور پیاروں کو کھو دینے کے غم سے چور غزہ کی پٹی ان تمام خوشیوں سے محروم ہے۔ حج اور قربانی کا موسم اب غم اور محرومی کے بوجھ تلے دبی ایک یاد بن کر رہ گیا ہے، کیونکہ ہزاروں خاندان حج کا فریضہ ادا کرنے یا قربانی کی سنت پوری کرنے سے قاصر ہیں، جو طویل عرصے تک باہمی ہمدردی، خوشی اور عبادت کی علامت رہی ہے۔
خوشی کی تکلیف دہ یادیں
دو شہیدوں کے والد “ابو علاء”، جن کا خاندان آج ہجرت زدہ لوگوں کے خیموں میں زندگی بسر کر رہا ہے، اپنے خیمے کے دروازے پر بیٹھے عید کی قربانی کے گرد جمع اپنے خاندان کی برسوں پرانی تصاویر دیکھ کر آہیں بھر رہے ہیں۔ وہ حسرت سے کہتے ہیں: “ہم عید الاضحی کے موسم کا بے صبری سے انتظار کرتے تھے، بچے ذبح سے کئی دن پہلے ہی جانور کے ساتھ خوشیاں مناتے تھے اور پورا خاندان اکٹھا ہوتا تھا۔ مگر آج نہ گھر بچا ہے، نہ قربانی میسر ہے اور نہ ہی ایک کلو گوشت خریدنے کی سکت باقی ہے”۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا: “عید کی تکبیریں ہر جگہ اور ہر گلی میں گونجتی تھیں، لیکن آج وہ پہلے جیسی نہیں رہیں، کیونکہ لوگوں کے دل خوف، بھوک اور اپنوں کی جدائی کے بوجھ سے پھٹ رہے ہیں”۔
غزہ شہر میں اپنا گھر کھو دینے والی ایک بے گھر خاتون “ام محمد” کہتی ہیں کہ ان کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو عید کی خوشیوں کی کوئی جھلک تک نہیں دکھا پا رہیں۔
انہوں نے مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا چھوٹا بیٹا مسلسل سوال کرتا ہے کہ ہم نے پچھلے برسوں کی طرح قربانی کا جانور کیوں نہیں خریدا۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر مویشی اور بچھڑے دستیاب بھی ہوں تو وہ انہیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتیں، اور ویسے بھی ان دنوں جانور دستیاب ہی نہیں ہیں۔
معاشی تنگی اور محاصرے کے باوجود، جنگ سے پہلے غزہ کے باسی قربانی کی سنت کو آسانی سے نہیں چھوڑتے تھے۔ خاندان اسے عید کا لازمی حصہ سمجھتے تھے اور بہت سے گھرانے پورا سال پیسے جمع کرتے تھے تاکہ قربانی کا جانور خرید سکیں۔
غزہ میں وزارت زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق، سنہ 2023ء کے عید الاضحی کے موسم میں غزہ کی پٹی میں تقریباً 17 ہزار بچھڑے اور 24 ہزار بھیڑ بکریاں ذبح کی گئی تھیں، جبکہ قربانی کرنے والے خاندانوں کی تعداد تقریباً 1 لاکھ 30 ہزار تھی، جو کہ غزہ کی پٹی کی آبادی کا تقریباً 28 فیصد بنتا ہے۔
عام طور پر فلاحی ادارے اور مقامی و بین الاقوامی تنظیمیں غریب خاندانوں میں قربانی کا گوشت تقسیم کرنے کے وسیع منصوبے نافذ کرتی تھیں، جہاں ہزاروں خاندان معاشی مشکلات کے باعث گوشت کے ان حصوں کا انتظار کرتے تھے۔ مویشی منڈیوں میں چہل پہل عید سے کئی ہفتے پہلے ہی شروع ہو جاتی تھی اور قیمتوں میں اضافے کے باوجود خریداروں کا ہجوم رہتا تھا۔ غزہ میں ہر سال قربانی کے سیزن میں دسیوں ہزار بھیڑ بکریاں اور بچھڑے استعمال ہوتے تھے اور لوگ اس شعیرہ کو زندہ کرنے کے لیے بھرپور ذوق و شوق دکھاتے تھے۔
جنگ نے سب کچھ بدل دیا
غزہ کی پٹی کے وسیع رقبے کی تباہی، بمباری، چارے کی کمی اور طبی نگہداشت نہ ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں مویشیوں کے مر جانے اور شدید معاشی بدحالی کے باعث اب قربانی زیادہ تر آبادی کے لیے ایک ادھورا خواب بن چکی ہے۔
یہ بحران اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب قابض اسرائیل نے گزرگاہوں کے ذریعے غزہ کی پٹی میں زندہ مویشیوں اور قربانی کے جانوروں کے داخلے پر مسلسل پابندی عائد کر دی، جس کے نتیجے میں غزہ کے اندر بھیڑ بکریوں اور بچھڑوں کا نام و نشان مٹ گیا اور ان کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
مویشیوں کے بیوپاری اور فارم مالکان اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ زندہ جانوروں اور چارے کے داخلے پر عائد پابندیوں نے عید الاضحی کے قریب انسانی بحران کو مزید بڑھا دیا ہے اور پوری غزہ کی پٹی کو اس سنت کی ادائیگی سے محروم کر دیا ہے، خواہ کسی کے پاس مالی سکت ہی کیوں نہ ہو۔
وسطی غزہ میں مویشی پالنے والے “ابو علی” کہتے ہیں کہ جنگ سے پہلے بازار خریداروں اور تجارتی سرگرمیوں سے بھرے ہوتے تھے، لیکن آج باڑے مکمل طور پر خالی پڑے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیل نے طویل عرصے سے مویشیوں کے داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے اور بہت سے فارم مالکان بمباری اور بھوک کی وجہ سے اپنے جانور کھو چکے ہیں۔
سماجی ماہرین کا خیال ہے کہ غزہ کے باسیوں کو مسلسل تیسرے برس مذہبی شعائر اور سماجی تقریبات سے محروم رکھنا جنگ کے نفسیاتی اثرات کو دوچند کر دیتا ہے، خاص طور پر ان بچوں کے لیے جن کی نشوونما ہی نقل مکانی، بمباری اور محرومی کے مناظر میں ہوئی ہے۔
جب دنیا بھر کے لاکھوں مسلمان حج اور عید الاضحی کے موسم کا استقبال خوشی اور سکون کے ماحول میں کر رہے ہیں، غزہ کے باسی اس منظر سے دور ایک دوہری حسرت لیے کھڑے ہیں؛ ایک حسرت ان شعائر پر جو چھن گئے، اور دوسری بڑی حسرت اس زندگی پر جو فقر اور محاصرے کے باوجود چند دنوں کے لیے ہی سہی، خوشیاں تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔
